ذیشان خان

Administrator
سیرت ابراہیمی کے درخشاں پہلو

🖊۔۔۔۔ظفرنعمان مکی

اللہ رب العزت و الجلال نے اس دنیائے فانی میں بنی نوع انسان کو برپا کیا اور انھیں اپنی عبادت کا حکم دیا اور اس عبادت و بندگی کا صحیح انداز سکھلانے کے لۓ انبیاء علیھم السلام کا سلسلہ شروع کیا بلکہ اللہ وحدہ لاشریک کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا کہ اسوقت تک ہم کسی بھی قوم کو ھلاک نہیں کرنے والے جب تک کہ رسولوں کو بھیج کر ان پر حجت قائم نہ کردیں( وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا)
يوں تو بے شمار انبیاء مبعوث کۓ گۓ جن کی صحیح تعداد کا علم صرف اللہ رب العزت کو ہے لیکن کچھ انبیاء کا تذکرہ بکثرت قرآن و سنت میں واردہوا ہے اور اجمال و تفصیل کے ساتھ ان کی زندگی کے واقعات، ذات باری پر ان کے توکل و اعتماد کی داستان، توحید کی دعوت کے لۓ بلا خوف و خطر ان کا میدان میں اتر کر باطل طاقتوں سے نبرد آزما ہونے کا تذکرہ بہت ہی شرح و بسط کے ساتھ کیا گیا ہے۰
انھیں میں سے سیدنا ابراھیم علیہ السلام بھی ہیں جن کے زندگی کی اہمیت کے پیش نظر قرآن کے پچیس سورتوں اور تریسٹھ آیات میں اس عظیم ہستی کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ایمان و عمل صبر و رضا، ایثار و قربانی ابتلا و آزمائش کی ایسی مثال ہے جسے دوہرانے سے تاریخ عاجز نظر آتی ہے۰
کفر و بت پرستی کے گہوارہ میں ایک ایسا بندہ پیدا ہوتا ہے جس کے تقدیر میں یہ لکھا جا چکا تھا کہ اسی کے ہاتھوں شرک و بت پرستی کا قلع قمع ہوگا بلکہ یہی کفر و بت پرستی کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دے گا
چنانچہ وہ ایک ایسے باپ کے ساۓ تلے آنکھیں کھولتے ہیں جو بتوں کی عبادت ہی نہیں بلکہ بتوں کو بنانے والابھی خود ہی ہوتا ہے جسے قرآن نے آزر کے نام سے یاد کیا ہے لیکن اس نیک سیرت بچے سے تو رب ذو الجلال کو کچھ اور ہی کام لینا تھا بتوں کے اس پجاری کے بچہ سے سر زمین مقدس میں بیت اللہ کی تعمیر کرا کر مشرق و مغرب شمال و جنوب ہر چہار جانب توحید کی صدا عام کرنا تھا اسی لۓ بچپن سے ہی ان کے دل میں بت پرستی سے نفرت پیدا کر دی گئ نیز ان کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم کرنے کے لۓ تیار ہی نہیں ہوا کہ کیسے خود ساختہ بتوں کو معبود تسلیم کر لیا جاۓ
چنانچہ قوم کے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں کہ یہ کیا دن و رات بتوں کے دروں پر معتکف رہتے ہو قوم کے افراد جواب دیتے ہیں کہ یہ تو ہماری خاندانی ریت ہے، ہم نے اپنے پاپ داداؤں کو ان بتوں کی عبادت کرتے ہوۓ پایا ہے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کہتے ہیں تب تو تم اور تمھارے باپ دادا سب کھلم کھلا گمراہی میں ہیں ، میرا رب تو وہ ہے جو سارے جہاں کا پالنہار ہے جس نے مجھے پیدا کیا جو مجھے کھلا پلا رہا ہے اور ہاں جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا بھی دیتا ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایمانی قوت کا اندازہ کیجئے کہ جس قوم کے رگ و ریشے میں بت پرستی سرایت کر چکی تھی سر عام ان کے باطل عقائد و نظریات کی دھجی اڑاتے ہو ۓ مخاطب ہوتے ہیں کہ رب تو وہ ہے جو موت و حیات رزق و شفا سب کا مالک ہے نہ کہ یہ گونگی بہری خود ساختہ مورتیاں جو خود کے نفع و نقصان سے بھی عاجز ہیں
قوم کو خصوصی نصیحت کرنے کے بعد اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوتے جو کہ توحید کے بڑے دشمنوں میں سے ایک تھا اور نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ گویا ہوتے ہیں کہ اے ابا جان! اندھے بہرے بتوں کی پرستش کیوں کرتے ہو ، اے ابا جان! مجھے میرے رب کی جانب سے علم سے نوازا گیا ہے آپ میرا کہا مانیں میں آپ کو راہ راست پر لگا دونگا، اے ابا جان! آپ کے کرتوتوں کی وجہ سے مجھے خوف ہے کہ اللہ کا عذاب آپ کو اپنے گرفت میں نہ لے لے۰۰۰
قارئین کرام ذرا غور کیجئے کہ ایک اطاعت شعار اور فرمانبردار بیٹا اپنے اس باپ کو نصیحت کرتے وقت جو کہ توحید الہی کا منکر تھا ادب و احترام کا دامن اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑتے بلکہ ابا جان ابا جان کے با ادب جملے سے مخاطب ہوتے ہیں لیکن جس باپ کا دل کفر و شرک کی وجہ سے سخت ہو چکا تھا اسے نہ تو توحید کی دعوت راس آتی ہے اور نہ ہی بیٹے کی محبت سے شفقت پدری جوش مارتی ہے بلکہ معاملہ بادشاہ وقت تک پہونچتا ہے اور یہ التجا کی جاتی ہے کہ اس نے ہمارے معبودوں کا مزاق اڑایا ہے اسے سخت سے سخت سزا دی جاۓ چنانچہ فرمان صادر ہوتا ہے کہ اسے ایسی آگ کے حوالے کیا جاۓ جس آگ کو ہفتہ مہینہ تک سلگایا جاۓ تاکہ ابراہیم کے بچنے کا کوئی امکان نہ ہو
لیکن قربان جائیے ابو الانبیاء ابراہیم کے جذبہ توکل پر کہ ان سارے مصائب و مشکلات اور دشمنی سے بھی ان کے پایہ ثبات میں ذرا سی بھی لغزش نہیں آتی بلکہ (حسبنا الله و نعم الوكيل) كی صداۓ دل نواز بلند کرتے ہو ۓ آگ میں کود جاتے ہیں جہاں اللہ کا وعدہ صادق آتا ہے کہ وہ اپنے ان نیکوکار بندوں کو جو صرف اس پر اعتماد کرتے ہیں کبھی ضائع نہیں کرتا چنانچہ مولی کریم آگ کو حکم دیتا ہے کہ تو میرے خلیل کے لۓ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا اور ابراہیم علیہ السلام صحیح سالم آگ کے لپٹوں سے باہر نکل جاتے ہیں۔

آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گُلستاں پیدا

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ابتلاء و آزمائش کی ایک کھلی ہوئی کتاب ہے،دشمنان توحید نے آپ کو آگ کے حوالہ کردیا اس امید میں کہ اس آگ کے بجھنے کے ساتھ ہی توحید کا چراغ بھی ہمیشہ کے لۓ گل ہو جاۓ گا لیکن جس کا حامی و ناصر سارے جہاں کا پالنہار ہو اس کا کوئی بال بانکا کیسے کر سکتا ہے؟
سارے دشمنان توحید کے ہاتھوں خسارے کے علاوہ کچھ نہ آیا (و أرادو به كيدا فجلعنهم الأخسرين) اور حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے صحیح سالم نکل گۓ لیکن اب سیدنا ابراہیم سمجھ چکے تھے کہ میری قوم مجھ پر ایمان لانے والی نہیں ہے اس لۓ اب اس سر زمین کو خیرآباد کہ دینے کا وقت آگیا ہے چنانچہ اللہ کی جانب سے ہجرت کا حکم آجاتا ہے اور آپ اپنے عقیدہ و دین کی حفاظت کی خاطر بیوی سارہ اور بھتیجے لوط کو لیکر نکل پڑتے ہیں اور قیامت تک کے لۓ اہل توحید کو یہ سبق دے جاتے ہیں کہ عقیدہ کی حفاظت و سلامتی ساری چیزوں پر مقدم ہے اگراس کے لۓ وطن ماں باپ اعزہ و اقرباء سب چھوڑنا پڑ جاۓ تب بھی ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہئیے
چنانچہ شام سے ہوتے ہوۓ سرزمیں بیت المقدس پہونچتے ہیں لیکن استقرار نصیب نہیں ہوتا مگر جہاں بھی کفر و بت پرستی نظر آتی ہے وہاں بغیر کسی شش و پنج لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے ہیں جبکہ وہ صرف اور صرف تین افراد ہوتے ہیں۰
یہاں تک کہ قافلہ توحید مصر پہونچتا ہے
یہاں ایک نئی آزمائش حضرت ابراہیم کے انتظار میں ہوتی ہے وہاں کے بادشاہ کے کانوں تک جب یہ خبر پہونچتی ہے کہ ابراہیم کے ساتھ ان کی بیگم سارہ بھی ہیں وہ ان لوگوں کو طلب کرتا ہے اور حضرت سارہ کے ساتھ دست درازی کی کوشش کرتا ہے لیکن یہاں بھی اللہ کی مدد ظاہر ہوتی ہے اور جب جب وہ اپنے ناپاک ارادوں سے سارہ کی طرف بڑھتا ہے اس کے ہاتھ میں ایک کپکپکی سی طاری ہونے لگتی ہے کئ بار کی کوششوں سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہاں معاملہ کچھ اور ہے اس بندے کو تائید ربانی حاصل ہے پشیماں ہو کر سارہ اور ابراہیم علیھم السلام کو چھوڑ دیتا ہے بلکہ ھاجر علیھا السلام کی شکل میں ایک خدمت گار بھی بطور ہدیہ دیتا ہے
اس کے بعد نرینہ اولاد کی چاہت میں ابراہیم علیہ السلام ہاجر سے نکاح کر لیتے ہیں اور اللہ رب العزت اپنے نبی کی دعا کو قبول کرتے ہوۓ اسماعیل کی شکل میں ایک لخت جگر نور نظر اور بڑھاپے کا سہارا دے دیتا ہے
پھر بحکم ربانی سیدنا ابراہیم اسماعیل اور ام اسماعیل کو لیکر ایسی سر زمین کا قصد کر کے چل پڑتے ہیں جو کہ بے آب و گیا ہوتی ہے جہاں ضروریات زندگی کے نام پر کچھ نہیں پایا جاتا جسے قرآن نے مکہ اور بکہ کے لفظ سے یاد کیا اور ایسی جگہ بیوی اور بچے کو چھوڑ کر آنے لگتے ہیں بیوی سمجھ جاتی ہے کہ یہ فیصلہ الہی ہے اور اس پر راضی ہونے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے ۰
ماں بیٹے کو اللہ کے سہارے چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے رب میں نے بلد حرام میں ان کو آباد کر دیا ہے پس تو لوگوں کے دلوں میں اس جگہ کی محبت ڈال دے اور اس کے مکین کو شاد باد رکھ۰۰
پھر جب ام اسماعیل کا کھانا پانی ختم ہوجاتا ہے تو وہ حیران و پریشان پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان چکر لگانے لگتی ہیں بالآخر زمزم کا وہ مبارک پانی ظاہر ہوتا ہے جس میں بھوکوں کے لۓ غذا پیاسوں کے لۓ سیرابی حتی کہ بیماروں کے لۓ شفایابی بھی ہے
اس کے بعد مکہ کی یہ سر زمین آباد ہونے لگتی ہے اور اسماعیل علیہ السلام بھی سن رشد کو پہونچ جاتے ہیں جن کی تربیت میں ماں ھاجر علیہا السلام نےکوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۰۰
ابراہیم علیہ السلام گاہے بگاہے بیوی بچے کی خبر گیری کے لۓ مکہ تشریف لے آتے ہیں اسی درمیان ایک مرتبہ اپنی آمد کا مقصد بتاتے ہوۓ اپنے بیٹے اسماعیل سے کہنے لگتے ہیں کہ اے بیٹے میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ میں تمھیں ذبح کر رہا ہوں چونکہ نبیوں کا خواب برحق ہوا کرتا ہے اس لۓ اسماعیل علیہ السلام بھی سمجھ گۓ کہ یہ رب کی طرف سے حکم ہے اور بلا کسی تردد والد کو جواب دیتے ہیں کہ اے ابا جان اپنے رب کے حکم کی تعمیل کیجئے ان شاء اللہ مجھے بھی اس حکم پر صابر پائنگے۰۰۰
لیکن رب ذوالجلال کا مقصد ان کی نیتوں کا خلوص دیکھنا ہوتا ہے نہ کہ اسماعیل کو قربان کرنا چنانچہ اسماعیل کی جگہ ایک دنبہ کی قربانی دی جاتی ہے۰
قربان جائیے اس عظیم باپ اور اس کے عظیم بیٹے پر ایک بوڑھا باپ اپنے بڑھاپے کے سہارےلخت جگر کو اپنے رب کے لۓ ذبح کرنے کو تیار ہے اور فرمانبردار بیٹا بھی اس حکم الہی کے آگے سر تسلیم خم کۓ کھڑا ہے کہ یہ ہم سب کے رب کا حکم ہے ۰۰۰
باپ بیٹے کا یہ واقعہ ایثار و قربانی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر ملنا ناممکن ہے۰۰
اللہ کو ان دونوں کا یہ عمل اس قدر پسند آتا ہے کہ تا قیامت صاحب حیثیت فرد کو یہ تاکید کی جاتی ہے کہ عید الاضحی کے پر مسرت موقع پر جانوروں کو ذبح کر کے اس سنت ابراہیمی کو زندہ رکھا جاۓ
لیکن اس قربانی کی روح اخلاص ہے اس لۓ خدارا ریا و نمود سے اپنی عبادتوں کو برباد نہ کریں۰۰
اللہ ہمیں خلوص و للہیت کے ساتھ سنت ابراہیمی کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
و صلی اللہ علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
 
Top