ذیشان خان

Administrator
میرا رب بہت مہربان ہے۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ہمارا رب رحمن ورحیم بھی ہے اور ستیر بھی ہے، دیکھیے ہم دن ورات کتنا گناہ کرتے ہیں مگر ہمارا رب ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے، جلدی عذاب نہیں دیتا ہے، ہم کو وافر مقدار میں روزی دیتا ہے، دنیا میں عزت بھی دیتا ہے، ہمارے گناہوں کو کوئی نہیں جانتا ہے، اسی لیے سب کی عزتیں محفوظ ہیں، ورنہ اگر ہمارے گناہوں اور معصیتوں کو انسانوں میں سے کوئی جان لے تو وہ ہم سے نفرت کرے گا اور حقیر سمجھے گا گرچہ وہ بھی گنہ گار ہی کیوں نہ ہو، مگر میرا رب ہے (جو نہایت رحم وکرم والا ہے) وہ ہمارے گناہوں کے باوجود بھی ہمیں عزت دیتا ہے، دولت دیتا ہے، معاف کرتا ہے، روزی دیتا ہے، تندرستی دیتا ہے، ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے، یہ اس کی رحمت کا حصّہ ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَل حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ، يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ" (سنن نسائی: 406/ صحيح) بیشک اللہ تعالٰی حلیم (بردبار) ہے، شرم وحیا والا ہے، (گناہوں پر) پردہ ڈالنے والا ہے، وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے-
دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا" (سنن ابن ماجہ:3855/صحيح) بیشک تمہارا رب بہت شرم وحیا اور جود وکرم والا ہے وہ اپنے بندے سے شرماتا ہے کہ وہ اپنے بندے کے ہاتھ کو خالی واپس کر دے جب کوئی ہاتھ اٹھا کر اس سے دعا کرتا ہے-
میرے بھائیو! ہم سب کے سب خطاکار اور گنہ گار ہیں، کیا عوام کیا خواص سب سے چھوٹے بڑے گناہ ہو جاتے ہیں، یہاں کوئی دودھ کا دھلا نہیں ہے، انبیاء کے سوا کوئی معصوم نہیں ہے، اس لیے رحمت الہی کی بارش میں نہانا چاہیے، اور گناہوں کی آلودگی سے اپنے آپ کو پاک کرنا چاہیے، یہی پیغام پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دیا ہے، "كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ"(سنن ترمذی:2497/ حسن) ہر انسان خطاکار ہے مگر بہترین خطاکار وہ لوگ ہیں جو خوب خوب توبہ کرنے والے ہیں-
قارئین کرام! اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اس کی رحمت اس کے غضب وناراضگی پر غالب ہے، وہ اپنی رحمت پر آئے تو سو قاتل کو بھی معاف کر دے، زندگی بھر شراب پینے والے کو بھی بخش دے، پیاسے کتے کو پانی پلانے والی بدکار خاتون کو بھی جنت میں داخل کر دے، اس لیے کبھی بھی ایک مسلمان کو اللہ سے ناامید نہیں ہو جانا چاہیے، چاہے گناہ کتنے بڑے بڑے اور خطرناک قسم کے ہی کیوں نہ ہوں، ہر حال میں اللہ کی رحمت کا طلب گار ہونا چاہیے، جیسا کہ خود اللہ تعالٰی کہتا ہے: "قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللّهِ"(الزمر:53) اے نبی آپ کہہ دیجیے اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے کبھی تم اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا-
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رہے کہ اللہ کے رحمن ورحیم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ کھل کر گناہ کیا جائے اور یہ تصور کیا جائے کہ اللہ کریم ہے اللہ رحیم ہے، یہ شیطانی دھوکہ ہے جہاں اللہ رحمن ہے وہیں قہار بھی ہے شدید العقاب بھی ہے، ہمیں اللہ سے ڈرنا بھی ہے، گناہ سے بچنا بھی ہے اور اس کی رحمت کی امید بھی رکھنی ہے یہی ایمان کا مفہوم ہے، اللہ ہم سب کو معاف کرے ہر قسم کے عذاب سے بچائے اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top