ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
اسلام نے مرد عورت دونوں کو اپنی نگاہ پست رکھنے کا حکم دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ" (النور:30) اے نبی آپ مومن مردوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے، اور یقیناً اللہ باخبر ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں-
مردوں کے حکم کے بعد اللہ نے عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ" (النور:31) اور آپ مومنہ عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی آرائش وزیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر جائے-
ان دونوں آیتوں میں مرد عورت دونوں کو شرم گاہ کی حفاظت سے پہلے نگاہ کی حفاظت کا مکلف بنایا گیا ہے، کیونکہ نگاہ کی حفاظت ہی سے شرم گاہ کی حفاظت ممکن ہے، بنابریں اللہ رب العالمین نے نگاہوں کی حفاظت کی سخت تعلیم دی ہے-
قارئین کرام! نگاہ کی حفاظت کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ وقت پر شادی کی جائے، تاکہ آدمی جائز طریقے سے اپنی شہوت پوری کرلے، اور اپنے دین، ایمان، اخلاق اور عزت کی حفاظت کرلے، کیونکہ شادی کی تاثیر یہ ہے کہ یہ نگاہوں کو پست کر دیتی ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ"(صحيح بخاری:5066) اے نوجوانو کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ شادی کرلے کیونکہ شادی نگاہوں کو بہت پست کرنے والی ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والی ہے، اور جو استطاعت نہ رکھے اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے-
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شادی سے نگاہ اور شرم گاہ کی حفاظت ہوتی ہے، اس لیے شادی کریں اور اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں-
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج شادی میں تاخیر کے سبب ہم سبھوں کی نگاہیں محفوظ نہیں ہیں، ہم لوگ اپنی نگاہوں کی صحیح حفاظت نہیں کر پاتے ہیں، اجنبیہ خواتین کو دیکھتے رہتے ہیں، پھر یہیں سے گناہ کے دروازے کھلتے ہیں اور بسا اوقات آہستہ آہستہ گناہ کا سلسلہ بہت دور تک پہنچ جاتا ہے، اس کے برعکس نگاہ پست رکھنے سے عزت کی حفاظت ہوتی ہے، آدمی گناہ سے بچتا ہے، تقوی کی زندگی گزارتا ہے، دل کی صفائی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ-
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم وقت پر شادی کریں اور اپنی نظروں کی حفاظت کریں، نگاہیں پست رکھیں، اللہ ہمیں توفیق دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top