ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

نظافت اور اسلا

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
اس روئے زمین پر اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے جس نے نظافت یعنی صفائی ستھرائی کی سخت تاکید کی ہے اور اسے ایمان کا حصہ قرار دیا ہے جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ"(صحيح مسلم:533) صفائی آدھا ایمان ہے یا ایمان کا حصہ ہے-
صفائی ستھرائی کی اہمیت کا اندازہ ہم اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ نماز کے لیے شریعت نے قدم قدم پر طہارت پر زور دیا ہے جیسے نماز سے قبل اچھی طرح وضو کرنا، جسم کا پاک ہونا، پاک
کپڑا پہننا، پاک جگہ کا انتخاب کرنا، یہ سب نماز کے لیے ضروری ہے، اب بتائیے جو شخص دن بھر میں عبادت کے واسطے پانچ مرتبہ وضو کرتا ہو وہ کتنا پاکیزہ ہوگا-
قارئین کرام! مذہب اسلام پاکیزگی پر سخت زور دیتا ہے اور گندگی سے روکتا ہے، اور اللہ تعالٰی صفائی پسند لوگوں سے محبت کرتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالٰی فرماتا ہے، "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ"(البقرة:222) بیشک اللہ تعالٰی توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ" (صحيح مسلم:275) اللہ تعالٰی خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے-
مذکورہ بالا آیت وحدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم صفائی پسند بنیں، نظافت اور صفائی ستھرائی کا غیر معمولی اہتمام کریں اور ہر قسم کی چھوٹی بڑی گندگی سے بچیں، زیب وزینت اختیار کریں، اچھا لباس پہنیں، عمدہ خوشبو لگائیں، اپنے ساز وسامان کو ترتیب سے رکھیں، اچھے سے اور سلیقے سے رہیں کہ دکھنے میں بھلا نظر آئے، لیکن بہت دکھ کی بات ہے کہ ہم مسلمان صفائی ستھرائی سے کافی دور ہیں، گندگی ہماری پہچان بن گئ ہے، آج مسلم اکثریت علاقوں میں گندگی کی کثرت دیکھی جاتی ہے، راستے، گلی، گھر، کھڑکی قدم قدم پر گندگی دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے گزرنا مشکل ہو جاتا ہے شدید قسم کی بدبو آتی ہے، راستے سے گزرنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے، جب کہ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم راستوں سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹا دیں تاکہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو، یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ"(صحیح بخاری:2989) راستے سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹا دینا صدقہ ہے-
سوچیے اسلام تکلیف دہ چیزوں کو، گندگی کو دور کرنے اور ہٹانے کا حکم دیتا ہے اور ہم گھر کا سارا کچڑا راستے پر ڈال دیتے ہیں یہ ایمان کے سراسر خلاف بات ہے، ایمان یہ ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا جائے جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ"(صحیح مسلم:162) ایمان کی ساٹھ یا ستر سے زائد شاخیں ہیں ان میں سب سے افضل کلمہ توحید ہے اور سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیزوں کا دور کرنا ہے-
اللہ ہم سب کو نیک سمجھ دے امین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top