ذیشان خان

Administrator
جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کے سلسلے میں وارد حدیث کی تخریج و تحقیق

✍⁩ بقلم :مامون رشید ہارون رشید سلفی.

قارئین کرام جمعہ کا دن تمام دنوں کا سرادر ہے اس کے بہت سارے فضائل ومناقب اور خوبیاں ہیں کہتے ہیں سورج طلوع ہونے والے ايام ميں سب سے بہترين جمعہ كا دن ہے اسی روز حضرت آدم پیدا کیے گیے اسی روز جنت میں داخل کیے گیے اور اسی روز وہاں سے نکالے بھی گیے بلکہ یہی وہ دن ہے جس میں قیامت بھی قائم ہوگی (صحيح مسلم حديث نمبر ( 1410 ) وصحیح ابن خزیمہ بتصحیح البانی) اور اس میں ایک ایسی گھڑی بھی ہے کہ اس میں جو کوئی بھی جس بھی قسم کی دعا کرتا ہے سنی جاتی ہے (صححه الإمام الوادعي في الصحيح المسند) اور جو شخص اس روز غسل ہاتھ سے فارغ ہو کر اول وقت میں مسجد کا رخ کرتا ہے اسے ایک اونٹ قربانی کرنے کا ثواب ملتا ہے، جو دوسرے وقت میں جاتا ہے اسے ایک گائے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے ، جو تیسرے وقت میں جاتا ہے اسے ایک بکری قربانی کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو چوتھے وقت میں جاتا ہے اسے ایک مرغی قربانی کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو پانچویں نمبر پر جاتا ہے اسے ایک انڈے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے ( صحيح البخاري و مسلم) اور جو مسلمان شخص بھى جمعہ كے روز يا جمعہ كى رات فوت ہوتا ہے اللہ تعالى اسے قبر كے فتنہ سے محفوظ ركھتا ہے "
(سنن ترمذى( 1074 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے " احكام الجنائز صفحہ نمبر ( 49 - 50 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے)
ابو لبابہ بن عبد المنذر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جمعۃ المبارك سب ايام كا سردار ہے، اور اللہ تعالى كے ہاں ان ايام ميں عظيم دن ہے، اور اللہ تعالى كے ہاں يہ دن عيد الفطر اور عيد الاضحى سے بھى عظيم ہے، اس ميں پانچ خصلتيں اور امتيازات ہيں:
اللہ تعالى نے اس روز آدم عليہ السلام كو پيدا فرمايا، اور اسى روز آدم عليہ السلام كو زمين كى طرف اتارا گيا، اور اسى روز آدم عليہ السلام فوت ہوئے، اور اس روز ميں ايك ايسا وقت اور گھڑى ہے جس ميں بندہ اللہ تعالى سے جو بھى مانگتا ہے اللہ تعالى اسے عطا فرماتا ہے، جب كہ حرام كا سوال نہ كيا جائے، اور اسى روز قيامت قائم ہو گى، مقرب فرشتے، اور آسمان و زمين اور ہوائيں، اور پہاڑ اور سمندر يہ سب جمعہ كے روز سے ڈرتے ہيں"
(سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1084 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 2279 ) ميں اسے حسن كہا ہے).وغیرہ وغیرہ ..

بنا بریں امت مسلمہ کے بہت سارے نیک افراد اس روز عبادت وریاضت تلاوت اور ذکر واذکار کا خاصہ اہتمام کرتے ہیں انہیں عبادتوں میں سے ایک سورہ کہف کی تلاوت بھی ہے چنانچہ لوگ جمعہ کے روز ایک مخصوص فضیلت کی امید کرتے ہوئے بالخصوص اس سورت کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں..

اس مختصر سے مضمون میں ہم جمعہ کے روز خصوصیت کے ساتھ سورہ کہف کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلے میں وارد حدیث کا حکم معلوم کریں گے اور یہ جانیں گے کہ آیا واقعی یہ فضیلت ثابت بھی ہے یا محض ضعیف حدیث اور فضائل اعمال ؟

قارئین کرام: اس سلسلے میں دس احادیث اور تین آثار مروی ہیں جن میں سے صرف حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے علاوہ تمام روایتیں سخت ضعیف ہیں اس لیے میں اولا حضرت ابو سعید کی حدیث کا تفصیلی حکم بیان کروں گا اور بقیہ احادیث کی علتوں کی طرف اجمالی اشارے پر اکتفا کروں گا ان شاء اللہ..

حضرت ابو سعید کی حدیث کا مدار أبو هاشم الرماني پر ہے ،وہ عن أبي مجلز ، عن قيس بن عباد، عن أبي سعيد. کی سند سے رویت کرتے ہیں.(مذکورہ سند کے تمام روات ثقات حفاظ اور بخاری ومسلم کے روات ہیں)
اس حدیث کو روایت کرنے میں ابو ھاشم پر سند اور متن میں شدید اختلاف واقع ہوا ہے بعض راویوں نے ان سے موقوفا رویت کیا ہے تو بعض نے مرفوعا ، اسی طرح بعض نے متن حدیث کو مطولا روایت کیا ہے تو بعض نے مختصرا، اور بعض روات نے کسی لفظ کا اضافہ کیا ہے تو بعض نے کمی اور بعض نے کسی لفظ کی جگہ میں کچھ دوسرا لفظ استعمال کیا ہے تو بعض نے کچھ اور...


خلاصہ یہ ہے کہ ابو ھاشم سے اس حديث کو ان کے چھ شاگردوں نے روایت کیا ہے ..اور الفاظ حدیث بالاجمال دو چیزوں کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے :
اول : وضو کے بعد دعا کی فضیلت کے سلسلے میں اس کے الفاظ ہیں "من توضأ فقال: سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك، كتب في رق، ثم طبع بطابع، فلم يكسر إلى يوم القيامة"
یعنی جو شخص وضو کرتا ہے اور یہ دعا کہتا ہے "سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك" تو اسے ایک چمڑی پر لکھا جاتا ہے پھر اس پر ایک مہر لگائی جاتی ہے اور اسے قیامت تک توڑا نہیں جاتا.

دوم: سورۃ کہف کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلے میں.

چنانچہ ابو ھاشم سے روایت کرنے والے بعض راویوں نے صرف وضو کے بعد دعا کی فضیلت کے سلسلے میں وارد الفاظ کو روایت کرنے پر اکتفا کیا ہے اور وہ قيس بن الربيع، وليد بن مروان اور روح بن القاسم ہیں ان کی اسانید میں ضعف ہے..
اور بعض نے دونوں چیزوں کو ایک ساتھ روایت کیا ہے وہ هشيم بن بشير ، شعبة بن الحجاج اور سفیان الثوری ہیں ان کی اسانید میں خود ان کے مابین اور ان سے روایت کرنے والے ان کے شاگردوں کے مابین کافی اختلافات ہیں میں انہیں تینوں کی روایتوں کی تخریج کروں گا:

اولا: هشيم بن بشير کی سند :

اس حدیث کو خود ابو عبید القاسم بن سلام نے (فضائل القرآن:244) کے اندر ...
اور دارمی نے (سنن الدارمی حدیث:3450) کے اندر ابو النعمان محمد بن الفضل السدوسی سے..

اور ابن الضریس نے (فضائل القرآن:99حدیث:211) کے اندر احمد بن خلف البغدادي سے...

اور بیھقی نے (شعب الایمان حدیث:2444) کے اندر سعید بن منصور کے طریق سے...
ان چاروں(ابو عبید , ابو النعمان, ابن خلف اور سعید بن منصور)نے عن هشيم، عن أبي هاشم کی سند سے موقوفاً ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے "من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق" یہ أبو عبيد کے الفاظ ہیں بقیہ روات نے انہیں کی طرح روایت کیا ہے سوائے محمد بن الفضل کے ان کی روایت میں : "ليلة الجمعة"کے الفاظ ہیں.


اور اسے روایت کیا ہے امام حاکم نے (مستدرک:2/348) اور امام بیھقی نے(السنن الكبرى:3/249) کے اندر نعیم بن حماد کے طریق سے...

اور بیھقی نے(شعب الایمان حدیث: 2445) کے اندر یزید بن مخلد بن یزید کے طریق سے...
اور امام دار قطنی نے (علل:11/308) کے اندر حکم بن موسیٰ کے طریق سے...
ان تینوں (نعیم, یزید اور حکم) نے عن هشيم، عن أبي هاشم کی سند سے مرفوعاً ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے : «من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق». یہ يزيد کے الفاظ ہیں جبکہ نعيم کے الفاظ «أضاء له من النور ما بين الجمعتين» اس طرح سے ہیں.
امام حاكم نے نعيم کی سند کے بارے میں فرمایا : (هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه). یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن بخاری ومسلم نے اسے روایت نہیں کیا ہے.

اس پر تعاقب کرتے ہوئے امام حاکم فرماتے ہیں :(نعيم ذو مناكير) نعیم منکر روایتیں بیان کرنے والا ہے..

ثانیا:سفیان بن سعید الثوری کی سند:

اس حدیث کو خود عبد الرزاق نے(مصنف حدیث:730-6033) اور انہیں کے طریق سے امام طبرانی نے(الدعاء حديث:391) کے اندر ...

اور ابن ابی شیبہ نے (مصنف:1/3-10/450) اور نعیم بن حماد نے (الفتن حدیث:1579) کے اندر وکیع بن الجراح کے طریق سے...

اور نعیم بن حماد نے (الفتن حدیث:1582) اور نسائی نے (السنن الکبری ح:10725) اور حاکم نے (مستدرک:1/565-4/511)کے اندر عبد الرحمن بن مھدی کے طریق سے...

اور بیھقی نے (شعب الایمان ح:3038) کے اندر قبیصۃ بن معبد کے طریق سے...

ان چاروں (عبد الرزاق, وکیع, عبد الرحمن بن مھدی اور قبیصۃ) نے عن سفيان، عن أبي هاشم کی سند سے موقوفاً ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے :«من توضأ، ثم فرغ من وضوئه، ثم قال: سبحانك الله وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك، وأتوب إليك، ختم عليها بخاتم فوضعت تحت العرش، فلا تكسر إلى يوم القيامة، ومن قرأ سورة الكهف كما أنزلت ثم أدرك الدجال لم يسلط عليه، ولم يكن له عليه سبيل، ومن قرأ خاتمة سورة الكهف أضاء نوره من حيث قرأها ما بينه وبين مكة». یہ عبد الرزاق کے الفاظ ہیں. .
جبکہ وكيع نے ابن أبي شيبة کی روایت میں الفاظ وضوء کو ذکر کیا ہے اور نعيم بن حماد کی روایت میں سورۃ کہف کے سلسلے میں وارد الفاظ کو راویت کیا ہے الفاظ اس طرح ہیں: «من قرأ سورة الكهف كما أنزلت أضاء له ما بينه وبين مكة، ومن قرأ آخرها ثم أدرك الدجال لم يسلط عليه».
اور عبد الرحمن بن مهدی نے اپنی روايت میں سورہ کھف کی تلاوت کے سلسلے میں وارد الفاظ کی راویت پر اکتفا کیا ہے الفاظ اس طرح ہیں: «من قرأ سورة الكهف كما أنزلت ثم أدرك الدجال لم يسلط عليه، ولم يكن له عليه سبيل، ومن قرأ سورة الكهف كان له نوراً من حيث قرأها ما بينه وبين مكة».
اور قبيصة کے الفاظ یہ ہیں : «من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة فأدرك الدجال لم يسلط عليه- أو قال: لم يضره-، ومن قرأ خاتمة سورة الكهف أضاء الله نوراً من حيث كان بينه وبين مكة».
قال الحاكم: (هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه)
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن بخاری ومسلم نے اسے روایت نہیں کیا ہے.
ثالثا:شعبۃ بن الحجاج کی سند:

اس حدیث کو امام نسائی نے(السنن الكبرى ح:10723) کے اندر محمد بن جعفر غندر کے طریق سے..

اور طبرانی نے (الدعاء ح:388) کے اندر عمر بن مرزوق کے طریق سے...

اور بیھقی نے معلقا (شعب الایمان :3/21) کے اندر معاذ بن معاذ کے طریق سے..

ان تینوں نے (غندر، عمرو، اور معاذ) نے عن شعبة، عن أبي هاشم کی سند سے موقوفاً روایت کیا ہے الفاظ اس طرح ہیں :«من قرأ سورة الكهف كما أنزلت كانت له نوراً من حيث يقرؤها إلى مكة، ومن قرأ آخر الكهف فخرج الدجال لم يسلط عليه»، یہ غندر کے الفاظ ہیں اور بقیہ روات نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے .

اور اسے روایت کیا ہے امام نسائی نے(السنن الکبری ح:10722 اور عمل الیوم واللیلۃ ح:952) اور امام طبرانی نے (المعجم الاوسط ح:1478) اور امام حاکم نے (مستدرک 1/564) کے اندر یحییٰ بن کثیر کے طریق سے...

اور امام بیہقی نے (شعب الایمان ح:2754) کے اندر عبد الصمد بن عبد الوارث کے طریق سے...
اور امام دار قطنی نے معلقا(علل 11/308) کے اندر ربیع بن یحییٰ کے طریق سے..

ان تینوں (يحيي، عبد الصمد، اور ربيع) نے عن شعبة، عن أبي هاشم کی سند سے مرفوعا ان الفاظ کے ساتھ : «من قرأ سورة الكهف كما أنزلت كانت له نورا يوم القيامة من مقامه إلى مكة، ومن قرأ عشر آيات من آخرها ثم خرج الدجال لم يسلط عليه، ومن توضأ فقال: سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك، كتب في رق ثم جعلت في طابع فلم يكسر إلى يوم القيامة» روایت کیا ہے..
یہ يحيي کے الفاظ ہیں طبراني، حاكم، اور بيهقي کے ہاں جبکہ ان کے علاوہ دوسروں کے ہاں مختصراً وضو کے سلسلے میں وارد الفاظ کے بغیر موجود ہے .. عبد الصمد کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں.

امام حاکم نے يحيى بن کثیر کی سند کے بارے میں فرمایا : (هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه، ورواه سفيان الثوري، عن أبي هاشم فأوقفه)
یہ حدیث صحیح ہے اور امام مسلم کی شرط پر ہے لیکن بخاری و مسلم نے اس کی تخریج نہیں کی ہے، اسے سفیان ثوری نے بھی ابو ھاشم سے روایت کیا ہے مگر انہوں نے اسے موقوفا بیان کیا ہے..

حدیث کے اندر موجود اختلافات کا دراسہ:

حدیث کی تخریج سے پتا چلا کہ حدیث کا مدار ابو ھاشم الرمانی پر ہے اور ان سے اس حدیث کو ان کے تین شاگردوں (هشيم بن بشير، سفيان اور شعبة بن الحجاج ) نے روایت کیا ہے... ان تینوں کی روایتوں میں سندا اور متنا اختلاف واقع ہوا ہے تفصیل درج ذیل ہے..

أولا: هشيم بن بشير پر اختلاف :
ان سے روایت کرنے میں سندا اور متنا دونوں اعتبار سے اختلاف پایا جاتا ہے...
اولا: سند کے اندر موجود اختلاف:
وہ اس طرح کہ ان کے شاگردوں نے ان سے موقوفا اور مرفوعا دونوں طریقوں سے روایت کیا ہے...
موقوفا روایت کرنے والے چار لوگ ہیں:
(1)أبو عبيد القاسم بن سلام بغدادي،مشہور ثقہ امام اور صاحب تصانيف مفیدہ..(ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب: 5497)

(2) أبو النعمان محمد بن الفضل السدوسي البصري، الملقب بعارم، یہ ثقة ثبت راوی ہیں اخیر عمر میں تغير کے شکار ہو گئے تھے.(ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب:6266)

(3) احمد بن خلف البغدادي یہ غیر معروف ہیں ان کے بارے میں خطیب بغدادی فرماتے ہیں هو شيخ غير مشهور (ملاحظہ فرمائیں تاریخ بغداد:4/134)

(4) سعید بن منصور صاحب السنن "امام ثقہ ثبت" راوی ہیں (ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب:2412)

مرفوعا رویت کرنے والے تین راوی ہیں:

(1) نعيم بن حماد أبو عبد الله الخزاعي المروزي"صدوق، يخطئ كثيراً، فقيه، عارف بالفرائض"صدوق راوی ہیں بہت زیادہ غلطیاں کرنے والے ہیں فقیہ ہیں فرائض کے ماہر ہیں (ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب:7215)

(2)يزيد بن مخلد بن يزيد،امام ابن أبي حاتم نے الجرح والتعديل اور أبو أحمد الحاكم نے "الأسامي والكنى" اور ذهبي نے "المقتنى"کے اندر ان کا ترجمہ ذکر کیا ہے مگر کسی نے جرح یا تعدیل کا کوئی کلمہ نہیں لکھا. ..(ملاحظہ فرمائیں الجرح والتعديل (9/ 291)،الأسامي والكنى (4/ 283) المقتني (1923)

(3) حکم بن موسیٰ یہ صدوق راوی ہیں (ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب:1470)

ھشیم بن بشیر کی روایت کا موقوف ہونا ہی راجح ہے جیسا کہ ائمہ نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے..
امام دارقطني حكم بن موسى کی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: (ووقفه غيره عن هشيم، وهو الصواب" حکم کے علاوہ دوسروں نے ھشیم سے اسے موقوفا روایت کیا ہے اور وہی صحیح ہے (علل :11/308)

اور امام بيهقي فراماتے ہیں: (هذا هو المحفوظ موقوف) یہ موقوف روایت ہی محفوظ ہے(شعب الایمان2/474)

اور امام ابن القيم رحمہ اللہ نے مرفوع روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا: (وذكره سعيد بن منصور من قول أبي سعيد الخدري، وهو أشبه) اس حدیث کو سعید بن منصور نے ابو سعید کے قول کے طور پر ذکر کیا ہے اور وہی اقرب الی الصواب ہے... (زاد المعاد (1/376)

وجہ ترجیح بھی واضح اور ظاہر ہے کیونکہ موقوفا روایت کرنے والے مرفوعا روایت کرنے والوں سے عدد میں بھی زیادہ ہیں اور حفظ و ضبط میں بھی اعلی درجے پر فائز ہیں..
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ھشیم کے اس حدیث کو ابو ھاشم سے سننے میں بھی کلام ہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنہوں نے صرف اس حدیث کے پہلے ٹکڑے یعنی وضو کے سلسلے میں وارد الفاظ کو روایت کیا ہے :"هشيم لم يسمعه من أبي هاشم" ہشیم نے اسے ابو ھاشم سے نہیں سنا ہے. (العلل ومعرفۃ الرجال بروایۃ ابنہ عبد اللہ رقم:2153) گرچہ ھشیم نے ابو عبید, نعیم بن حماد, سعید بن منصور اور محمد بن الفضل کی روایت میں تحدیث کی صراحت کی ہے اور تصریح عموما اتصال کا فائدہ دیتی ہے مگر قرائن یہاں عدم سماع ہی کا تقاضا کرتے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں:
(1) هشيم کا تدلیس سے معروف ہونا چنانچہ امام احمد فرماتے ہیں"التدليس من الريبة - وذكر هشيما - فقال: كان يدلس تدليسا وحشاً، وربما جاء بالحرف الذي لم يسمعه فيذكره في حديث آخر، إذا انقطع الكلام يوصله" یعنی هشيم انتہائی زیادہ تدلیس کرتے تھے... (العلل روایۃ المروذی رقم:31)

(2) امام احمد کا سماع کی نفی کرنا جو علم علل الحدیث کے گنے چنے جہابذہ ائمہ میں سے ایک ہیں...ساتھ ہی یہ بھی کہ امام احمد ھشیم کی حدیثوں کے بارے میں اور ان کی تدلیس کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ھشیم امام احمد کے ابتدائی دور کے اساتذہ میں سے ہیں امام احمد نے ان کی تمام حدیثیں یاد کر لی تھیں(ملاحظہ فرمائیں الجرح والتعديل 1/295، حليۃ الاولیاء 9/153)... آپ نے ھشیم کی بہت ساری حدیثوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ انہوں نے ان کو اپنے اساتذہ سے نہیں سنا ہے..(ملاحظہ فرمائیں العلل بروایۃ عبد اللہ اس میں اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں)

(3) حدیث کے اندر موجود اختلاف بھی عدم سماع ہی کو تقویت پہنچا رہا ہے.

(4) الفاظ حدیث میں ھشیم کا شعبہ اور سفیان کی مخالفت بھی اس سلسلے میں کچھ قوت پہنچا رہی ہے.

لہٰذا راجح یہ ہے کہ ھشیم نے سرے سے اس روایت کو ابو ھاشم سے سنا ہی نہیں ہے... اور ہم نے جو تحدیث کا اعتبار نہیں کیا ہے اس کو تقویت امام ابن رجب رحمه الله کے اس قول سے ملتی ہے آپ فرماتے ہیں: (كثيراً ما يرد التصريح بالسماع، ويكون خطأ .. ، وكان أحمد يستنكر دخول التحديث في كثير من الأسانيد، ويقول: هذا خطأ - يعني: ذكر السماع- ... ، وحينئذ فينبغي التفطن لهذه الأمور، ولا يغتر بمجرد ذكر السماع والتحديث في الأسانيد، فقد ذكر ابن المديني أن شعبة وجدوا له غير شيء يذكر فيه الإخبار عن شيوخه، ويكون منقطعا)
بہت ایسا ہوتا ہے کہ سماع کی صراحت موجود ہوتی ہے مگر وہ غلط ہوتی ہے ..امام احمد بہت ساری سندوں میں تحدیث کے دخول کو منکر قرار دیتے تھے اور کہتے تھے یہ خطا ہے یعنی سماع کا ذکر غلط ہے.... لہذا ایسی صورت میں ان چیزوں کے سلسلے میں چوکنا رہنا چاہیے اور اسانید کے اندر محض سماع اور تحدیث کے ذکر سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے.. ابن المدینی نے ذکر کیا ہے کہ محدثین نے شعبہ کی بہت سی ایسی چیزیں پائی ہیں جن میں انہوں نے اپنے اساتذہ سے اخبار کا ذکر کیا ہے مگر وہ منقطع ہیں.. (شرح علل الترمذی2/589-592)

ثانیا: متن میں پایا جانے والا اختلاف:
وہ اس طرح کے ھشیم کے اکثر شاگردوں نے اس حدیث کو ھشیم سے ان الفاظ کے ساتھ"من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق"یا ان کے ہم معنی الفاظ کے روایت کیا ہے..

سوائے محمد بن الفضل السدوسی کے انہوں نے اسے بجائے "یوم الجمعۃ" کے "ليلة الجمعة" کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے.
یہ محمد بن الفضل کے اوہام میں سے ہے کیونکہ وہ اپنے اخیر عمر میں تغیر اور اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ساتھ ہی یہاں انہوں نے عدد میں اپنے سے زیادہ اور حفظ و ضبط میں اپنے سے قوی ترین لوگوں کی مخالفت کی ہے..
اس حدیث کے متن میں ایک اور اختلاف واقع ہوا ہے:
وہ اس طرح کہ نعیم بن حماد نے اسے "أضاء له من النور ما بين الجمعتين" کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے جب کہ ان کے علاوہ ھشیم کے تمام شاگردوں نے"ما بينه وبين البيت العتيق" کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ...

شاید یہ نعیم کے مناکیر میں سے ہے کیونکہ وہ صاحب المناکیر اور بہت زیادہ غلطیاں کرنے والے ہیں اور یہاں انہوں نے ضبط میں اپنے سے قوی اور تعداد میں اپنے سے زیادہ لوگوں کی مخالفت کی ہے...
ھشیم کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ موقوف اور منقطع ہے (یا کم از کم اس کا اتصال مشکوک ہے) البتہ ان سے صحیح طور جو الفاظ مروی ہیں وہ اس طرح ہیں:"من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق"

ثانیا: سفیان ثوری پر واقع اختلاف:

سفیان ثوری رحمہ اللہ کی روایت کے طرق کی تخریج سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ انہوں نے ابو ھاشم سے صرف موقوفا روایت کیا ہے ..ہاں ان کے بعض شاگردوں نے مرفوعا بھی روایت کیا ہے مگر صرف حدیث کے شروع والے حصے کو جس میں صرف وضو کے بعد ذکر ودعا کی فضیلت کا ذکر ہے ان روایتوں میں سورہ کھف کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں ہے... لہذا اس مقام پر ان کی تخریج کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں..

جہاں تک سفیان کی روایت کے متن کا معاملہ ہے تو اسے سفیان کے تمام شاگردوں نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے"من قرأ سورة الكهف كما أنزلت ثم أدرك الدجال لم يسلط عليه، ولم يكن له عليه سبيل، ومن قرأ خاتمة سورة الكهف أضاء نوره من حيث قرأها ما بينه وبين مكة" یا اسی کے ہم معنی الفاظ کے ساتھ.. یعنی ان کی روایتوں میں جمعہ کے ساتھ تخصیص کا کوئی ذکر نہیں ہے.... سوائے قبیصۃ بن عقبہ کے صرف تنہا انہوں نے ہی جمعہ کا ذکر کیا ہے.. چنانچہ انہوں نے سفیان سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے"من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة فأدرك الدجال لم يسلط عليه - أو قال: لم يضره -، ومن قرأ خاتمة سورة الكهف أضاء الله نورا من حيث كان بينه وبين مكة"

قبیصۃ بالخصوص امام سفیان ثوری سے روایت کرنے میں متکلم فیہ ہیں.
ابن ابی خیثمہ یحییٰ بن معین سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:"هو ثقة الا في حديث سفيان الثوري فليس بذلك القوي" یعنی قبیصہ ثقہ ہیں مگر سفیان ثوری کی روایت میں نہیں ان سے روایت کرنے میں وہ قوی نہیں ہیں.
امام احمد سفیان سے قبیصہ کی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں"كان كثير الغلط" وہ بہت زیادہ غلطیاں کرتے تھے. (ملاحظہ فرمائیں تاریخ بغداد: 12/474)

امام العلل یعقوب بن شیبہ فرماتے ہیں"كان ثقة صدوقاً فاضلاً، تكلموا في روايته عن سفيان خاصة، كان ابن معين يضعف روايته عن سفيان" قبیصہ ثقہ صدوق اور فاضل آدمی تھے، محدثین نے خصوصاً سفیان سے ان کی روایت پر کلام کیا ہے، امام ابن معین سفیان سے ان کی روایتوں کو ضعیف قرار دیتے تھے. (ملاحظہ فرمائیں تھذیب الکمال :23/481 ..شرح علل الترمذي:2/811-812)

حاصل کلام یہ ہے کہ جمعہ کے لفظ کے ساتھ قبیصہ کی روایت منکر ہے کیونکہ ایک تو وہ سفیان کی روایت میں ضعیف ہیں دوسرا انہوں نے عبد الرحمن بن مہدی, وکیع بن الجراح اور عبدالرزاق جیسے ائمہ ثقات کی مخالفت کی ہے..

ثالثا: شعبۃ بن الحجاج پر واقع اختلاف:


ان سے روایت کرنے میں سندا اور متنا دونوں اعتبار سے اختلاف پایا جاتا ہے...
اولا: سند کے اندر موجود اختلاف:
وہ اس طرح کہ ان کے شاگردوں نے ان سے موقوفا اور مرفوعا دونوں طریقوں سے روایت کیا ہے...
موقوفا روایت کرنے والے تین لوگ ہیں:

(1)غندر محمد بن جعفر الهذلي مولاهم، أبو عبد الله البصري، ثقہ ہیں شعبہ سے روایت کرنے میں أثبت الناس ہیں (ملاحظہ فرمائیں تھذیب الکمال 5/25 سیر اعلام النبلاء 17/102 اور تقریب التهذيب 5724 )

(2)عمرو بن مرزوق الباهلي مولاهم، أبو عثمان البصري، ثقہ ہیں مگر ان کے کچھ اوہام بھی ہیں (ملاحظہ فرمائیں سیر اعلام النبلاء 19/403 اور تقریب التهذيب 5145 )

(3)معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى البصري، ثقہ اور متقن ہیں امام شعبہ کے ثقہ شاگردوں میں سے ہیں (ملاحظہ فرمائیں تھذیب الکمال 132/28 سیر اعلام النبلاء 17/51 اور تقریب التهذيب 6787)
مرفوعا روایت کرنے والے بھی تین ہیں:

(1) يحيى بن كثير العنبري مولاهم، أبو غسان البصري، ثقہ راوی ہیں (ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب:7679)

(2) عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي العنبري مولاهم، أبو سهل البصري التنوري، ثبت في شعبة ،صدوق في غيره. یعنی شعبہ ثبت(ثقہ)ہیں جبکہ دوسروں سے روایت کرنے میں صدوق ہیں. (ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب4108)

(3)ربيع بن يحيي الأشناني، أبو الفضل البصري، صدوق ہیں ان کے کچھ اوہام ہیں. (ملاحظہ فرمائیں تقریب التهذيب 1913)

راجح موقوف ہونا ہے کیونکہ ائمہ نے موقوف کو مرفوع پر ترجیح دی ہے:

امام نسائی مرفوع روایت کے بارے میں فرماتے ہیں" هذا خطأ والصواب موقوف" یہ خطا اور غلطی ہے موقوف ہی صحیح ہے (سنن کبری 9/348)

امام طبرانی فرماتے ہیں "رفعه يحيى بن كثير عن شعبة ووقفه الناس" شعبہ سے روایت کرنے میں اسے یحییٰ بن کثیر نے مرفوعا روایت کیا ہے جب کہ لوگوں کی جماعت نے موقوفا روایت کیا ہے (الدعاء ص:141)

طبیب العلل امام دار قطنی فرماتے ہیں"رواه غندر وأصحاب شعبة عن شعبة موقوفا" اسے غندر اور امام شعبہ کے شاگردوں نے موقوفا روایت کیا ہے (العلل 11/308)

وجہ ترجیح یہ ہے کہ موقوفا روایت کرنے والے مرفوعا روایت کرنے والوں سے اضبط واحفظ ہیں..
غندر امام شعبہ کے شاگردوں میں سب سے زیادہ ثقہ ہیں جیسا کہ یہ اکثر نقاد کی رائے ہے اسی طرح معاذ بن معاذ بھی شعبہ کے ثقہ شاگردوں میں سے ہیں.

امام عبد الله بن المبارك فرماتے ہیں:"إذا اختلف الناس في حديث شعبة فكتاب غندر حكم فيما بينهم" جب لوگ شعبہ کی حدیث میں اختلاف کر بیٹھے تو غندر کی کتاب ان میں فیصل ہے (الجرح والتعدیل 1/270)

اسی طرح امام أحمد نے فرمایا:"ما في أصحاب شعبة أقل خطأ من محمد بن جعفر" شعبہ کے شاگردوں میں محمد بن جعفر (غندر) سے کم غلطی کرنے والا کوئی نہیں ہے.(شرح علل الترمذي 2/702)

امام عجلی فرماتے ہیں:"غندر من أثبت الناس في حديث شعبة" غندر شعبہ کی حدیث میں اثبت الناس ہیں (معرفۃ الثقات 2/234 ..شرح علل الترمذي 2/703)

امام ابن عدي نے فرمایا:"أصحاب شعبة: معاذ بن معاذ، وخالد بن الحارث، ويحيى القطان، وغندر، وأبو داود خامسهم" شعبہ کے(سب سے ثقہ) شاگرد معاذ بن ، خالد بن الحارث، يحيى القطان اور غندر ہیں, ابو داؤد پانچویں نمبر پر ہیں(الکامل 3/280)

جبکہ مرفوعا روایت کرنے والے اس پائے کے نہیں ہیں ...ساتھ ہی بعض مرفوع روایتوں پر کلام بھی کیا گیا ہے :
چنانچہ عبد الصمد کی روایت میں ضعف ہے کیونکہ ان سے روایت کرنے والے عبد الرحمن بن ابی البختری کے سلسلے میں جرح یا تعدیل کا کسی امام کا کوئی کلمہ نہیں ملا.

اسی طرح ربیع بن یحییٰ کی روایت کو دار قطنی نے ضعیف قرار دیا ہے فرماتے ہیں:"وقيل: عن ربيع بن يحيى، عن شعبة مرفوعاً، ولم يثبت" یعنی کہا گیا ہے کہ ربیع بن یحییٰ عن شعبہ کی سند سے مرفوعا بھی مروی ہے مگر وہ ثابت نہیں ہے. (علل:11/308)

اس اعتبار سے مرفوعا روایت کرنے والے صرف یحییٰ بن کثیر ہوں گے .
امام طبرانی فرماتے ہیں:"لم يرو هذا الحديث مرفوعا عن شعبة إلا يحيى بن كثير" اس حدیث کو شعبہ سے مرفوعا صرف یحییٰ بن کثیر نے روایت کیا ہے. (المعجم الاوسط ح:1455) یعنی انہوں نے عبد الصمد اور ربیع بن یحییٰ کی روایت کا اعتبار ہی نہیں کیا ہے.

ثانیا:جہاں تک متن کے اعتبار سے شعبہ کی حدیث کا تعلق ہے تو وہ ان الفاظ کے ساتھ ہے "من قرأ سورة الكهف كما أنزلت كانت له نورا من حيث يقرؤه إلى مكة، ومن قرأ آخر الكهف فخرج الدجال لم يسلط عليه"
مختصر یہ ہے کہ ان کی حدیث کے الفاظ میں کہیں جمعہ کا ذکر ہے ہی نہیں.

ان تمام تفصیلات کے بعد ابو سعید کی حدیث پر حکم کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے یہ ابو سعید کا کلام ہے اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ہے .

امام بیہقی فرماتے ہیں "والمشهور موقوف" مشہور موقوف ہونا ہے (الدعوات الکبیر (1/42)

امام ذہبی فرماتے ہیں:"وقفه أصح" موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے (المهذب في اختصار السنن الكبير 3/1181)

امام ابن الملقن فرماتے ہیں:"الوقف ھو الصواب" موقوف ہونا ہی درست ہے (البدر المنیر:2/292)
امام ابن حجر فرماتے ہیں:"ورجال الموقوف في طرقه كلها أتقن من رجال المرفوع" موقوف روایت کے روات تمام طرق میں مرفوع حدیث کے راویوں سے اتقن ہیں.(فیض القدیر 6/199)


یہ رہا سند کا حکم جہاں تک متن حدیث کا تعلق ہے تو گزشتہ تفصیلات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ابو ھاشم سے جمع کے دن کے ساتھ سورہ کہف کی تلاوت کی فضیلت کی تخصیص صرف دو طریق سے وارد ہوئی ہے:

اول: هشيم بن بشیر عن ابی ھاشم کی سند میں.
مگر اس میں دو علت ہے :
(1) ھشیم اس تخصیص میں شعبہ اور ثوری سے متفرد ہیں ان دونوں نے بلا تخصیص روایت کیا ہے .اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب شعبہ اور ثوری متفق ہوں تو ترجیح انہیں ہی حاصل ہوگی چنانچہ خالد بن سریج فرماتے ہیں "میں نے عبد الرحمن بن مہدی سے کہا کہ حب ثوری اور ھشیم اختلاف کر بیٹھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ان سے (یعنی حصین بن عبد الرحمن) روایت کرنے میں ھشیم اثبت ہیں ..میں نے کہا اگر شعبہ اور ھشیم اختلاف کر بیٹھے ؟ تو انہوں کہا کہ ھشیم (مقدم ہوں گے) یہاں تک کہ دونوں اکٹھے ہو جائیں یعنی سفیان اور شعبہ ایک حدیث میں جمع ہو جائیں(تو وہ دونوں مقدم ہوں گے) (تاریخ بغداد:14/91)

دوسری علت:اس حدیث کو ھشیم نے ابو ھاشم سے نہیں سنا ہے لہذا سند میں انقطاع ہے جیسا کہ تفصیلات گزر چکی ہے.

دوم: قبیصۃ عن الثوری عن ابی ھاشم کی سند:
اس میں بھی دو علتیں ہیں:
(1) قبیصہ گرچہ ثقہ ہیں مگر سفیان ثوری سے روایت کرنے میں وہ بالخصوص ضعیف ہیں.

(2) ضعیف ہونے کے باوجود انہوں نے عبد الرحمن بن مہدی, وکیع بن الجراح اور عبدالرزاق جیسے ائمہ ثقات کی مخالفت کی ہے..

خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث جمعہ کے ساتھ تخصیص کے بغیر موقوفا صحیح ہے جبکہ جمعہ کے ساتھ سورہ کہف کی تلاوت کی تخصیص شاذ اور ضعیف ہے..

اس کے علاوہ اس باب کی جتنی بھی مرفوع حدیثیں ہیں سب کے سب سخت ضعیف ہیں کیونکہ ان کی اسانید میں یا تو مجہول العین راوی ہے یا تو متروک کذاب اور ضعیف جدا راوی ہے یا سرے سے حدیث کی سند ہی نا معلوم ہے ..لہذا تمام حدیثیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بھی تقویت حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ تقویت پہنچانے اور متابع یا شاہد بننے کے لیے شرط ہے کہ ضعف خفیف ہو شدید نہ ہو مگر یہاں تو ابو سعید کی روایت کے علاوہ تمام حدیثیں ضعیف ترین ہیں.

اخیر میں بالاجمال میں چند چیزوں کا ذکر کروں گا:
اول:جمعہ کے دن خصوصیت کے ساتھ سورہ کہف کی تلاوت اور اس کی فضیلت کے سلسلے میں کوئی مرفوع صحیح حدیث موجود نہیں ہے.

دوم: جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت کے سلسلے میں صحابہ سے بھی کچھ مروی نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہے کہ صحابہ کرام اسے تلاوت کرتے تھے لہٰذا اگر جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت کی اس قدر فضیلت ہے تو صحابہ کرام کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے مگر ایسا نہیں ہے..

سوم:اس سلسلے میں تین تابعین کے آثار ملتے ہیں مگر وہ بھی ضعیف ہیں.

چہارم:میرے علم کے مطابق سب سے پہلے جنہوں نے جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت کی مشروعیت کی بات کہی ہے وہ امام شافعی ہیں پھر بعد والوں میں سے اکثر لوگوں نے ان کی موافقت کی ہے مخالفت کا علم نہ ہو سکا.

پنجم: جب اس سلسلے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے تو اس غایت درجہ اہتمام کے ساتھ جمعہ کے روز اس کی تلاوت بھی درست نہیں ہے..کیونکہ فضائل کا معاملہ توقیفی ہے اور اثبات توقیف دلیل کا متقاضی ہے.

ششم: اس حدیث کو معاصرین میں سے محدث الیمن مقبل بن ہادی الوادعی، ابو إسحاق الحويني(اخوانی) عبد اللہ السعد، عبد الرحمن الفقيه اور مصطفی العدوی (إخواني) وغیرہم نے شاذ اور ضعیف قرار دیا ہے امام ابن باز رحمہ اللہ نے بھی کئی مقامات پر مطلقا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ بعض مقامات پر فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں وارد تمام حدیثیں ضعیف ہیں مگر وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملکر قوت حاصل کر لیتے ہیں. مگر آپ کی یہ بات درست نہیں ہے جیسا کہ میں نے بالتفصیل یہ بات ثابت کیا ہے.

والله أعلم بالصواب.
 
.

جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کی فضیلت پر دلالت کرنے والی حدیث کی تحقیق

شیخ عبد اللہ بن فوزان بن صالح الفوزان
اسسٹنٹ پروفیسر کلیۃ المعلمین، ریاض

ترجمہ
ابو عبد العزیز محمد یوسف مدنی

جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کی فضیلت پر دلالت کرنے والی حدیث کی تحقیق (https://yusufmadani56.blogspot.com/2018/12/blog-post_24.html?m=1)

~~~~؛

تلاش و جستجو کے بعد اس مسئلہ میں صرف سات حدیثیں مل سکی ہیں، ان میں سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہی اصل ہے اور یہ دیگر چھ حدیثوں کی بہ نسبت زیادہ قوی ہے ، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
" وھو اقوی ماورد فی سورۃ الکہف"
یعنی سورۂ کہف کے بارے میں مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے زیادہ قوی ومضبوط ہے۔ (دیکھئے : فیض القدیر:6/198)۔
آئندہ سطور میں ان احادیث پر تفصیلی کلام پیش خدمت ہے:

پہلی حدیث:
ابو سعید خدروی رضی اللہ عنہ کی حدیث:
اس حدیث کی سند کا دارومدار ابو ھاشم(2) عن ابی مجلز (3)عن قیس بن عباد(4) عن ابی سعید(5) پر ہے۔ اور ابو ھاشم پر اس کے مرفوع وموقوف ہونے کے تعلق سے اختلاف واقع ہوا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

اس حدیث کو ابو ھاشم سے ان کے صرف چھ تلامذہ روایت کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں:

(1)
روایت سفیان ثوری(6): اسے عبد الرزاق(7) نے - اور ان کے طریق سے طبرانی (8)نے- اور ابن ابی شیبہ(9) ونعیم بن حماد (10)نے وکیع بن الجراح سے، اور نعیم بن حماد (11) ، نسائی(12) اور حاکم (13)نے عبد الرحمن بن مھدی کے طریق سے، نسائی(14) نے عبد اللہ بن المبارک کے طریق سے اور بیھقی(15) نے قبیصہ بن عقبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اور یہ پانچوں راوی: عبد الرزاق، وکیع، ابن مھدی، ابن المبارک ، قبیصہ نے اس حدیث کو سفیان عن ابی ھاشم کی سند سے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے موقوفا بایں لفظ روایت کیا ہے:

"من توضا، ثم فرغ من وضوئہ فقال: سبحانک اللھم وبحمدک ، اشھد ان لا الہ الا انت، استغفرک ، واتوب الیک، ختم علیھا بخاتم، ثم وضعت تحت العرش، فلم تکسر الی یوم القیامۃ ، ومن قرا سورۃ الکھف کما انزلت، ثم ادرک الدجال لم یسلط علیہ، ولم یکن لہ علیہ سبیل، ورفع لہ نور من حیث یقراھا الی مکۃ"۔

( جس نے وضو کیا ، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھی:" اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئي معبود بر حق نہیں، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ (رجوع) کرتا ہوں "، اس پر ایک مہر لگا دی جاتی ہے پھر وہ عرش کے نیچے رکھ دی جاتی ہے جسے قیامت تک توڑا نہیں جائیگا.
اور جس نے سورۂ کہف اسی طرح پڑھی جس طرح اتاری گئی ہے، پھر اس نے دجال کو پالیا تو وہ اس پر مسلط نہیں ہوگا اوردجال اس تک کسی بھی طریقہ سے پہنچ نہیں پائيگا، اور اس کے لیے ایک نور پڑھنے کی جگہ سے مکہ تک بلند کیا جائيگا)۔

یہ عبد الرزاق کے الفاظ ہیں، اور وکیع وابن المبارک نے وضو والے جملہ پر اور ابن مھدی اور قبیصہ نے قراءت سورت کے ذکر پر اکتفا کیا ہے ،نیز قبیصہ کے ذکر کردہ الفاظ میں کچھ اختلاف بھی واقع ہے۔
امام حاکم نے کہا: " اس حدیث کی سند صحیح ہے اس کے باوجود امام بخاری وامام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا ہے"۔
سفیان ثوری کے ایک شاگرد یوسف بن اسباط نے ان مذکورہ پانچوں شاگردوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس حدیث کو ان سے صرف وضو کے الفاظ کے ساتھ مرفوعا روایت کیا ہے۔
اس روایت کو معمری(16) ، ابن السنی(17)- ان کے طریق سے حافظ ابن حجر (18)نے- اور بیھقی (19) نے مسیب بن واضح سے اور اس نےیوسف بن اسباط سےروایت کیا ہے۔ لیکن یوسف بن اسباط کی روایت شاذ ہے کیونکہ مسیب بن واضح گرچہ صدوق ہے لیکن کثرت سے خطا کرتا ہے ۔ امام ابو حاتم کہتے ہیں : " یہ صدوق ہے لیکن بکثرت خطائیں کرتا تھا ، اور جب تنبیہ کی جاتی تو اسے قبول نہ کرتا "۔(20)
اور یہی حال اس کے شیخ یوسف بن اسباط شیبانی زاہد کا ہے، وہ بھی متکلم فیہ راوی ہے ، حدیث میں وہم کا شکار ہوتا ہے، کیونکہ وہ کتابوں کو دفن کردینے کے بعد اپنے حافظہ سے حدیث بیان کیا کرتا تھا ۔
ابن ابی حاتم کہتے ہیں :" میں نے اپنے والد ابو حاتم کو فرماتے ہوئے سنا کہ یوسف عبادت گزار آدمی تھا ، اس نے اپنی کتابوں کو زیر زمین دفن کردیا تھا ، اور بکثرت غلطی کیا کرتا تھا ، وہ صالح ونیکوکارشخص تھا لیکن اس کی حدیث لائق حجت نہیں ہے"۔(21)
ابن عدی کہتے ہیں :" یوسف میرے نزدیک صدوق راوی ہے، لیکن جب اس نے اپنی کتابوں کو کھودیا یعنی دفن کردیا تو اپنے حافظہ سے حدیث بیان کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے غلطیاں کرنے لگا اور حدیثیں گڈ مڈ ومشتبہ ہونے لگیں البتہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا"۔(22)
یہ جرح مفسر ہے جو ابن معین کا یوسف کو ثقہ قرار دینے پر مقدم ہے(23) اور یہ بھی ممکن ہے کہ امام ابن معین کی توثیق عدالت دینیہ پر محمول ہو۔
ہاں امام دار قطنی(24) کے بیان کے مطابق اس حدیث کو سفیان ثوری سے مرفوع روایت کرنے میں ابو اسحاق فزاری اور عبد الملک ذماری نے یوسف بن اسباط کی متابعت کی ہے۔
ابو اسحاق فزاری ابراھیم بن محمد بن بنی حارث کوفی ثقہ مامون اور حافظ ہیں(25) اور عبد الملک ذماری بن عبد الرحمن بن ھشام ابو ہشام ابناوی صدوق ہیں لیکن تصحیف کیا کرتے تھے ۔(26)
بنا بریں یہ دونوں راوی ثقہ تو ہیں لیکن ان دونوں تک کی سند معلوم نہیں ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ اس میں ان دونوں کے نیچے طبقہ میں کوئی علت اور سبب ضعف ہے یا نہیں ؟۔
بہر صورت جن راویوں نے اس حدیث کوثوری سے موقوف روایت کیا ہے وہ زیادہ ثقہ ہیں اور انہیں مرفوع روایت کرنے والے پر مقدم کرنا اولی اور زیادہ بہتر ہے ۔ اور کیوں ایسا نہ ہو؟جبکہ موقوف روایت کرنے والوں میں ابن مھدی، وکیع اور ابن المبارک جیسے اساطین روایت موجود ہیں۔ رحمھم اللہ تعالی۔
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ثوری سے اس حدیث کا موقوفا مروی ہونا ہی محفوظ ہے ، یہ اور بات ہے کہ ان کی روایت میں سورۂ کہف کا جمعہ کے دن پڑھنے کی تخصیص کا ذکر نہیں ہے۔

~~~~

(2)
روایت ھشیم بن بشیر(27): اسے ابو عبید القاسم بن سلام نے (28)- اور ان کے طریق سے ذھبی نے تاریخ اسلام میں (29)- اور دارمی نے (30)ابو النعمان محمد بن الفضل سدوسی سے ، ابن الضریس (31) نے - اور ان کے طریق سے خطیب بغدادی (32) نے احمد بن خلف بغدادی سے- ** ، عبد اللہ بن احمد (33) نے اپنے والد امام احمد سے ، اور بیھقی نے سنن کبری میں – معلقا- اور شعب الایمان (34) میں بطریق سعید بن منصور روایت کیا ہے۔ اور ان پانچوں راویوں (ابو عبید، ابو النعمان ، احمد، ابن خلف وسعید) نے ھشیم سے اور اس نے ابو ھاشم سے موقوفا بایں لفظ روایت کیا ہے: "من قرا سورۃ الکھف یوم الجمعۃ اضاء لہ من النور ما بینہ وبین البیت العتیق"۔

یہ الفاظ ابوعبید کے ذکر کردہ ہیں اور باقی راویوں کے الفاظ بھی قریب قریب یہی ہیں سوائے محمد بن الفضل کی روایت کے کہ اس میں " لیلۃ الجمعۃ" (35) کا ذکر ہے ، اور امام احمد کے الفاظ میں صرف وضو کا ذکر ہے۔
" اذا تؤضا الرجل فقال : سبحانک اللھم وبحمدک"۔
امام احمد کہتے ہیں : " ابو ھاشم سے ھشیم نے اس حدیث کو نہیں سنا ہے" ۔ لیکن مجھے ابو عبید ، دارمی اور بیھقی کے یہاں ایسے الفاظ ملے ہیں جن سےھشیم کی تحدیث کی صراحت معلوم ہوتی ہے اور یہ الفاظ عموما سماع کا احتمال رکھتے ہیں ، اور ھشیم تک ان کی سند بھی صحیح ہے ۔ البتہ ھشیم سے ان کے دیگر چند شاگردوں نے ان مذکورہ پانچوں شاگردان کی مخالفت کرتے ہوئے اس حدیث کو مرفوعا روایت کیا ہے، جسے حاکم(36) نے اور ان سے بیھقی(37) نے بطریق نعیم بن حماد، اور بیھقی نے سنن کبری میں معلقا اور شعب الایمان وفضائل الاوقات (38) میں موصولا یزید بن مخلد بن یزید کے طریق سے روایت کیا ہے اور نعیم ویزید کی متابعت حکم بن موسی نے کی ہے جیسا کہ امام دار قطنی نے ذکر کیا ہے۔ (39)
اور یہ تینوں (نعیم ، یزید وحکم) اسے ھشیم سے مرفوعا روایت کرتے ہیں البتہ نعیم نے اپنی روایت میں "اضا ء لہ من النور ما بین الجمعتین" کے الفاظ ذکر کئےہیں۔
امام حاکم کہتے ہیں :" اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اما م بخاری وامام مسلم نے صحت سند کے باوجود اسے روایت نہیں کیا ہے"۔
لیکن ھشیم سے اس کا موقوف مروی ہونا ہی محفوظ ہے کیونکہ موقوف روایت کرنے والے راوی ، مرفوع روایت کرنے والے کی بہ نسبت زیادہ ثقہ ہیں، چنانچہ نعیم بن حماد صدوق مگر کثرت سے خطا کرنے والا ہے(40)۔ اور یزید بن مخلد کو ابن ابی حاتم نے ذکر تو کیا ہے مگر جرح وتعدیل سے متعلق خاموشی اختیار کی ہے(41)، اور حکم بن موسی ابو صالح قنطری بغدادی صدوق ہے(42)۔
امام دار قطنی حکم بن موسی کی روایت کے بارے میں کہتے ہیں : "حکم کے علاوہ دیگر راویوں نے اسے ھشیم سے موقوفا روایت کیا ہے اور یہی صورت درست ہے "(43)۔
بیھقی کہتے ہیں :" یہ حدیث موقوفا ہی محفوظ ہے"(44)۔
حافظ ذھبی امام حاکم کی تصحیح مذکور کا یوں تعاقب فرماتے ہیں :" نعیم منکر حدیثیں روایت کرنے والا ہے"۔

~~~~

(3)
روایت شعبہ بن الحجاج(45): اسے نسائی(46) ، طبرانی(47)- اور ان کے طریق سے ابن حجر نے " نتائج الافکار میں(48)- ، حاکم(49) اور ان سے بیھقی(50) نے متعدد طرق کے ساتھ یحیی بن کثیر سے نیز بیھقی نے عبد الصمد بن عبد الوارث (51) کے طریق سے اور دار قطنی نے ربیع بن یحیی (52) سے معلقا اور ان تینوں (یحیی، عبد الصمد، ربیع) نے شعبہ سے سفیان ثوری کی روایت کی طرح مرفوع روایت کیا ہے ۔
حاکم کہتے ہیں : "یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن امام بخاری وامام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔ اور ابو ھاشم سے سفیان ثوری نے اسے موقوفا روایت کیا ہے۔"
لیکن مذکورہ تینوں راویوں کی مخالفت کرتے ہوئے شعبہ کے دیگر تلامذہ نے اسے ان سے موقوف طور پر ہی روایت کیا ہے۔
چنانچہ نسائی نے بطریق غندر محمدبن جعفر(53) ، طبرانی نے"الدعاء" میں بطریق عمروبن مرزوق (54)اور بیھقی نے معلق طور پر بطریق معاذ بن معاذ (55)روایت کیا ہے، اور ان تینوں (غندر، عمرو ، معاذ) نے شعبہ سے موقوفا روایت کیا ہے، اور یہی طریق محفوظ ہے کیونکہ موقوف روایت کرنے والے مرفوع روایت کرنے والوں کی بہ نسبت زیادہ ثقہ ہیں ۔ چنانچہ غندر محمد بن جعفر جمہور ناقدین حدیث کے قول کے مطابق شعبہ کے شاگردوں میں سب سے زیادہ ثقہ ہیں اور معاذ بن معاذ بھی شعبہ کے ثقہ شاگردوں میں سے ہیں (56)۔ اور جن روایوں نے شعبہ سے اس حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے وہ ان کے کبار تلامذہ میں سے نہیں ہیں ، لہذا از روئے فن حدیث مرفوع روایت کرنے والوں کی روایت کو موقوف روایت کرنے والوں کی روایت پر مقدم نہیں کیا جائیگا۔
یحیی بن کثیر بن درہم العنبری مولا ھم ابو غسان البصری ثقہ ہیں (57) اور عبد الصمد بن عبد الوارث التمیمی العنبری مولاھم ابو سہل البصری صدوق ہیں نیز شعبہ سے روایت کرنے والوں میں ثبت ( سب سے زیادہ لائق اعتماد ) (58) ہیں ،لیکن ان تک سند ہی صحیح نہیں ہے اور ربیع بن یحیی بن مقسم الاشنانی ابو الفضل البصری صدوق تو ہیں لیکن ان کے کچھ اوہام بھی ہیں (59)، امام ابو الحسن دار قطنی فرماتے ہیں :"کہا گیا ہے کہ یہ حدیث شعبہ سے بطریق ربیع بن یحیی مرفوعا روایت کی گئی ہے لیکن یہ صحیح وثابت نہیں ہے" ۔ (60)
بنابریں ائمہ ناقدین حدیث نے شعبہ کے طریق سے اس حدیث پر موقوف ہونے کا حکم لگا یا ہے ،چنانچہ امام نسائی فرماتے ہیں : "یہ حدیث (مرفوعا)خطا ہے اور اس کا موقوف ہونا صحیح ہے"(61)، طبرانی نے فرمایا : "شعبہ سے یحیی بن کثیر نے مرفوع روایت کیا ہے جبکہ ديگر راویوں نے موقوف روایت کیا ہے"(62)، دار قطنی کہتے ہیں : " شعبہ سے اسے غندر اور دیگر شاگردوں نے موقوفا بیان کیا ہے"۔(63)

~~~~

(4)
روایت روح بن القاسم(64): اسے ابو اسحاق المزکی(65) نے اپنی کتاب "الفوائد(66) میں اور ان کے طریق سے حافط ابن حجر نے(67) ، بطریق عیسی بن شعیب عن روح عن ابی ھاشم بہ مرفوعا روایت کیا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"من قال حین یفرغ من وضوئہ:سبحانک اللھم وبحمدک ، اشھد ان لا الہ الا اللہ ، استغفرک واتوب الیک ، کتب فی رق وطبع بطابع ووضع تحت العرش حتی تدفع الیہ یوم القیامۃ"۔
امام دارقطنی نے "جزء فوائد المزکی" کی تخریج میں فرمایا : "روح بن القاسم سے یہ حدیث غریب ہے جسے روایت کرنے میں عیسی بن شعیب متفرد ہے"۔(68)
حافظ ابن حجر" نتائج الافکار"(69) میں کہتے ہیں: " عیسی صدوق ہے جیسا کہ امام بخاری نے فلاس کے حوالہ سے نقل کیا ہے"۔
اور عیسی بن شعیب النحوی ابو الفضل البصری الضریر کے بارے میں الفلاس کہتے ہیں :" بصرہ کارہنے والا صدوق راوی ہے"۔
ابو حاتم ابن حبان کہتےہیں:" خطا کرنے والوں میں سے تھا یہانتک کہ اس کی خطائیں بہت زیادہ ہوگئیں ،پس جب اس کے اوہام حدیثوں پر غالب آگئے تو قابل ترک بن گیا "(70)۔
اور ابن الجوزی نے اسے "الضعفاء" میں اور ذھبی نے " المغنی" (71) میں ذکر کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے اس کے متعلق" صدوق لہ اوھام" (72) کہاہے۔
اس سند میں عیسی بن شعیب کے نیچے طبقہ میں ایک اور علت ہے اور وہ ہے ابو اسحاق المزکی کے شیخ ابن الازھراحمد بن محمدبن الازھر الازھری السجزی کا وجود ، جس کے بارے میں ابن حبان نے کہا ہے: "یہ حفظ حدیث کا اہتمام کرنے والوں میں سے تھا اور محدثیں کے دوش بدوش چلتا تھا اور ابواب حدیث میں جس باب کا بھی اس کے لیے ذکر کیا جاتا وہ اس باب میں ثقہ راویوں کے حوالہ سے غریب حدیثیں بیان کرتا اور ثقہ وثبت راویوں سے ایسی حدیثیں روایت کرتا کہ ان پراس کی متابعت نہیں کی جاتی "(73)۔
ابن عدی نے کہا:" اس نے منکر حدیثیں بیان کررکھی ہے " (74) ، ابو الحسن الدارقطنی کہتے ہیں :" یہ منکر الحدیث سے لیکن مجھے ابن خزیمہ کے سلسلہ میں یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے ۔ اور یہ بات اس کے فخر کیلئے کافی ہے "۔(75)
تفصیل بالا سے یہ واضح وظاہر ہے کہ ابو ھاشم سے روح کی روایت صحیح نہیں ہے ۔

~~~~

(5)
روایت ولید بن مروان:اسے ابو بکر شافعی(77-76) اور طبرانی (78) نے عمروبن عاصم الکلابی عن الولیدعن ابی ھاشم کے طریق سے مرفوعا بایں لفظ روایت کیا ہے:" من قال اذا توضا: بسم اللہ واذا فرغ قال : سبحانک اللھم وبحمدک ، اشھد ان لا الہ الا انت ، استغفرک،واتوب الیک، طبع علیھا بطابع ثم وضعت تحت العرش فلم تکسر الی یوم القیامۃ"۔
یہ سند ضعیف ہے کیونکہ ولید بن مروان مجہول ہے ۔ ابو حاتم نے اسے مجہول قرار دیا ہے(79) اور ابن الجوزی نے اسے "الضعفاء" اور ذھبی نے" المغنی" اور"الدیوان" میں ذکر کیا ہے، ذھبی نے کہا:" یہ مجہول راوی ہے"۔(80)

~~~~

(6)
روایت قیس بن الربیع: اسے طبرانی(81)نے بطریق یحیی بن عبد الحمید - اور ابو نعیم نے "عمل الیوم واللیلۃ "(82) میں معلقا- قیس عن ابی ھاشم کی سند سے مرفوعا بایں لفظ روایت کیا ہے:
"من قال اذا توضا: بسم اللہ واذا فرغ قال : سبحانک اللھم وبحمدک ، اشھد ان لا الہ الا انت ، استغفرک،واتوب الیک، طبع علیھا بطابع ثم وضعت تحت العرش فلم تکسر الی یوم القیامۃ"۔
یہ طریق بھی ضعیف ہے کیونکہ یحیی بن عبد الحمید باوجود یکہ حافظ حدیث تھا مگر اس پر سرقۂ حدیث (حدیث چرانے) کا الزام تھا(82) ، اور قیس بن الربیع کے بارے میں حافظ ابن حجر کا کہنا ہے: " صدوق ہے لیکن سن رسیدہ ہونے کیوجہ سے تغیر حفظ کا شکار ہوگیا تھا ،چناچہ اس کے بیٹے نے دوسروں کی حدیثوں کو اس کی حدیثوں میں داخل کردیا تھا اور اس نے انہیں (اپنی سمجھ کر )روایت بھی کردیا"۔ (83)

خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث کا ابو سعید خدری پر موقوف ہونا ہی راحج ہے ، اور اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ہے ، امام نسائی نے موقوف ہی کو ترجیح دی ہے۔ جیسا کہ ماسبق میں منقول ہوا ۔ اور بیھقی نے کہا: "مشہور یہ ہیکہ یہ حدیث موقوف ہے" (84) ۔ امام ابو نعیم نے مرفوع حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا : "سعید بن منصور نے اسے ابو سعید خدری سے موقوفا روایت کیا ہے اور یہی اشبہ (زیادہ صحیح) ہے (85)۔ امام ذھبی کہتے ہیں :" اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے"۔ (86) ،حافظ ابن حجر نے کہا:" اس حدیث کے مرفوع وموقوف ہونے کے بارے میں اختلاف ہے، نسائی نے موقوف کو صحیح قرار دیا ہے اور حازمی نے مرفوع روایت کی تضعیف کی ہے.... اور دارقطنی نے بھی "العلل" میں موقوف ہی کو ترجیح دی ہے"۔
حافط ابن حجر ، امام نووی کا اس بات پر کہ حدیث موقوف ومرفوع دونوں حالت میں ضعیف ہے ، رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " رہی بات مرفوع حدیث کی تو اسے اختلاف وشذوذ کی بنا پر ضعیف قرار دینا ممکن ہے موقوف روایت بلاشبہ صحیح ہے"(87)۔
حافظ نے یحیی بن کثیر عن شعبہ کے طریق کے متعلق فرمایا: "بلا شبہ سندصحیح ہے اور حقیقت میں اختلاف تو متن حدیث کے مرفوع اور موقوف ہونے کے بارے میں ہے، چنانچہ امام نسائی نے اپنی ردش پر چلتے ہوئے راویوں کی کثرت تعداد اور زیادتی حفظ کے لحاظ سے ترجیح دیتے ہوئے مرفوع روایت کے غلط وخطا ہونے کا حکم لگا ہے ۔لیکن ابن الصلاح وغیرہ کی پیروی میں نووی کے طریقہ کے مطابق حدیث کا مرفوع ہونا مقدم ہے کیونکہ مرفوع روایت کرنے والے راوی کے پاس زیادتی علم ہے ۔ اور دوسرے طریقہ (موقوف کو ترجیح دینے کی صورت) پر عمل کی صورت میں چونکہ اس موقوف روایت میں رائے واجتہاد کا کوئی دخل نہیں ہے اس لیے وہ مرفوع کے حکم میں ہوگا واللہ اعلم"۔(88)
دمیا طی کہتے ہیں :"گرچہ (اسنادی حیثیت سے ) موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے۔ کیونکہ اس طرح کی بات رائے واجتہاد سے نہیں کہی جاسکتی ہے "۔(89) واللہ اعلم۔
میں کہتا ہوں: ان ائمہ کے کلام کا تعلق "الدعاء بعد الوضوء" (وضو کے بعد کہی جانے والی دعا) والے جملہ پر حکم لگانے سے ہے اور بلاشبہ یہ جملہ اور باقی الفاظ حدیث ایک ہی سند سے مروی ہیں۔ البتہ سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت کی تخصیص جمعہ کے دن یا رات کے ساتھ کرنے والی بات کو ابو ھاشم سے روایت کرنے میں ھشیم اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلہ میں تنہا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے اجمالی طور پر ہر راوی کے الفاظ ذکر کئے جارہے ہیں:

1-2 روایت ثوری کے الفاظ: "من توضا، ثم فرغ من وضوئہ فقال: سبحانک اللھم وبحمدک ، اشھد ان لا لہ الا انت، استغفرک ، واتوب الیک، ختم علیھا بخاتم، ثم وضعت تحت العرش، فلم تکسر الی یوم القیامۃ ، ومن قرا سورۃ الکھف کما انزلت، ثم ادرک الدجال لم یسلط علیہ، ولم یکن لہ علیہ سبیل، ورفع لہ نور من حیث یقر ھا الی مکۃ" اور شعبہ کے الفاظ بھی اسی جیسے ہیں ۔

3 - روایت ھشیم کے الفاظ: " من قرا سورۃ الکھف یوم الجمعۃ اضاء لہ من النور ما بینہ وبین البیت العتیق"۔

4- روایت روح بن القاسم کے الفاظ: سبحانک اللھم وبحمدک ،اشھد ان لا الہ الا انت ، استغفرک واتوب الیک ، کتب فی رق وطبع بطابع ووضع تحت العرش حتی تدفع الیہ یوم القیامۃ"۔

5-6 روایت ولید بن مروان کے الفاظ: من قال اذا توضا: بسم اللہ واذا فرغ قال : سبحانک اللھم وبحمدک ، اشھد ان لا الہ الا انت ، استغفرک،واتوب الیک، طبع علیھا بطایع ثم وضعت تحت العرش فلم تکسر الی یوم القیامۃ"۔
قیس بن الربیع کےالفاظ بھی یہی ہیں ۔

خلاصہ یہ کہ ھشیم کی روایت میں وارد"یوم الجمعۃ" کی قید کے سلسلہ میں دل مطمئن نہیں ہے جو ہمیں اس کے ثبوت کا قطعی فیصلہ کرنے سے روک رہا ہے۔ اور اسے ثقہ کی زیادتی کہنا بھی ممکن نہیں ہے کہ جسکا قبول کرنا واجب ہو کیونکہ یہ نہ متقدمین ائمہ فن کے طریقہ کے مطابق ہے اور نہ ہی ان پختہ کار ماہرین علل حدیث کے قواعد واصول کے موافق ہے جو راوی کی حدیث پر طعن کرتے ہیں اور اس کی روایت کو مخالفت کی صورت میں معلول قرار دیتے ہیں ، اور پھر کیا ثقہ کے ضبط واتقان کی معرفت اس سے بہتر واعلی یا اسی طرح کے روای کی موافقت کے بغیر ممکن بھی ہے؟ واللہ تعالی اعلم۔

~~~~~~~~
~~~~~~~~

دوسری قسط

دوسری حدیث:
حدیث علی ابن ابی طالب: اسےابن مردویہ (90) نے - اور ان کے طریق سے ضیاء مقدسی نے مختارہ میں (91)- محمد بن احمد بن الحسن بن اسحاق کے طریق سے ، اور ابو الفضل عبید اللہ بن عبد الرحمن الزھری نے (92)- ان کے طریق سے ضیاء مقدسی نے مختارہ میں (93)- روایت کیا ہے اور ان دونوں (محمد و ابو الفضل) نے اسے بطریق ابراھیم بن عبد اللہ بن ایوب المخرمی ثنا سعید بن محمد الجرمی ثنا عبد اللہ بن مصعب بن منظور بن زید بن خالد عن علی بن الحسین عن ابیہ عن علی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :
"من قرا سورۃ الکھف یوم الجمعۃ ، فھو معصوم الی ثمانیۃ ایام، من کل فتنۃ تکون، وان خرج الدجال عصم منہ" روایت کیا ہے۔

( جس نے جمعہ کے روز سورۂ کہف پڑھی وہ آٹھ دن تک ہر ہونے والا فتنہ سے معصوم و محفوظ رہیگا، اور اگر دجال کا ظہور ہوجائے تو اس کے فتنہ سے بھی محفوظ رہیگا )۔

یہ سند ضعیف ہے کیوکنہ اس کا مدار عبد اللہ بن مصعب پر ہے اور وہ مجہول ہے، عبد الحق اشبیلی کہتے ہیں : اس کی سند مجہول ہے (94)۔ حافظ عراقی نے ابن عساکر سے نقل کیا کہ عبد اللہ بن مصعب اور اس کا باپ مصعب دونوں مجہول ہیں (95)۔ اسے ابو الحسن ابن القطان (96)، ذھبی(97) اور ابن حجر(98) نے بھی مجہول قرار دیا ہے۔ ضیاء مقدسی نے اس حدیث کی روایت کے بعد کہا ہے کہ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ (99)

تیسری حدیث:
حدیث عبد اللہ بن عمر: اسے روایت کیا ہے ابن مردود (101)- ان کے طریق سے ضیاء مقدسی (102)- نے بطریق محمد بن علی بن یزید بن سنان عن اسحاق بن ابراہیم المنجنیقی عن اسماعیل بن خالد المقدسی عن محمد بن خالد البصری عن خالد بن سعید بن ابی مریم عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من قرا سورۃ الکھف فی یوم الجمعۃ سطع لہ نور من تحت قدمہ الی عنان السماء، یضئ یوم القیامۃ وغفرلہ ما بین الجمعتین"۔

( جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے گا اس کے قدم کے نیچے سے لیکر بلندی آسمان تک ایک نور چمکے گا ، جو روز قیامت روشن ہوگا اور اس کے لیے دو جمعہ کے درمیان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے)۔

حافظ ذھبی نے(103) نے اسے معلقا بطریق اسماعیل بن ابی خالد المقدسی حدثنا محمد بن خالد البصری(104) حدثنا خالد بن سعید بن ابی مریم ذکر کیا ہے۔
یہ سند ضعیف ہے کیونکہ اس کا مدار خالد بن سعید بن ابی مریم پر ہے اور یہ مجہول ہے۔ ابن حجر نے ابن المدینی سے ان کا یہ قول نقل کیا ہےکہ ہم اس راوی کو نہیں پہنچانتے ہیں (105)۔ اور ابو الحسن ابن القطان نے بھی مجہول قرار دیا ہے۔(106) اور اگر ذھبی کی ذکر کردہ معلق سند ابن مردویہ والی ہی سند ہو تو اس میں ایک اور علت ہے اور وہ یہ کہ محمد بن خالد البصری الختلی کو محدثین نے کذاب(پرلے درجہ کا ردغ گو )کہا ہے۔ (107)
ابن حجر نے ذکر کیا ہے کہ ذھبی نے" تلخیص المستدرک " میں کہا ہے کہ " احسب محمد بن خالد وضعہ" میرے خیال میں محمد بن خالد نے اس حدیث کو گھڑا ہے !۔(108)
بہر حال یہ حدیث موضوع نہیں تو سخت ضعیف ضرور ہے! اس لیے حافظ منذری کا یہ قول تعجب خیز ہےکہ اسے ابو بکر بن مردویہ نے "لا باس بہ" سند یعنی ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں کوئی خرابی نہیں ہے، (109) نووی نے اسے "مجموع"(110) میں ضعیف کہا ہے۔ اور ابن کثیر نے فرمایا : حافظ ابو بکر بن مردویہ نے اسے غریب اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کا مرفوع ہونا محل نظر ہے اور اس کی سب سے اچھی حالت موقوف ہونا ہے۔(111) ، مناوی کہتے ہیں : ضیاء مقدسی نے ابن عمر سے جو مرفوع روایت" من قرا یوم الجمعۃ" روایت کی ہے اس کی سند میں محمد بن خالد ہے جسے ابن مندہ وغیرہ نے مطعون ومجروح قرار دیا ہے جبکہ منذری پر "ترغیب" میں اس کا حال مخفی رہا تو انہوں نے اسے "لا باس بہ" قرار دیدیا، اور یہ احتمال بھی ہے کہ انہوں نےشواہد کےپیش نظر ایسا کہہ دیا ہو۔ (112)
شیخ البانی نے بھی ابن کثیر کے قول پر اعتماد کرتے ہوئے منذری کے کلام کا رد کیا ہے (113)۔

چوتھی حدیث:
حدیث ام المؤمنین عائشہ: اسے ابن مردویہ(114) نے عائشہ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا:"قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : الا اخبرکم بسورۃ ملا عظمتھا ما بین السماء والارض، ولکاتبھا من الاجر مثل ذلک، ومن قراھا یوم الجمعۃ غفرلہ ما بینہ وبین الجمعۃ الاخری، وزیادۃ ثلاثۃ ایام، ومن قرا الخمس الاواخر منھا عند نومہ بعثہ اللہ من ای اللیل شاء؟ قالوا: بلی یا رسول اللہ ، قال: سورۃ اصحاب الکھف"۔

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ایسی سورت کی خبر نہ دوں جس کی عظمت نے آسمان وزمین کے خلاکو پر کردیا ہے اور اس کے لکھنے والے کو اسی کے مثل اجر ملے گا ۔ اور جو شخص اسے جمعہ کے دن پڑھے گا تو اس کے وہ گناہ معاف کردیئے جائیں گےجنہیں وہ اس جمعہ سے لیکر اگلے جمعہ تک انجام دے گا ،بلکہ مزید تین دنوں کے گناہ بھی بخش دیئے جائیں گے۔ اور جو شخص اس سورت کی آخری پانچ آیتوں کو سونے کے وقت پڑھے گا اسے اللہ تعالی رات کے جس حصہ میں چاہیگا اٹھائیگا؟ صحابہ کرام نے کہا! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائیں! فرمایا : وہ سورہ غار والوں کی سورت ہے)۔

اس کی سند سے میں واقف نہ ہوسکا کہ اس پر حکم لگا سکوں! البتہ اس کے الفاظ میں کچھ خرابیاں ہیں۔

پانچویں و چھٹی حدیث:
حدیث ابن عباس و ابوھریرہ:
غزالی نے "احیاء العلوم " میں کہا کہ ابن عباس وابوھریرہ کی حدیث میں ہے: " من قرا سورۃ الکھف لیلۃ الجمعۃ، او یوم الجمعۃ اعطی نورا ، من حیث یقراھا الی مکۃ ، وغفرلہ الی یوم الجمعۃ الاخری، وفضل ثلاثۃ ایام ، وصلی علیہ سبعون الف ملک حتی یصبح، وعوفی من الداء ، والدبیلۃ، وذات الجنب، والبرص، والجذام، وفتنۃ الدجال"۔(115)

(جس نے جمعہ کی شب یا دن میں سورۂ کہف پڑھی اسے پڑھنے کی جگہ سے مکہ تک ایک نور عطا ہوگا ، اور دوسرے جمعہ بلکہ مزید تین دنوں تک کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور اس کے لیے صبح تک سترہزار فرشتے مغفرت کی دعائیں کرتے رہیں گے ۔ اور اسے بیماری، بڑی آفت و مصیبت، نمونیا، سفید داغ ، کوڑھ اور دجال کے فتنہ سے عافیت نصیب ہوگی)۔
حافظ عراقی کہتے ہیں :یہ حدیث مجھے نہیں ملی(116) ، زبیدی نے حدیث ابو ھریرہ کے بارے میں کہا: اس کی سند میں اسماعیل بن ابی زیاد متروک راوی ہے ، اسے دارقطنی نے کذاب کہا ہے ، اور حدیث ابن عباس کو ابو الشیخ اصبہانی نے روایت کیا ہے ۔ (117) اور پٹنی نے ابن عباس کی حدیث کے بارے میں کہا: اس کی سند میں اسماعیل کذاب راوی ہے ، اس کے علاوہ اس میں دو اور مجروح وضعیف راوی ہیں۔(118)
مجھے نہیں معلوم کہ حدیث ابن عباس کی سند میں یہ اسماعیل کونسا راوی ہے؟ اور شوکانی نے صحابی کے ذکر کے بغیر اسی طرح کی ایک حدیث کے بارے میں فرمایا : یہ ایک طویل موضوع حدیث ہے۔ (119)

ساتویں حدیث:
حدیث اسماعیل بن رافع: اسے ابن الضریس نے"فضائل القرآن"(120) میں عن یزید بن عبد العزیز الطیالسی عن اسماعیل بن عیاش عن اسماعیل بن رافع قال: بلغنا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: فذکر نحوہ۔ کہہ کر روایت کیا ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں : یہ معضل سند ہے۔(121)
ابو المھلب الجرمی کا اثر(122):اسےابن الضریس(123) نے عن محمد بن مقاتل المروزی عن خالد الواسطی عن الجریری عن ابی المھلب قال: من قرا سورۃ الکھف فی یوم الجمعۃ کان لہ کفارۃ الی الجمعۃ الاخری" کی سند ومتن کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

(ابو المھلب نے کہا: جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے گا اس کے لیے دوسرے جمعہ تک کفارہ ہوگا)

اس کی سند "لا باس بہ " ہے یعنی اس میں کوئي خرابی نہیں ہے۔

(مترجم :تحقیق مذکور کا خلاصہ یہ ہیکہ جمعہ کے دن کی قید کے ساتھ مذکورہ فضیلت ثابت نہیں ہے ۔)

.............................................

حوالہ جات:
(1) دیکھئے: فیض القدیر؛6/198

(2) یہ رمانی واسطی ہے ۔ ابن معین، احمد، ابوزعہ، نسائی اور دارقطنی وغیرہ نے ثقہ کہا ہے۔ (تاریخ کبیر:8/271، جرح وتعدیل:9/140، تھذیب الکمال:34/362،سیراعلام النبلاء:6/152، تھذیب التھذیب: 12/261، تقریب :8492)

(3)لا حق بن حمید سدوسی ثقہ حافظ ہیں۔ (تاریخ کبیر: 8/258، جرح وتعدیل:9/124، ثقات:5/518، تھذیب الکمال:3/176، تھذیب التھذیب:11/ 171، تقریب :7540)

(4) قیس ضبعی ابو عبد اللہ بصری ثقہ مخضرم صالحین میں سے ہیں۔ (تاریخ کبیر:7/145، جرح و تعدیل: 7/101 ، ثقات:5/308، تھذیب الکمال:24/ 64، تھذیب التھذیب:8/400، تقریب:5617)

(5) سعد بن مالک بن سنان خزرجی انصاری مشہور صحابی رسول ہیں ۔ (تاریخ کبیر:4/44، جرح وتعدیل :4/93، استیعاب:2/602، تھذیب الکمال:10/ 294، السیر:3/168،تھذیب التہذیب:3/479، تقریب:2266، الاصابۃ:3/78)

(6) امام حافظ حجۃ، امیر المؤمنین فی الحدیث۔ (تاریخ کبیر: 4/92، جرح وتعدیل :1/55، تھذیب الکمال: 11/ 154، تذکرۃ الحفاظ:1/203، السیر:7/229، تھذیب التھذیب :4/111، تقریب :2458)

(7) المصنف:1/186ح:730، اور 3/378 ح: 6023۔

(8) الدعاء: 1/141ح:391

(9) المصنف:1/3،نیز10/450۔

(10) الفتن:2/264ح:1579

(11)الفتن:2/264ح:1582

(12)9/348ح:10724، عمل الیوم واللیۃ رقم: 954

(13) المستدرک:1/564- 565 نیز4/511

(14) السنن الکبری:9/37ح:9831 ، عمل الیوم واللیلۃ رقم:83

(15)شعب الایمان :2/112 ح:3038

(16) یہ امام حافظ علامہ ابو علی حسین بن علی بن شبیب معمری بغدادی ہیں۔ دارقطنی نے "صدوق حافظ" کہا ہے۔ خطیب کہتے ہیں : حاملین علم میں سے تھے ۔ فہم وحفظ کے ساتھ مشہور ومتصف تھے ۔ ان کی حدیثوں میں غرائب اور کچھ ایسی چیزیں ہیں جنہیں روایت کرنے میں وہ منفرد ہیں ۔(تاریخ بغداد:7/369،تذکرۃ الحفاظ:2/667)۔ ان کی روایت کے لیے دیکھئے: النکت الظراف:3/447)

(17) عمل الیوم واللیلۃ:ص17- 18 ح:30

(18) نتائج الافکار:1/247- 248۔

(19) الدعوات الکبیر:1/42ح:59۔

(20) دیکھئے: الجرح والتعدیل؛8/294۔

(21) الجرح والتعدیل:9/218۔

(22) الکامل فی ضعفاء الرجال:7/159، دیکھئے : الضعفاء للعقیلی:4/454، المغنی فی الضعفاء: 7228، تھذیب التھذیب:11/407۔

(23) دیکھئے :سوالات عثمان الدارمی لابن معین رقم:874

(24) علل الدارقطنی :11/308۔

(25) دیکھئے : تھذیب الکمال:2/167، تقریب التھذیب:232۔

(26) دیکھئے : تھذیب الکمال:18/335، تقریب التھذیب:4219۔

(27) ھشیم بن بشیر سلمی ابو معاویہ واسطی ثقہ حافظ کثیر التدلیس والارسال الخفی ہیں۔ (تاریخ کبیر:8/242، جرح وتعدیل:9/115، تھذیب الکمال:3/272، تذکرۃ الحفاظ:1/148، سیر اعلام النبلاء:8/287، تھذیب التھذیب :11/59، تقریب :7362)۔

(28) فضائل القرآن ص 131

(29)7/693۔

(30) 4/2143ح:3450

(31) فضائل القرآن ص99 رقم 211

(32) تاریخ بغداد:4/134
احمد بن خلف بغدادی کے بارے میں خطیب نے کہا: "یہ ہمارے نزدیک غیر معروف شیخ ہے " ،اس کی روایت میں ابو ھاشم کا ذکر ساقط ہے ، شاید تصحیف ہوگئی ہوگی۔

(33) العلل ومعرفۃ الرجال:2/251رقم:2153

(34) السنن الکبری:3/249، شعب الایمان:2/ 474 ح2444،

(35) فیض القدیر (6/199) میں کہا ہے کہ حافظ ابن حجر نے "امالی" میں فرمایا :" کچھ روایات میں اسی طرح "یوم الجمعۃ " اور کچھ روایتوں میں "لیلۃ الجمعۃ" واقع ہے اور دونوں میں جمع وتطبیق یوں ہے کہ یوم (دن ) سے رات سمیت اور رات سے دن سمیت مراد ہے۔ نیز دیکھئے : الفتوحات الربانیۃ:4/229۔

(36) المستدرک : 2/368۔

(37) السنن الکبری:3/249، السنن الصغری:1/ 235ح:606۔

(38) السنن الکبری:3/249، شعب الایمان :2/ 475 ح:2445، نیز 3/112 ح:3039،فضائل الاوقات : 1 / 502 ح :279

(39) العلل: 11/308

(40) دیکھئے: تھذیب الکمال:29/466، تقریب التھذیب:7215

(41) دیکھئے : الجرح والتعدیل:9/291

(42) دیکھئے:تھذیب الکمال:7/136، التقریب: 1470۔

(43) العلل:11/308۔

(44) شعب الایمان :2/474۔

(45) شعبہ بن الحجاج عتکی ازدی ابو بسطام واسطی ،ثقہ، حافظ، متقن، امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں ۔ (تاریخ کبیر:4/244،جرح وتعدیل:1/126، تھذیب الکمال:12/479، تذکرۃ الحفاظ:1/193، السیر:7/202 ، تھذیب التھذیب:4/338، التقریب:2805۔

(46) السنن الکبری :9/348 ح10722 ، عمل الیوم واللیلۃ :952

(47) المعجم الاوسط:2/271ح:1478۔

(1/248) (48)

(49) المستدرک:1/564

(50)شعب الایمان:3/21ح 2754۔

(51) شعب الایمان:2/21 ح 2754

(52) العلل :11/308

(53) السنن الکبری 9/348 ح 10733، عمل الیوم واللیلۃ 953۔

(54) الدعاء 1/140 ح 388۔

(55) شعب الایمان 3/21

(56)دیکھئے : شرح علل الترمذی:2/702- 705

(57) دیکھئے : تھذیب الکمال:31/499، التقریب: 7679۔

(58) دیکھئے ؛ تھذیب الکمال:18/99، التقریب: 4108

(59) دیکھئے : تھذیب الکمال:9/106، التقریب: 1913

(60) العلل 11/308

(61) السنن الکبری 9/348، عمل الیوم واللیلۃ ص528 ، حاشیہ نمبر:953۔

(62) الدعاء: ص 141

(63) العلل : 11/308۔

(64) روح بن القاسم تمیمی عنبری ابو غیاث بصری۔ انہیں ابن معین، احمد، ابو زرعہ، ابو حاتم، دارقطنی اور ابن شاھین وغیرہ نے ثقہ کہا ہے۔(تاریخ کبیر:3/309، جرح وتعدیل: 3/495، تھذیب الکمال: 9/252، تذکرۃ الحفاظ11/188، السیر: 6/404۔ تھذیب التھذیب:3/298، التقریب:1981۔

(65) محدث ، حافظ ابراہیم بن محمد بن یحیی بن سختویہ ابو اسحاق المزکی النیسابوری ہیں ،خطیب کہتے ہیں : آپ ثقہ ثبت تھے، بہت سی حدیثیں روایت کرنے والے ، بار بار حج کرنے والے تھے ، امام دار قطنی نے ان کی چنند ہ حدیثوں کو لیا ہے ۔ اور لوگوں نے ان سے بہت سارا علم قلمبند کیا ہے " ۔ (تاریخ بغداد:6/168، سیر اعلام النبلاء:16/163)

(66) الفوائد المنتقاۃ الغرائب العوالی ، تخریج الحافظ الدار قطنی ق (51 /ا)

(67) نتائج الافکار (1/258- 259)

(68) الفوائد المنتقاۃ ق (51/ا)

(69) نتائج الافکار (1/259)

(70)دیکھئے :تاریخ کبیر:6/407

(71) المجروحین:2/120

(72) دیکھئے: ضعفاء ابن الجوزی:2/239، المغنی فی الضعفاء(4804)

(73) التقریب: 5333

(74) المجروحین :1/163۔

(75) الکامل : 01/202

(77 - 76) سوالات السلمی للدار قطنی (61) دیکھئے : المیزان: (1/130) ، المغنی فی الضعفاء (406)
ابو بکر شافعی محدث عراق محمد بن عبد اللہ بغدادی بزار ہیں ، دار قطنی نے کہا :"ثقہ مامون اور علم کے پہاڑ ہیں ۔ ان کے وقت میں ان سے زیادہ کوئی ثقہ نہ تھا " ۔ (تاریخ بغداد: 5/456، تذکرۃ الحفاظ:3/880، السیر:16/39)۔

(78) الفوائد (3/1/257/1)

(79) الدعاء (1/141 ح :389)

(80)دیکھئے : الجرح والتعدیل(9/18)

(81) دیکھئے : ضعفاء ابن الجوزی (3/187) ، دیوان الضعفاء (4567)، میزان الاعتدال 4/347، المغنی (6889)، لسان المیزان(8/390)

(82) الدعاء (1/140) ح (388)

(83) دیکھئے : النکت الظراف (3/447)

(84) دیکھئے : تھذیب الکمال (31/419)، التقریب (7641)

(85) التقریب رقم(5608) ، دیکھئے : تھذیب الکمال 24/25)، تھذیب التھذیب :8/391

(86) الدعوات الکبیر (1/42)

(87) زاد المعاد (1/376)

(88) المھذب فی اختصار السنن الکبیر (3/1181)

(89) التلخیص الحبیر (1/102) ، دیکھئے : نتائج الافکار (1/247)، الفتوحات الربانیۃ (2/19- 21)

(90) نتائج الافکار (1/250) دیکھئے : النکت الظراف (3/447)

(91) المتجر الرابح ص(48) ح(82)

(92) دیکھئے: تفسیر ابن کثیر (9/101) ، الدر المنثور (9/475)، تخریج الاحیاء (1/447)۔

(93) الاحادیث المختارۃ (2/50-51)ح(430)

(94) جزء حدیث ابی الفضل الزھری تخریج الجوھری (1/173) ح(127)

(95) دیکھئے : تخریح الاحیاء (1/447)

(96) ذیل المیزان ص(422) رقم(700) مجھے تاریخ دمشق میں ابن عساکر کا کلام نہیں ملا ۔

(97) بیان الوھم والایھام (4/605)

(98) میزان الاعتدال (2/506)

(99) لسان المیزان (5/16)

(100) الاحادیث المختارۃ(2/50)

(101) دیکھئے : الترغیب والترھیب (1/513)، تفسیر ابن کثیر(9/100) ، الدر المنثور (9/477)، تخریج الاحیاء (1/447)، التلخیص الحبیر) (2/72)۔

(102) المختارۃ - مخطوط (226/ا)

(103) میزان الاعتدال (3/534)، دیکھئے : لسان المیزان(7/112)

(104) میزان میں یوں ہے:"حدثنا محمد بن خالد المقدسی ، حدثنا محمد بن خالد البصری حدثنا خالد بن سعید بن ابی مریم......." اس میں محمد ابن خالد المقدسی کی زیادتی ہے اور شاید یہ تصحیف ہے۔

(105) تھذیب التھذیب(3/95)

(106) بیان الوھم والایھام (3/537)
(1079 دیکھئے الموضوعات الکبری (2/45)، المیزان (3/534)، المغنی فی الضعفاء (5364)، اللسان (7/111-112) ، الکشف الحثیث (227)

(108) لسان المیزان (7/112)

(109) الترغیب والترھیب (1/513)

(4/423) (110)

(111) تفسیر القرآن العظیم (9/100)

(112) فیض القدیر (6/199)

(113) تمام المنۃ ص324

(114) دیکھئے : الدر المنثور (9/477) ، فتح القدیر (3/268)، تخریج الاحیاء (1/448)

(115) احیاء علو الدین (1/187)

(116) تخریج الاحیاء (1/143)

(117) تخریج الاحیاء (1/143)

(118) تذکرۃ الموضوعات(1/565)

(119) الفوائد المجمو عۃ ص (311)

(120) ص (96) رقم(203)

(121)دیکھئے : الفتوحات الربانیۃ (4/229- 230)

(122) ابو مھلب جرمی بصری ابو قلابہ کے چچا ہیں ، نام عمرو یا عبد الرحمن بن معاویہ ہے، ثقہ اور تھوڑی حدیثیں روایت کرنے والے ہیں ۔ (دیکھئے : طبقات کبری (7/126)، تھذیب الکمال: 34/329، الاصابۃ:7/400)

(123) فضائل القرآن ص98 رقم 208)

جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کی ‏تحقیق ‏ (http://salafitehqiqimaqalat.blogspot.com/2020/07/blog-post_36.html)

.
 
Top