ذیشان خان

Administrator
رحمت الہی کے بعض مستحقین

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
رحمت یہ زحمت ومصیبت کی ضد ہے، رحمت الہی کا مفہوم یہ ہوگا کہ زندگی میں سکون، قلبی راحت، اطمینان، خیر وعافیت اور برکت سے محظوظ ہونا، ہر آدمی یہی چاہتا ہے کہ اس کی دنیا سکون وعافیت سے گزرے، زندگی میں رحمت ہی رحمت ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ رحمت الہی کے اسباب وعوامل کیا ہیں وہ کون لوگ ہیں جنہیں رب کی رحمتیں حاصل ہوتی ہیں، آئیے آج رحمت الہی کے بعض مستحقین کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں-
1) اللہ پر ایمان رکھنے والے-
2) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت وپیروی کرنے والے-
3) قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والے-
4) بغور قرآن سننے والے-
5) توبہ کرنے والے-
6) استغفار کرنے والے-
7) تقوی اختیار کرنے والے-
8) اللہ کی راہ میں جہاد اور ہجرت کرنے والے-
9) صبر کرنے والے-
10) احسان کرنے والے-
11) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے-
12) مسلمانوں کے مابین صلح کرنے والے-
13) مل جل کر رہنے والے، اتحاد واتفاق قائم کرنے والے-
14) بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے-
15) امت محمدیہ کی طرف نسبت رکھنے والے-
16) صلہ رحمی کرنے والے-
17) اللہ کی مخلوق پر شفقت کا برتاؤ کرنے والے-
18) لین دین اور خرید و فروخت میں نرمی برتنے والے-
19) مریضوں کی عیادت کرنے والے-
20) خاموش رہنے والے یا سلیقہ کی گفتگو کرنے والے-
21) تہجد پڑھنے والے اور تہجد کے لیے جگانے والے-
22) اپنے مظلومین سے معافی مانگنے والے-
23) عصر سے قبل چار رکعت پڑھنے والے-
24) حج وعمرہ میں بال حلق کرانے والے-
25) دینی مجلسوں یا پروگراموں میں شرکت کرنے والے-
26) الحمدللہ کہنے والے (ذکر واذکار کرنے والے)
27) اللہ کی رضا تلاشنے والے-
28) مسجد سے گہرا لگاؤ رکھنے والے-
29) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کی تبلیغ اور نشر واشاعت میں حصہ لینے والے-
30) اللہ کی خشیئت اپنے دلوں میں رکھنے والے-
یہ چند لوگ ہیں جو حقیقت میں رحمت الہی کے مستحق ٹھہرتے ہیں، اس کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہ مصیبت وپریشانی اور غریبی میں بھی مسکراتے رہتے ہیں، اور ہر حال میں اللہ کی تعریف بیان کرتے ہیں، لہٰذا اگر ہم رحمت الہی کے حقدار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ان تمام صفات پر کاربند ہونا پڑے گا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج ہم ان سب صفات سے بہت دور ہیں، اسی وجہ سے زندگی میں سکون نہیں ہے، گھر میں رحمت وعافیت نہیں ہے، خیر وبرکت نہیں، ہم فجر کی نماز میں سوتے رہیں، پنج وقتہ نمازوں سے غافل رہیں ہم کو رحمت الہی ملے گی؟ یہ ہماری خام خیالی ہوگی اس کے علاوہ کچھ نہیں، اس لیے توبہ کریں، تقوی کی زندگی گزاریں، نیک عمل کریں، برائی سے بچیں، ان شاءاللہ زندگی رحمت الہی سے لبریز ہوگی، اللہ تعالٰی ہم سب کو معاف کرے اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی سے نوازے آمین-
...........................................................
تفصیل کے لیے رجوع ہوں، 30/ سبباً لتنال رحمة الله تعالی (المرحومون في ضوء القرآن الكريم والسنة المطهرة) ابوعبدالرحمن سلطان علي
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top