ذیشان خان

Administrator
ایک جامع حدیث اور اس کا پیغام

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ، إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَةٍ إِلاَّ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ"(صحيح مسلم:4310) جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب میت کو برابر ملتے رہتا ہے (1) صدقہ جاریہ (2) وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں (3) وہ صالح اولاد جو اپنے والدین کے حق میں دعا کرے-
صحیح مسلم کی یہ بڑی عظیم حدیث ہے، اس حدیث کی گہرائی میں جائیں تو کافی عمدہ نصیحتوں سے معمور ہو سکتے ہیں، آئیے چند نصیحتوں سے ہم بھی مستفید ہوتے ہیں-
1) انسان چاہے کتنا بھی بڑا ہو اسے ایک نہ ایک دن ضرور مرنا ہے-
2) مرتے ہی ہر انسان کے تمام اختیارات ختم ہو جاتے ہیں-
3) نیکی کمانے اور آخرت بنانے کا اصل وقت دنیا کی زندگی ہے-
4) اگر انسان اپنے مال کا صحیح استعمال کرے تو مال کی وجہ سے وہ اپنی آخرت بنا سکتا ہے-
5) علم نافع اور علماء صالح کا دنیا وآخرت میں اونچا درجہ ہے، کیونکہ عالم کی وفات کے بعد بھی لوگ اس کے علم سے مستفید ہوتے ہیں جو اس کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوتا ہے-
6) شادی کی اہمیت اور بچوں کی صحیح تربیت کی فضیلت کا علم، اس لیے کہ نیک اولاد کی دعا کی وجہ سے والدین کے درجات بلند کیے جاتے ہیں-
7) دعا کی اہمیت-
8) بچوں کی صالحیت کی وجہ سے والدین کو بھی فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ والدین ہی اپنے بچوں کو نیک بناتے ہیں-
9) ماں باپ کے مرنے سے ان کے حقوق ختم نہیں ہوتے ہیں، والدین کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ ہم اپنے والدین کی مغفرت ورفع درجات کی دعا کرتے رہیں-
10) دنیا سے وہ کام کر کے جانا چاہیے کہ دنیا والوں کی زبان پر ذکر خیر باقی رہے-
11) دنیا دار العمل ہے، یہاں جو نیکی کر لیے اسی کا ثمرہ آخرت میں ملے گا، مرنے کے بعد نہ کوئی نیکی کر سکتا ہے اور نہ اسے نیکی کا موقع دیا جائے گا بس جیسے آنکھ بند ہوئی عمل کا دروازہ بند، کہاں ہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد فلاں فلاں ولی تصرف کرتے ہیں، انہیں اختیار دیا جاتا ہے وہ اپنے متوسلین ومعتقدین کی مدد کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث صاف کہتی ہے کہ مرتے ہی عمل کا دروازہ منقطع ہو جاتا ہے اور اہل بدعت کہتے ہیں کہ کام میں پختگی آجاتی ہے، اختیار مل جاتا ہے، تصرف کا پاور مل جاتا ہے، لعنة الله على الكاذبين-
قارئین کرام! علم، مال اور اولاد یہ تینوں اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں، اللہ تعالٰی ہر ایک کو ان تین نعمتوں میں سے ایک دو نعمت ضرور نوازتا ہے، بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو یہ تینوں نعمتیں میسر ہوں، اور وہ ان نعمتوں کا صحیح استعمال بھی کرتا ہو، اور بڑا محروم ہے وہ انسان جسے علم، مال اور اولاد کی نعمت حاصل ہو مگر وہ ان نعمتوں کی قدر کرکے صدقہ جاریہ نہیں بناتا ہے بس دنیا کی فکر کرتا ہے والعياذ باللہ!
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس کے پاس علم ہو وہ علمی کام کرکے اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائے، جس کے پاس مال ہو دین کی راہ میں خرچ کرکے اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائے، جس کے پاس اولاد ہو وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرکے اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائے، اللہ ہم سب کو نفع بخش بنائے اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی سے ہمکنار فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top