ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

شہروں کی خوبیاں اور خامیاں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
عام طور پر یہ مشہور ہے کہ دیہات کے مقابلے میں شہروں میں برائی زیادہ پائی جاتی ہے، جی یہ تو سچ ہے لیکن یہ بھی حق ہے کہ شہروں میں دینداری بھی زیادہ ہے، آئیے آج شہروں کی خوبیاں اور خامیاں دونوں کو سرسری طور پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں-
شہروں میں پائی جانے والی بعض برائیاں
1) بے پردگی، عریانیت-
2) اسراف، فضول خرچی-
3) زنا کی کثرت-
4) شب بیداری-
5) شادی بیاہ میں تاخیر-
6) دھوکہ دھڑی-
7) قتل وغارت گری-
8) عصبیت وعلاقائیت کا مرض-
9) مارکیٹ میں عورتوں کا ہجوم-
10) نشہ خوری-
11) سود خوری-
12) حرام کاروبار-
*شہروں میں پائی جانے والی چند خوبیاں*
1) نمازیوں کی کثرت-
2) علماء کرام کے دروس وبیانات کا منظم سسٹم-
3) زکوٰۃ اور واجبی صدقات کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ-
4) جوائنٹ فیملی کی قلت-
5) اجتماعات اور دینی پروگراموں کا عشاء بعد دس بجے تک بند ہو جانا-
6) جمعیت وجماعت کا بہترین انتظام وانصرام-
7) علم سیکھنے سکھانے اور پڑھنے پڑھانے کا ماحول-
8) تہذیب یافتہ بچے-
9) ہنر یافتہ اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کا طبقہ-
10) مالداری-
11) بڑی بڑی لائبریریاں-
12) ہر طرح کی سہولیات کی کثرت-
13) بیت المال کا بہترین سسٹم وغیرہ وغیرہ-
قارئین کرام! برائیاں کم زیادہ دنیا کے ہر کونے میں ہیں، کیا شہر کیا دیہات ہر جگہ برائی پائی جاتی ہے اور چھوٹی بڑی برائی کم زیادہ ہر زمانے میں پائی گئی ہے اور مستقبل میں بھی پائی جائے گی یعنی سماج سے بالکلیہ برائی کا خاتمہ بہت مشکل چیز ہے، کیونکہ ہر انسان خطاکار ہے، لیکن انسان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گناہ سے بچے، برائی سے لوگوں کو بچائے، گناہ ہو جانے کے بعد بکثرت توبہ واستغفار کرے، اسی کا نام انسانی فطرت ہے، لہٰذا جو توبہ واستغفار کرے وہی انسان ہے اور جو گناہ پہ گناہ کرے اور توبہ واستغفار نہ کرے وہ شیطانی وابلیسی ڈگر پر ہے-
بنابریں آدمی شہر میں رہے یا دیہات میں رہے اسے توبہ ضرور کرنا چاہیے، توبہ واستغفار کرنا یہی وہ خوبی ہے جو رب کو بہت پسند ہے، اللہ بہت کریم ہے، بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور مزید ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شہروں میں جہاں برائیاں ہیں وہیں بہت اچھائیاں بھی ہیں، شہروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ملک کے طول وعرض میں پھیلے مدارس، مکاتب، مساجد، دعوتی سینٹرس وغیرہ کو اکثر مالی امداد انہی شہروں سے حاصل ہوتا ہے، اللہ تعالٰی تمام محسنین کو اجر عظیم عطا فرمائے اور ہم سب کو حق اور سچ کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top