ذیشان خان

Administrator
دعا کوئی رسم نہیں، عبادت ہے۔

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ہر روز ہر فرض نمازوں کے بعد اکثر حنفی مساجد میں اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے، امام صاحب ہاتھ اٹھا کر کبھی پست اور کبھی بلند آواز سے دعا کرتے ہیں اور مقتدی حضرات بھی دعا میں لازمی طور پر شامل ہوتے ہیں، لوگوں نے اسے واجبی عمل سمجھ لیا ہے، آئیے اس دعا کی کیا حیثیت ہے آج اسے جاننے کی کوشش کرتے ہیں-
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ طریقہ سنت کے خلاف ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے کہ آپ ہر فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتے تھے، اور نہ ہی یہ طریقہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ہی ثابت ہے-
دوسری بات یہ ہے کہ فرض نماز کے بعد کے کچھ اذکار ہیں جنہیں پڑھنا چاہیے، ان اذکار کے پڑھنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تعلیم دی ہے مگر لوگ سنت ہضم کر جاتے ہیں اور اپنی طرف سے نیا طریقہ گھڑ لیتے ہیں-
تیسری بات یہ ہے کہ دعا عبادت ہے کوئی رسم نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ اجتماعی دعا میں رسمی طور پر ہاتھ اٹھا لیتے ہیں ان سے پوچھیں آپ نے کیا دعا مانگی ہے؟ تو اکثر لوگوں کا یہی جواب ہوگا کہ جو امام صاحب نے مانگی ہے-
چوتھی بات یہ ہے کہ اجتماعی دعا میں ہر دعا پر آمین کہی جاتی ہے نہ کہ خود ہی دعا کی جاتی ہے-
پانچویں بات یہ ہے کہ امام صاحب دعا کرتے ہیں اور مقتدی اس پر آمین بولتے ہیں لیکن مقتدی کو کیا ضرورت ہے، دعا میں اس کا التزام نظر نہیں آتا ہے، کیونکہ امام کی دعا پر سارے لوگ دعا مانگنا ختم کر دیتے ہیں-
چھٹی بات یہ ہے کہ دعا میں تضرع، گریہ وزاری، طمانینت، خشوع وخضوع مطلوب ہے، لیکن فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعاؤں میں لوگ عجلت سے کام لیتے ہیں، تقریباً ایک منٹ کے اندر ہی دعا ختم ہوجاتی ہے-
ساتویں بات یہ ہے کہ دعا کا ادب یہ ہے دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے لیکن فرض نمازوں کے بعد دعاؤں میں درود شریف نہیں بھیجا جاتا ہے-
آٹھویں بات یہ ہے کہ امام اجتماعی دعا میں اپنے لیے خاص دعا کرتا ہے جب کہ اجتماعی دعا میں ہمیشہ جمع کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے-
نویں بات یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کا اصل وقت سحر کا وقت، سجدہ میں، سلام پھیرنے سے قبل تشہد میں، اذان واقامت کے درمیان، شب قدر، سفر وغیرہ میں، لیکن اجتماعی دعا کے لیے فرض نماز کے بعد ہی کی تخصیص کیوں؟
دسویں اور آخری بات یہ ہے کہ اجتماعی دعا میں اجبار نہیں اختیار ہوتا ہے، لیکن اجتماعی دعا میں ہاتھ نہ اٹھانے والے کو ترچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کا مقام نماز سے بھی زیادہ ہے، جب کہ اس دعا کے متعلق کتب فقہ حنفی میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے-
لہٰذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سنت کے مطابق عمل کریں، دین میں من مانی سے بچیں، دعا کریں یہ بہت اچھی چیز ہے، اللہ سے مانگنا بہت بڑی عبادت ہے، لیکن مانگنے کے لیے ادب اور سلفیہ کا ہونا بہت ضروری ہے، دعا کے وقت ہمیں قبولیت کا یقین ہونا چاہیے نہ کہ ہم غفلت برتتے ہوئے عجلت میں دعا کریں، غافل اور لا پرواہ دل کے ساتھ دعا کریں تو یہ دعا کے ادب کے خلاف ہے جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُوْنَ بِالْإجَابَةِ، وَاعْلَمُوْا أنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيْبُ دُعَاءََ مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ" (سنن ترمذی:3479/حسن) اللہ سے مانگو تو قبولیت کے یقین کے ساتھ مانگو، کیونکہ اللہ تعالی کسی غافل اور لا پرواہ دل کی دعا قبول نہیں کرتا ہے-
اللہ ہم سب کو ہر قسم کی بدعات وخرافات سے بچائے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا شیدائی بنائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top