ذیشان خان

Administrator
بینک سے لون لینا کیسا ہے؟

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
موجودہ سماج میں لوگ بڑے دھڑلے سے سود کھاتے ہیں، سود پر قرض دیتے اور لیتے ہیں، پہلے یہ کام شخصی طور پر ہوتا تھا لیکن بینکوں کے وجود میں آنے کے بعد بینکوں سے سود پر لون بآسانی مل جاتا ہے، اور گورمنٹ خود بینکوں کو سود کے فروغ کے لیے مدد کرتی ہے، لوگ بڑے شوق سے گھر کی تعمیر کے لیے، بزنس اور کاروبار میں ترقی کے لیے، دوا علاج کے لیے، شادی بیاہ اور گاڑی گھوڑا خریدنے کے لیے موٹی رقم بینکوں سے سود کی شرط پر لون لیتے ہیں، لیکن یہ سراسر حرام اور ناجائز ہے، سود کھانا کھلانا، لینا، دینا، لکھنا پڑھنا، سود کے متعلق کسی بھی طرح مدد کرنا یا سود کا حصہ بننا ناجائز اور لعنتی عمل ہے، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت ہے، عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ"(صحیح مسلم:4177) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کھانے، کھلانے، لکھنے اور دونوں گواہوں پر لعنت بھیجی ہے اور یہ کہا کہ سب گناہ میں برابر ہیں-
قارئین کرام! اسلامی شریعت میں سود کھانا یا سودی لین دین کرنا بہت بڑا گناہ ہے، سود زنا سے بھی سنگین گناہ ہے، پیارے نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا سود کا ایک درہم جسے انسان جانتے بوجھتے ہوئے کھاتا ہے، وہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہے (صحیح الترغيب والترهيب:للألباني:1855/صحیح)
اسی طرح ایک حدیث میں آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا سود کے تہتر دروازے ہیں، ان میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے جیسے کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کرے (صحيح الجامع الصغير:للألباني:3539/صحیح)
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس قوم میں زنا اور سود عام ہوجائے تو وہاں کے باشندوں نے اپنے لیے اللہ کے عذاب کو حلال کر لیا ہے (صحیح ابن حبان:4410/صحيح)
ان روایات سے صاف معلوم ہوا کہ سودی لین دین کرنا سنگین جرم ہے، اس لیے سود کھانے اور لینے دینے سے بچنا چاہیے، اپنے اخراجات کو محدود رکھنا چاہیے، قناعت پسند بننا چاہیے، صبر کرنا چاہیے، اسراف سے دور رہنا چاہیے، غریبی اور بیماری ہو تو بھیک مانگ لینا چاہیے، امداد لے لینا چاہیے یہ غریب کے لیے جائز ہے مگر سود نہیں کھانا چاہیے، لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ اکثر غریب بےچارہ صبر کرتا ہے سود نہیں کھاتا ہے، مگر مالدار سود پہ سود کھاتے رہتا ہے، بینک سے سود پہ سود لیتے رہتا ہے اور بڑی شان سے زندگی گزارتا ہے، تف ہے تیری مالداری پر-
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم حلال کھائیں، حرام مال سے بچیں، سود سے بچیں، فضول خرچی سے بچیں، سادگی اور قناعت والی زندگی گزاریں اور آخرت کی فکر کریں، اللہ ہم سب کو حلال کھانے کی توفیق دے اور حرام مال سے بچائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top