ذیشان خان

Administrator
کیا رفع الیدین والی حدیثیں منسوخ ہو چکی ہیں؟

✍⁩ ڈاکٹر امان اللہ محمد اسماعیل مدنی
رفع الیدین والی روایتیں صحیح بخاری صحیح مسلم اور تمام معتبر کتب حدیث میں کثرت کے ساتھ مروی ہیں۔
رفع الیدین سے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ کی ایک جامع تصنیف ہے جو اہل علم کے درمیان (جزء رفع الیدین فی الصلاة) کے نام سے مشہور ہے، جس میں رفع الیدین وعدم رفع الیدین سے متعلق مفصل بحث کی گئی ہے۔
رفع الیدین والی روایتوں کو منسوخ کہنے والوں نے عوام الناس کے درمیان ایک منگڑھت بات مشہور کرنے کی کوشش کی کہ شروع اسلام میں لوگ اپنے بغلوں میں بت دبائے رہتے تھے جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین کا حکم دیا، تاکہ بغلوں میں دبائے ہوئے بت گر جائے۔
جب یہ منگڑھت نسخہ کارگر ثابت نہیں ہوا تو کچھ لوگوں نے رفع الیدین والی روایتوں کو منسوخ ثابت کرنے کیلیے ایک صحیح اور ثابت حدیث سے استدلال کیا، جس سے بظاہر تو لگتا ہے کہ رفع الیدین والی روایتیں منسوخ ہو چکی ہیں، جبکہ اس صحیح حدیث کا نماز میں مخصوص جگہوں پر رفع الیدین سے ذرہ برابر کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔
وہ روایت جس کے ذریعہ رفع الیدین والی روایتوں کو منسوخ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے: "ما لي اراکم رافعی ایدیکم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة".
ترجمہ : کیا ہو گیا کہ میں آپ لوگوں كو بدکے ہوئے گھوڑوں کے دم کی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، نماز مین اطمنان اور سکون اختیار کرو۔
یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے، اور اس سے بعض لوگ رفع الیدین والی روایتوں کو منسوخ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن حق یہ ہیکہ یہ خلاف حق ہے۔
حق یہ ہیکہ اس حدیث کا نماز میں رفع الیدین اور عدم رفع الیدین سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔
وہ اس طرح کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس مسئلہ سے متعلق ایک ہی جگہ تین روایتیں ذکر کی ہیں اور تینوں روایتیں جابر بن سمرہ کی ہیں:
1۔ پہلی روایت حدیث نمبر( 430 ۔ 119) عن جابر بن سمرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة ...
2۔ حدیث نمبر (431 ۔ 120) عن جابر بن سمرة قال كنا إذا صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قلنا: السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله، و أشار بيده إلى الجانبين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: علام تومئون بأيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ إنما يكفي أحدكم أن يضع يده على فخذه ثم يسلم على أخيه من على يمينه وشماله.
۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام یہ اشارہ سلام پھیرتے وقت کرتے تھے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، نماز میں عام رفع الیدین سے نہیں۔
حدیث نمبر( 431 ۔ 121) عن جابر بن سمرة قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قلنا: إذا سلمنا قلنا بأيدينا: السلام عليكم، السلام عليكم، ونظر إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما شأنكم؟ تشيرون بأيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ إذا سلم أحدكم فليلتفت إلى صاحبه ولا يومئ بيده.
۔ اس روایت سے بھی واضح ہے کہ صحابہ کرام سلام پھیرتے وقت ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔
صحیح مسلم کی ان تینوں روایتوں سے بالکل واضح ہو گیا کہ جس حدیث سے سیکڑوں رفع الیدین والی روایتوں کو منسوخ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا اس مسئلہ سے ادنی بھی تعلق نہیں ہے۔
اسی لیے صحیح مسلم کے شارح، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : " والمراد بالرفع المنهي عنه هنا رفعهم أيديهم عند السلام مشيرين إلى السلام من الجانبين، كما صرح به في الرواية الثانية"( شرح النووي على صحيح مسلم 4/114).
ترجمہ: اس حدیث میں ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہیکہ وہ لوگ دونوں طرف سلام پھیرتے وقت اپنے ساتھی کی طرف ہاتھ اٹھاکر اشارہ کرتے تھے، جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت موجود ہے۔
معلوم ہوا کہ نماز میں رفع الیدین ثابت ہے اور منسوخ والی بات بالکل صحیح نہیں ہے۔
اللہ تعالی ہمیں صحیح و ثابت حدیثوں پر عمل کی توفیق دے آمین ۔
 
Top