ذیشان خان

Administrator
علماء سے سوال پوچھنے کے آداب

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ہم مسلمان اپنے قرب وجوار کے علماء سے تو برابر سوال پوچھتے ہی تھے لیکن اب چونکہ وسائل کی فراہمی ہے اس لیے لمحوں بھر میں ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہر شخص سے فوراً رابطہ کر لیتے ہیں اور علماء سے بہت سوال کرتے رہتے ہیں، علماء سے دینی سوالات کرنا اچھی بات ہے، سوال کرنا چاہیے، کیونکہ سوال کی اسلامی شریعت میں بڑی ہے، اہل علم سوال کے متعلق کہتے ہیں کہ "السؤال الحسن نصف العلم" اچھا سوال نصف علم ہے- "السؤال مفاتيح العلم" سوال یہ علم کی کنجیاں ہیں- "العلم خزائن ومفتاحه السؤال" علم خزانوں کا مجموعہ ہے اور سوال کرنا اس کی کنجیاں ہیں- "العلم له ست مراتب، أولها حسن السؤال" علم کے چھ مراتب ہیں جن میں سب سے پہلا درجہ عمدہ اور اچھا سوال کرنا، موخر الذکر ابن قیم رحمہ اللہ کی عبارت ہے-
لہٰذا علماء سے دینی سوال کرنے میں کبھی شرمانا نہیں چاہیے، اپنے نیک علماء سے خوب استفادہ کرنا چاہیے لیکن سوال کرتے وقت سوال پوچھنے کے آداب کو مکمل ملحوظ رکھنا چاہیے جو یہاں درج ذیل ہیں-
1) سلام کریں-
2) سوال کرنے کے لیے عالم کے پاس جائیں، اور آمد ورفت کی تکلیف برداشت کریں-
3) اپنے سوال کو بالکل واضح کریں-
4) سوال پوچھنے میں نرمی برتیں-
5) اہل علم کی قدر کریں-
6) سوال پوچھنے میں جلدی نہ کریں-
7) سوال کا جواب فوراً نہ طلب کریں بلکہ عالم صاحب کو سوچنے سمجھنے اور غور وفکر کا موقع دیں-
8) اچھا سوال کریں، دین کے بارے میں پوچھیں، لغو اور بےکار سوال کرنے سے بچیں-
9) سوال پوچھ کر مجلس میں موجود اپنے کسی بھائی کو ذلیل نہ کریں اور نہ ہی اس کا مذاق اڑائیں-
10) جو مسئلہ ابھی واقع نہیں ہوا ہے اس کے بارے میں سوال نہ پوچھیں، کیونکہ فرضی سوال کرنا لغو کام ہے-
11) دین سیکھنے کے لیے سوال کریں نہ کہ آزمانے کے لیے یا پریشان کرنے کے لیے-
12) سوال کریں مگر خود جواب نہ دیں، دیہاتوں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ علماء بیٹھے ہیں جہلاء خود بولتے رہتے ہیں اور ستم تو یہ ہے کہ بعض بوڑھے دینی مسائل میں بےلگام بولتے ہیں-
13) اپنا سوال مختصر رکھیں ایسا نہیں کہ خواہ مخواہ سوال لمبا کر دیں اور سوال کے نام پر تقریر شروع کر دیں-
14) جس چیز کا علم ہو اس کے متعلق سوال نہ کریں-
15) سوال کرنے یا دین سیکھنے میں شرم نہ کھائیں-
16) اپنا مسئلہ خود جا کر عالم صاحب سے حل کرائیں ہاں اگر بہت مجبوری ہو تو کسی نیک اور قابل اعتبار شخص کو وکیل بنا دیں-
17) بغیر مفتی کی اجازت کے ان کی آواز ریکارڈ نہ کریں اور نہ ہی اسے نشر کریں-
18) سوال کرتے وقت مفتی یا عالم کی ذاتی مصروفیات کا خیال رکھیں-
19) صرف سوال نہ کریں بلکہ حق بات پر عمل کریں، اور لوگوں کو حق بات بتائیں-
20) سوال پوچھنے سے پہلے اور جواب ملنے کے بعد عالم صاحب کو کم از کم دو مرتبہ دعا دیں-
21) بطور اطمینان کبھی کبھار ایک ہی سوال کو کئی علماء سے پوچھ لیا کریں-
22) چلتے پھرتے راستے میں علماء سے نہ پوچھیں، بلکہ علماء کرام کے پاس آئیں اور ادب سے بیٹھ کر اطمینان سے پوچھیں-
23) جب عالم کسی سوال کے جواب میں کہہ دے کہ میں نہیں جانتا ہوں تو انہیں کم علم نہ سمجھیں، اور انہیں حقیر نہ جانیں بلکہ آپ اپنا سوال کسی دوسرے عالم سے پوچھ لیں-
24) ہر کس وناکس سے دین کا علم نہ سیکھیں، مسائل ان علماء کرام سے پوچھیں جو قرآن وحدیث کی مہارت رکھنے والے ہیں-
25) اپنے سوال کا مکمل جواب سماعت کریں اور اگر کچھ کہیں اعتراض ہو تو ادب سے مناقشہ کریں، بلکہ بہتر ہے کہ سوال کی جگہ مناقشہ کا اعلان کر دیں-
26) بکثرت سوال پوچھنے سے بچیں، جب دین کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تبھی سوال کریں-
یہ سوال پوچھنے کے کچھ آداب ہیں جن پر عمل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، لیکن بہت دکھ کی بات ہے کہ ہم مسلمان بہت سوالات پوچھتے ہیں مگر آداب کی رعایت بہت کم کرتے ہیں، لغو سوالات کرتے ہیں جو ابھی واقع نہیں ہوا ہے وہ سب بھی پوچھ لیتے ہیں بنی اسرائیل کی طرح سوال میں بال کی کھال نکالتے ہیں، یہ ایمان اور علماء کی شان کے خلاف ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"(سنن ترمذی:2316/صحيح) اچھے مسلمان کی پہچان میں سے اس کا لغو اور بےکار چیزوں کا چھوڑ دینا ہے-
اللہ ہم سب کو اہل علم کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
نوٹ: مزید تفصیلات کے لیے مراجعہ کریں-
1) ادب السؤال: شيخ صالح بن عبدالعزيز آل الشيخ-
2) السؤال في القرآن الكريم: دكتور احمد بن عبدالفتاح ضليمي
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top