ذیشان خان

Administrator
اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان کی شرعی تعریف

ڈاکٹر أمان الله محمد إسماعيل

* اہل سنت والجماعت نے متعدد انداز اور مختلف عبارات کے ذریعہ ایمان کی شرعی تعریف بیان فرمائی ہیں ۔
* ایمان کی شرعی تعریف بیان کرنے میں اہل سنت والجماعت کی منشا یہ ہیکہ عمل ایمان کا رکن ہے، اور بغیر عمل کے ایمان کا کوئی تصور ہی نہیں۔
* ایمان کی شرعی تعریف میں سلف صالحین تین بنیادی چیزوں پر دھیان دیتے ہیں:
1۔ دل سے تصدیق کرنا۔
2۔ زبان سے اقرار کرنا۔
3۔ جوارح کے ذریعہ عمل کرنا۔
* یہی تین چیزیں تعریف ایمان شرعی کے اہم اجزا و ارکان ہیں، ان میں سے کسی ایک میں خلل واقع ہونے سے ایمان کی شرعی تعریف میں خلل واقع ہو جائیگا۔
* سلف صالحین نے ایمان کی شرعی تعریف بیان کرنے میں ان تین چیزوں پر اس لیے خاص دھیان دیا ہیکہ ان تینوں چیزوں میں بعض لوگوں نے سلف صالحین کی مخالفت کی ہیں۔
* کچھ مخالفین سلف کا کہنا ہیکہ ایمان صرف اور صرف معرفت قلبی کا نام ہے، ان کے یہاں ایمان میں قول و عمل کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔
* جبکہ کچھ کا زعم ہیکہ ایمان صرف قول واقرار نام ہے، ان کے نزدیک تصدیق اور عمل ایمان میں معتبر نہیں ۔
* اور کچھ لوگوں کا اعتقاد ہیکہ ایمان صرف قول و اقرار اور تصدیق کا نام ہے، اور عمل ایمان میں داخل نہیں ہے۔
* مذکورہ تینوں تعریفات سلف صالحین کی تعریف کے خلاف ہیں، اور صحیح بھی نہیں ہیں۔
* وہ تمام لوگ جو ایمان شرعی سے کسی نہ کسی اعتبار سے عمل کو ایمان سے الگ کرتے ہیں، سلف صالحین انہیں مرجئہ کہتے ہیں۔
* بالاختصار سلف صالحین نے مرجئہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
1۔ خالص مرجئہ۔
2۔ مرجئہ الفقہا۔
* خالص مرجئہ کے یہاں عمل کا ذرہ برابر کوئی اعتبار نہیں ہے، البتہ مرجئہ الفقہا اگرچہ عمل کو ایمان سے الگ کرتے ہیں، لیکن ان کے یہاں عمل معتبر ہے۔
* سلف صالحین نے ہر طرح کے ارجا کی مذمت بیان کی ہیں، تاہم وہ خالص مرجئہ کیلیے ننگی تلوار ہیں ۔
* شرعی ایمان کے باب میں سلف صالحین متفق ہیں کہ ایمان میں کمی و زیادتی ہوتی ہے، اچھے اعمال کے کرنے پر ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ برا کام انجام دینے سے ایمان گھٹ جاتا ہے۔
* کچھ ہی لوگوں نے ایمان کی بڑھوتری اور کمی کے مسئلے میں سلف صالحین سے اختلاف کیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر کا رجوع بھی ثابت ہے۔
* سلف صالحین نے مختلف ادوار میں مسائل ایمان سے متعلق متعدد کتابیں تحریر فرمائی ہیں، جس سے سلف صالحین کے نزدیک مسائل ایمان کا اہتمام اور اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔
* اللہ تعالی ہمیں کتاب و سنت پر مکمل عمل کے ساتھ ساتھ ہر مسئلے میں سلف صالحین کے فہم اور منہج کو لازم پکڑنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین ۔
 
Top