ذیشان خان

Administrator
آپ نے صبح دیکھی ہے؟

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ہم سب یہ بخوبی جانتے ہیں کہ صبح کا وقت یہ دن کا سب سے اہم وقت ہوتا ہے، اس میں بڑی برکت ہے، صبح کے وقت فضا پر امن رہتی ہے، باد نسیم کی لہر بھی جسم وجان کو مستفید کرتی ہے، صبح کے وقت طبیعت نشاط رہتی ہے، اسی لیے پہلے دیہاتوں اور شہروں کے بڑے بوڑھے بچے گھر سے باہر چہل قدمی کے لیے نکلتے تھے، ورزش کرتے تھے، دوڑتے تھے، کھیت اور باغ میں کام کرتے تھے، مگر اب اکثر لوگ صبح کے وقت خواب غفلت میں پڑے رہتے ہیں، جب کہ صبح کے وقت میں برکت ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اَللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِيْ فِيْ بُكُوْرِهَا" (سنن ابن ماجه:1819/صحيح) اے اللہ! تو میری امت کی صبح میں برکت دے-
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبح کا وقت برکت کا وقت ہے، لہٰذا صبح کے وقت غفلت برتنے اور سونے سے پرہیز کرنا چاہیے، اور اپنے مشن میں صبح سویرے ہی سے لگ جانا چاہیے اسی میں دین ودنیا کی بھلائی ہے اور جسمانی صحت کی حفاظت بھی ہے-
قارئین کرام! ہمارے اسلاف صحابہ کرام بعد نماز فجر سونے کے عادی نہیں تھے، خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ فجر بعد مسجد میں بیٹھتے تھے دین کی باتیں کرتے تھے جیسا کہ صحابی رسول کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس جگہ فجر کی نماز پڑھتے تھے اس جگہ سے اٹھتے نہیں تھے یہاں تک کہ سورج طلوع نہ ہو جائے، جب سورج نکل جاتا تب سب مسجد سے نکلتے تھے، کیونکہ صحابہ کرام آپس میں گفتگو کرتے ہیں اور پھر زمانہ جاہلیت کی زندگی کے متعلق گفتگو شروع کر دیتے تھے اپنی کم علمی اور جہالت پر وہ لوگ ہنستے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے تھے (صحيح مسلم:1557)
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی سیرت میں آتا ہے کہ وہ فجر بعد دیر تک ذکر واذکار کی پابندی کرتے تھے اور جب لوگ ناشتے کی بات کرتے تھے تو آپ کہتے تھے کہ یہی ذکر میرا ناشتہ ہے، سوچیے ہمارے اسلاف قیام اللیل کے باوجود بھی فجر بعد نہیں سوتے تھے، اور ہمارا حال یہ ہے کہ صبح کیسی ہوتی ہے ہم اسے جانتے ہی نہیں کیونکہ ہم سوئے رہتے ہیں-
صبح کے وقت صبح کی دعا، ذکر، تلاوت قرآن پاک، چہل قدمی، جسمانی ورزش اور اپنے کاروبار میں لگ جانا یہ ہم سب سے مطلوب ہے، فجر میں یا فجر بعد سونا محرومی کا باعث ہے، بےبرکتی کا ذریعہ ہے، دیکھیے زیادہ سونا بھی نقصان دہ ہے اسی طرح تاخیر سے سونا اور لیٹ بیدار ہونا بھی جسمانی وروحانی نقصان کا سبب ہے، اور اگر کوئی شخص صبح فجر کی نماز وقت پر نہ پڑھے تو یہ بہت خطرناک معاملہ ہے، شیطان ایسے شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیتا ہے جو فجر چھوڑ کر سوتے رہتا ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک روایت ذکر کی ہے نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ سے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا جس نے نماز فجر نہیں ادا کی تو آپ نے فرمایا: "بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ"(صحیح بخاری:1144) شیطان اس کے کان میں پیشاب کردیا ہے-
افسوس کی بات ہے کہ آج ہم مسلمانوں کی اکثریت بےنمازیوں کی ہے، ہم فجر کی نماز نہیں پڑھیں گے، صبح میں جلد بیدار نہیں ہوں گے تو کیا خاک برکت ملے گی، لہٰذا ہم ہوش میں آئیں، فجر کی اہمیت اور صبح کی افادیت پر غور کریں، اور فجر کی نماز کی متواتر پابندی کریں، اس سے کام میں، مال میں، آل واولاد میں، گھر میں، کمائی میں، عمر میں، زندگی میں، وقت میں برکت ملے گی، اللہ ہم سب کو باجماعت فجر کی نماز پڑھنے کی توفیق دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top