ذیشان خان

Administrator
دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف

📖 صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

قارئین کرام!
رب نے ہمیں پھر سنہرا موقع عطا کیا ہے، تاکہ اس میں عمل کرکے رب کی رحمت کے قریب ہوجائیں، اللہ عز و جل کی عبادت کرکے، اس سے مغفرت طلب کرکے، گناہوں سے توبہ کرکے، اس کی جنت کو پالیں۔
دیکھو! یہ مبارک ایام( ذی الحجہ کے شروع کے دس دن) اس سال ہمیں میسر ہیں، ہوسکتا ہے ہمارے اس دنیاوی زندگی کے یہ ایام اور ماہ و سال آخری ہوں، تو دوبارہ نصیب نہ ہوں، اور رب کی بارگاہ میں ہم اس حال میں پہونچیں کہ عمل صالح کے لحاظ سے خسارے اور نقصان میں ہوں، اور افسوس کریں کہ کاش ان قیمتی ایام کو ضائع نہ کیا ہوتا، مگر اس دن کف افسوس ملنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا ۔
میرے اسلامی بھائیو! میرے عزیزو!
ان ایام کو غنیمت جانو! ایسے مبارک ایام یونہیں مت گنوا دو کہ، کچھ پتا ہی نہ چلے کہ کب آئے اور کب چلے گئے، اور تم غفلت کی چادر اوڑھے پڑے ہی رہ جاو۔

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا)
ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ آجائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہتا ہو تو اپنے بال اور چمڑے میں سے کچھ بھی نہ کاٹے۔ ۔)صحیح ابن ماجہ، حدیث:3149 )
معلوم ہوا کہ بال، ناخن، چمڑے وغیرہ کا نہ کاٹنا اس شخص کیلئے مسنون ہے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
٢- دوسری بات اگر کسی کا ارادہ قربانی کا نہیں تھا اور اس نے بال وغیرہ کاٹ لیا ہے، پھر اس کو قربانی میسر ہوگئی،اور اس کا ارادہ بن گیا، تو ایسا شخص اب قربانی تک بال وغیرہ کاٹنے سے رگ جائے ۔

اللہ کے بندو!
یہ وہ مبارک دس دن ہیں جن کی رب ذوالجلال نے قسم کھائی ہے، وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ (2) قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔
دس راتوں سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں۔

آو! آو! ان مبارک ایام میں عبادت کرکے مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ اجر کے مستحق بن جاو۔

عَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْء.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں اللہ کے رسول نے فرمایا: «عشرۂ ذوالحجہ میں کئے گئے عمل صالح ﷲ کو جس قدر محبوب ہیں، اتنا کسی اور دن میں نہیں، صحابہ نے دریافت کیا: حتی کہ جہاد فی سبیل اﷲ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، آپنے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنا جان ومال لے کر نکلا لیکن کچھ بھی لے کر واپس نہیں ہوا ( صحیح بخاری 926)

اور نبیء محترم ﷺ نے ہمارے لئے رب کی طرف سے مژدہ سنایا ہے۔

اور عَنْ جابر قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أفضل أيام الدنيا أيام العشر ۔
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول نے ۔فرمایا: «دنیا کے ایام میں افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔( صحیح الجامع الصغیر/حدیث: ۱۱۳۳)

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ, وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِم الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ۔
عرفہ کے دن سے زیادہ ﷲ تعالیٰ کسی اور دن جہنم سے آزادی نہیں عطا فرماتا، ﷲ تعالیٰ قریب ہوتا ہے، پھر ان(عرفہ میں ٹھہرے ہوئے لوگوں) کے ذریعہ اپنے فرشتوں سے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ( مسلم۔ حدیث 1348)
یعنی کیا چاہتے ہیں جو مانگ ہو پوری کی جائے گی۔
میرے بھائیو! اسی میں عرفہ کا یعنی نو ذالحجہ کا وہ صوم ہے جس کے بارے میں رب فرمایا۔

صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی ﷲِ أَن يُّکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَہُ ۔
صوم عرفہ سے متعلق مجھے ﷲ تعالی سے امید ہے کہ سال گذشتہ اور آئندہ کا کفارہ ہوجائے گا ۔( مسلم ۔حدیث : 1162)
اور آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ, وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ».
عرفہ کے دن کی دعا، تمام دعاؤں سے بہتر ہے، اور سب سے افضل کلمہ جو میں نے، اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء نے کہا ہے وہ یہ ہے: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ, وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ. (ﷲ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، ملک اسی کا ہے، تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) ۔ (سلسلہ صحیحہ حدیث:1503)

دسواں دن
یوم النحر( قربانی) کا ہے
جس کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ .
بے شک اللہ تعالی کے یہاں تمام دنوں سے عظیم ترین دن یوم النحر (قربانی کادن) ہے، پھر اس کے بعد والا دن۔
ؐ( صحیح ابوداود، حدیث:1549)
اللہ بندو!
یہ وہ مبارک ایام ہیں،جن میں اللہ نے تمام عبادات کو شامل کر دیا ہے،
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان مبارک ایام میں عبادت، تلاوت قرآن، تسبیح و تھلیل، فجر کے بعد سے سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنے، چاشت کی صلاة ادا کرنے، دعا توبہ و استغفار صدقہ و خیرات، اور صلہ رحمی کی توفیق بخشے، اور اپنی خوشنودی حاصل کرنے کے تمام مواقع فراہم کرے، اور ہمیں اپنے کامیاب بندوں میں سے بنائے ۔ آمین
 
Top