ذیشان خان

Administrator
عورت اور دَورِ جاہلیت

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
پوری تاریخ انسانی کے اندر انسانی طبقوں میں سب سے بڑا ظلم اگر کسی پر ہوا ہے تو وہ خواتین کا طبقہ ہے، دَور جاہلیت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عورتوں پر بہت مظالم ڈھائے جاتے تھے، حتی کہ لوگ عورتوں کو جانور سے بھی گیا گزرا سمجھتے تھے، جس کی ایک جھلک ہم خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول سے لگا سکتے ہیں وہ یہ کہتے تھے: "كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّــةِ، لَا نَعُدُّ النِّسَاءَ شَيْئََا" کہ ہم زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو کچھ بھی نہیں گنتے تھے-
قارئین کرام! دشمنان اسلام ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو حقوق سے محروم کر دیا ہے، عورتوں پر ظلم ڈھایا ہے، آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اسلام سے قبل عورتوں کی کیا حالت تھی اور اسلام نے عورتوں کو کیا مقام دیا-
*عورت دورِ جاہلیت میں*
1) حق مہر سے محرومی-
2) حق وراثت سے محرومی-
3) باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرنا-
4) نکاح کا بدترین سسٹم، جیسے ایک عورت سے کئی لوگ ہمبستری کرتے پھر اس سے جب بچہ پیدا ہوتا تو ان مردوں میں عورت جس کو چاہتی منتخب کر لیتی-
5) شوہر کی وفات پر عدت ایک سال گزارنا وہ بھی جانوروں سے بھی بدترین حالت میں-
6) بےپردگی، عریانیت اور بےحیائی پر مجبور کرنا اور جسم فروشی کی کمائی کھانا-
7) حائضہ عورت سے نفرت-
8) چار سے زائد کئی خواتین سے شادی کرنا-
9) عورت کو منحوس گرداننا-
10) بچیوں کو زندہ زمین میں گاڑ دینا-
11) بیویوں کو معلق چھوڑ دینا-
12) عورتوں کو جانوروں کی طرح مارنا-
13) عورتوں کو ہر حقوق ومعاملات سے مکمل برطرف کرنا-
14) ابو کی بیوی (سوتیلی ماں) کو وراثت میں مال کی طرح تقسیم کرنا-
15) نکاح کے بعد حق خلع سے محرومی-
16) طلاق کی عدت کا غیر منظم سسٹم، آدمی جب چاہے عورت کو طلاق دے اور جب چاہے اس سے رجوع کرلے-
17) عورت کی عزت وعفت اور ناموس کا غیر محفوظ ہونا-
18) عورتوں سے کرایہ پر نوحہ کرانا-
19) عورتوں کو گواہی اور مشورہ کا اہل نہ سمجھنا-
20) بیویوں کو نان ونفقہ نہ دینا یعنی حق زوجیت سے محروم رکھنا اور اہل وعیال پر خرچ نہ کرنا-
مگر اسلام نے ان تمام مظالم سے عورتوں کو بالکل پاک وصاف رکھا ہے انہیں گھر کی ملکہ اور رانی بنایا ہے، عورت جس بھی حالت میں ہو اسلام نے اسے محترم اور باعزت بنایا ہے، اور اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، عورت اگر بیوی، ماں، بہن، بیٹی، خالہ کی شکل میں ہو تو ان پر مزید احسان کرنے کا خصوصی حکم دیا ہے، عورت کی خوش قسمتی کا کیا کہنا کہ اللہ نے اپنے قرآن مجید میں جگہ جگہ عورتوں کے حقوق اور مسائل کا خاص ذکر فرمایا ہے اور مکمل عورتوں کے نام پر ایک مستقل سورت نازل کی ہے جسے سورۃ النساء کہتے ہیں مگر اللہ نے مردوں کے نام پر سورۃ الرجال نازل نہیں کی ہے-
لہٰذا ہماری خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے مقام کو پہنچانیں اور اسلام کی بیش نعمت پر رب کا شکر ادا کریں، اور ہر جاہلی خرافات سے بچیں، اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، نیک کام کریں، بچوں کی صحیح تربیت کریں، بچوں کو دیندار بنائیں، شوہروں کی خدمت کریں، گھروں کو پرسکون بنائیں، اپنی ذات سے کسی کو اذیت اور تکلیف نہ پہنچائیں، بےپردگی، عریانیت، بےحیائی اور نافرمانی سے بچیں، اللہ ہماری خواتین کو ہدایت دے اور انہیں اسلامی تعلیمات پر کاربند ہونے کی توفیق دے اور ہم سب کو دین کی باتوں کو سیکھنے سکھانے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top