ذیشان خان

Administrator
موبائل فون کے آداب

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
موبائل اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک عظیم الشان نعمت ہے، اس موبائل فون کی وجہ سے ہمارا ہر کام بہت آسانی سے مکمل ہو جاتا ہے، ورنہ موبائل سے پہلے ہمیں کتنی دقت اٹھانی پڑتی تھی اسے ہم اچھی طرح جانتے ہیں، لہٰذا ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس موبائل کی نعمت پر رب العالمین کا خوب خوب شکر ادا کریں، لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ آج موبائل کی جو نعمت ہمیں حاصل ہوئی ہے ہم اس کا شکر بجا لانا تو بہت کی بات، ہم اس نعمت کی ناقدری کرتے ہیں، ہم اکثر اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، حرام چیزوں میں اپنا وقت برباد کرتے ہیں، اور وہ گناہ کر جاتے ہیں جس کا ماضی میں کبھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، لہٰذا یہ سخت ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کو بتایا جائے کہ موبائل کے اسلامی آداب کیا ہیں، تو آئیے آج ہم آپ کو موبائل فون کے اسلامی آداب بتاتے ہیں-
1) گفتگو کا آغاز سلام سے کریں، لیکن غیر مسلم کو سلام کرنے میں پہل نہ کریں-
2) رابطہ ہوتے ہی اپنا تعارف کرائیں، خواہ مخواہ اجنبی بن کر اپنے بھائی کو نہ ستائیں-
3) خود فون کریں، مسکین بن کر مسکال نہ ماریں اور دوسروں کو پریشان نہ کریں-
4) تین مرتبہ سے زائد کال نہ کریں-
5) موبائل فون کو اپنی ضرورت بھر ہی استعمال کریں، اپنا وقت ضائع کرنے سے پرہیز کریں-
6) طویل گفتگو کرنے سے گریز کریں، کام کی بات کریں، اِدھر اُدھر کی فضول بات نہ کریں-
7) جھوٹی خبر نشر نہ کریں-
8) لوگوں کو دہشت اور خوف میں مبتلا نہ کریں-
9) ہر قسم کے لغو کاموں سے بچیں-
10) اپنی موبائل کو ہر گندگی اور خرافات سے پاک رکھیں-
11) گفتگو کے اختتام پر خدا حافظ نہ کہیں بلکہ سلام کریں-
12) کال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ نماز یا ذاتی مشغولیت کا وقت تو نہیں ہے-
13) اجنبیہ عورت سے بات چیت کرنے سے بچیں-
14) ڈیوٹی کے اوقات میں موبائل فون نہ استعمال کریں-
15) اپنے اعزہ واقارب سے رابطہ میں رہیں، اپنوں کو چھوڑ کر غیروں سے زیادہ قربت نہ اختیار کریں-
16) جب آپ سے کوئی فون پر رابطہ کرے تو اس کا ضرور جواب دیں اور اگر شدید مصروفیت ہو تو کاٹ دیں لیکن لازمی طور پر فرصت ملتے ہی جلد ضرور کال کریں-
17) بیت الخلاء میں گفتگو کرنے سے بچیں-
18) دینی مجالس یا بڑوں کی مجالس میں موبائل استعمال نہ کریں-
19) نماز میں اگر موبائل کی گھنٹی بجنے لگے تو اسے کاٹ دیں تاکہ سب کی نماز خراب نہ ہو-
20) اگر کال کا جواب نہ مل سکے تو اپنے بھائی کے لیے کوئی عذر تلاش لیں، بدگمانی سے بچیں، تعلقات منقطع نہ کریں-
21) نماز پڑھنے سے پہلے اپنی موبائل بند کر لیں-
22) موبائل کی رنگ ٹون بالکل سادہ رکھیں، موسیقی اور گانے سے بچیں، قرآنی آیات وغیرہ بھی نہ لگائیں-
23) بغیر اجازت کے کسی کی بات ریکارڈ نہ کریں، نہ کسی کو سنائیں اور نہ ہی کہیں نشر کریں-
24) اپنی موبائل اپنے قریب ہی رکھیں، اتنا دور نہ رکھیں کہ رابطہ مشکل ہو جائے-
25) بلا اجازت دوسرے کی موبائل استعمال نہ کریں-
26) جب کوئی غلط چیز ارسال کرے فوراً اس پر تنبیہ کریں-
27) موبائل فون بچوں کو کھیلنے کے لیے نہ دیں، انہیں کھیلنے کے لیے کھلونا وغیرہ دیں-
28) اپنی موبائل پر فخر نہ کریں، یا سوشل میڈیا پر اپنی بڑائی نہ ڈینگیں-
29) افواہ نہ پھیلائیں-
30) فون کے ذریعے اِدھر کی بات اُدھر نہ لگائیں-
یہ کچھ اسلامی آداب ہیں جنہیں ہر موبائل استعمال کرنے والے کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے، اگر ہم ان آداب کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے ورنہ ہم کہیں نہ کہیں موبائل کی وجہ سے بڑے گناہ میں واقع ہوں گے جس سے ہمارے دین، دنیا، ایمان، اخلاق، عزت، جان اور مال کا خسارہ ہوگا، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور موبائل کے فتنے سے بچائے اور موبائل کا صحیح استعمال کی توفیق عطا فرمائے آمین-
*مزید تفصیلی معلومات کے لیے ان مقالات کا مطالعہ کریں*
1) ادب الجوال: دکتور بكر أبوزيد
2) الجوال آداب وتنبيهات: محمد بن إبراهيم الحمد
3) 44-آداب الهاتف الجوال: دکتور محمد حاج عيسى الجزائرى
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top