ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

طلبہ اپنے علماء سلف کی سیرت پڑھیں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
انسانی زندگی میں سچے واقعات کے بڑے گہرے نقوش دل پر مرتب ہوتے ہیں، اور اگر سلف صالحین کے واقعات اور زندگی کے حالات ہوں تو اس کا کیا مقام ہو سکتا ہے ہم قرآن کریم کے قصص سے ہی لگا سکتے ہیں کہ کلام اللہ کا ثلث حصہ صرف واقعات پر مشتمل ہے اس کا مقصد یہ ہے لوگ عبرت ونصیحت پکڑیں، اس لیے ہم تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ہم انبیاء کرام کے واقعات، حادثات اور ان کی زندگی کے حالات کے ساتھ ساتھ علماء سلف کو بھی پڑھیں، اس کے بہت سارے فوائد ہیں جیسے 1) معلومات میں بےپناہ اضافہ- 2) نفس کی اصلاح، تزکیہ نفس- 3) حوصلہ اور ہمت کا ملنا- 4) مثالی بننے اور ٹھیک اپنے علماء سلف کی طرح عظیم بننے کا اہم سبب- 5) دعوت وتبلیغ، تصنیف وتالیف، درس وتدریس میں معاون- 6) مصائب ومشكلات کا حل- 7) اہل علم (وارثین انبیاء) سے محبت کا سبب- 8) مراجع ومصادر سے واقفیت-
9) فکر ونظر کی بلندی وغیرہ وغیرہ-
قارئین کرام! علماء سلف کی سیرت پر عربی واردو زبان میں بےشمار کتابیں ہیں، عربی زبان میں تفصیلی معلومات کے لیے یہ کتابیں بہت مفید ہیں جیسے 1) الأعلام: خيرالدین زرکلی دمشقی م ١٣٩٦ھ_ 2) تاريخ علماء الأندلس: عبداللہ بن یوسف الازدی_ 3) طبقات الحفاظ: امام سیوطی_ 4) سیر أعلام النبلاء: امام ذہبی_ 5) تذكرة الحفاظ: امام ذہبی_ 6)صفحات من صبر العلماء على شدائد العلم والتحصيل: عبدالفتاح ابوالغدة_
اردو زبان میں طلبہ کو بکثرت تراجم علماء اہل حدیث کو خاص طور سے پڑھنا چاہیے، جیسے 1) پاک وہند میں علماء اہل حدیث کی خدمات حدیث: شیخ ارشاد الحق اثری- 2) الحياة بعد الممات: شیخ مظفر حسین- 3) کاروان سلف: شیخ اسحاق بھٹی- 4) دبستان حدیث: شیخ اسحاق بھٹی- 5) قافلہ حدیث: شیخ اسحاق بھٹی- 6) بزم ارجمنداں: شیخ اسحاق بھٹی- 7) تراجم علماء حدیث ہند: شیخ ابویحی امام خان نوشہروی- 8) جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات: شیخ مستقیم سلفی- 9) جماعت اہل حدیث کی صحافتی خدمات: شیخ مستقیم سلفی- 10) جماعت اہل حدیث کی تدریسی خدمات: شیخ عزیزالرحمن سلفی- 11) برصغیر میں علماء اہل حدیث کے علمی کارنامے: شیخ عبدالرشید عراقی- 12) تذکرۃ المحمدیین: شیخ عبدالرشید عراقی- 13) کاروان حیات (خود نوشت) شیخ دکتور لقمان سلفی- 14) ابقاء المنن بإلقاء المحن (خود نوشت) شیخ سید نواب صدیق حسن خان قنوجی-
اسی طرح طلبہ مدارس کو چاہیے کہ وہ بعض اہم عبقری شخصیات کو بھی لازمی طور پر پڑھیں جیسے سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق، امیر معاویہ، خالد بن ولید، ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس، امام زہری، شافعی، مالک، احمد بن حنبل، بخاری، مسلم، خطیب بغدادی، ترمذی، ابن قدامہ، ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن حجر، ابن الجوزی، سیوطی، شوکانی، سید نواب صدیق حسن خان قنوج، عبدالوہاب نجدی، شاہ اسماعیل شہید دہلوی، میاں نذیر محدث دہلوی، ابن باز، عثیمین، البانی، عبدالرحمن مبارک پوری، عبیداللہ مبارک پوری، صفی الرحمن مبارک پوری، اسماعیل گوجرانوالہ رحمہم اللہ اجمعین-
اللہ تعالٰی ہم سب کو نفع بخش بنائے، دین کی خدمت کی توفیق دے اور ہم سب کو علم وعمل کی سعادت نصیب کرے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top