ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

کیا آپ اپنی بیوی کی خدمت کرتے ہیں؟

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
کیا آپ اپنی بیوی کی خدمت کرتے ہیں؟ یہ ایک عجیب سا سوال ہے، کیونکہ عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت کرے، ٹھیک ہے بیوی کی تو ذمہ داری ہے مگر شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی خدمت کرے، اس میں کوئی عیب کی بات نہیں ہے، بلکہ بیوی کی خدمت سے ازدواجی زندگی میں ایسی محبت پیدا ہوتی ہے کہ جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل امر ہے، بس عملی زندگی میں تجربہ کرکے دیکھیں خود حقیقت واضح ہو جائے گی-
قارئین کرام! امام الانبیاء، خاتم النبيين، سیدالمرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی بیویوں سے خوب محبت کرتے تھے، ان کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، ان کی تعریف بیان کرتے تھے، ان کی خدمت کرتے تھے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے، عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ- تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ- فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ"(صحيح بخاری:676) حضرت اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ اپنے گھر والیوں کی خدمت میں لگے رہتے تھے، لیکن جب نماز کا وقت ہو جاتا تو سب کام چھوڑ کر نماز کے لیے نکل جاتے تھے-
یہ صحیح بخاری کی روایت ہے، ممکن ہے کہ ہم نے پہلی بار اسے پڑھا ہو، بہرحال اب تو ہم نے نبوی سیرت کو جان لیا ہے، لہٰذا یہ روایت ہمیں پیغام دیتی ہے کہ ہم بھی اپنا اکثر وقت اپنے گھر میں گزاریں، اہل خانہ کے ساتھ رہیں، امور خانہ داری میں شریک رہیں، بیوی کا ہلکا پھلکا کام کر دیں، یہ بھی ایک سنت ہے، اور اس میں بھی بڑا خیر ہے-
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بیویوں کے ساتھ جو ہمارا سلوک ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، آج گھروں میں عورتوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو جاہلیت میں کیا جاتا تھا، موجودہ سماج میں بےچاری عورتیں اپنی سسرال میں بہت دب کر رہتی ہیں، اپنے شوہروں سے حد سے زیادہ ڈرتی ہیں، کبھی اپنے شوہروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر پاتی ہیں، ہمیشہ مظلومیت بھری زندگی گزارنے پر مجبور رہتی ہیں، شوہروں کی کڑوی کسیلی باتیں سنتی ہیں اور کبھی مار بھی کھاتی ہیں، ظلم سہتی ہیں، میرے بھائیو! یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہے، اسلام اس سے منع کرتا ہے، بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے، آپس میں پیار ومحبت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ ہم دردی کی تعلیم دیتا ہے، لہٰذا ہمیں اس طرف شدید توجہ دینے کی ضرورت ہے اور بیویوں کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ محبت کا سفر ہمیشہ جاری وساری رہے، اللہ ہمیں بااخلاق بنائے اور ہر ظلم سے بچائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top