ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

دیہات کی خوبیاں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
یہ بہت بڑی سچائی ہے کہ دنیا کی ایک کثیر آبادی دیہاتوں میں آباد ہے یعنی شہروں کی تعداد کم ہے دیہاتوں اور قریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، یہ الگ بات ہے کہ دیہات میں شہروں کی طرح چہل پہل، آمد ورفت، بھیڑ بھاڑ یا نوع بنوع سہولیات فراہم نہیں ہوتی ہیں لیکن جو بھی ہو دیہاتی لوگ بہت سکھ سے رہتے ہیں، آئیے آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیہات کی خوبیاں کیا ہیں، کیونکہ کل کے مضمون میں راقم نے دیہات میں پائی جانے والی بعض خرابیوں کا سرسری تذکرہ کیا تھا، تو اس پر بعض لوگوں نے یہ نقد کیا کہ کیا دیہاتوں میں صرف برائی ہی برائی پائی جاتی ہے، کیا کوئی بھلائی اور خیر دیہات میں نہیں ہے تو آج ہم یہ آپ کو بتانے جا رہے ہیں کہ دیہاتوں میں بعض برائیوں کے ساتھ بہت سارے خیر بھی ہیں جو درج ذیل ہیں-
1) صفائی ستھرائی-
2) کشادہ مکانات-
3) کھلی فضا-
4) ہریالی وتازگی-
5) فریش پھل اور تازی سبزیاں-
6) محنت وجفاکشی-
7) اپنا کام خود کرنا نہ کہ نوکر چاکر رکھنا-
8) رات میں جلد سونا، صبح جلد بیدار ہوتا-
9) عملی زندگی میں سادگی اور قناعت پسندی-
10) ملنساری اور اپنائیت-
11) کھانا کھلانا-
12) سب کے دکھ سکھ میں برابر شریک ہونا-
13) زناکاری وبدکاری کی قلت-
14) اجنبیہ سے مصافحہ کی کمی-
15) اسراف وفضول خرچی کی کمی-
16) مہمان نوازی-
17) تعصب کا فقدان-
18) عمامہ باندھنا-
19) لاٹھی ساتھ لے کر چلنا-
20) صبح کے وقت گھروں میں قرآن کی تلاوت-
21) شادی بیاہ میں آپس میں مل کر کام کرنا یعنی فری میں کرنا-
22) اچھی گہری عمدہ قبر کھودنا اور اس پر اجرت نہ لینا-
23) پانی کی کثرت-
24) خورد ونوش کی اشیاء کی کثرت مزید قیمت بھی کم-
25) بہت حد تک سَستی شادیاں-
26) صوتی وفضائی آلودگی سے تحفظ-
27) اصلی شہد، دودھ، گھی کی فراہمی-
28) مسلکی اختلاف اور ہندو مسلم منافرت کی قلت-
29) ایک دوسرے کا سودا سلف لا دینا-
30) رات کے آخری پہر میں بعض لوگوں کا تہجد کی پابندی کرنا-
قارئین کرام! یہ کچھ خوبیاں ہیں جو عام طور پر شہروں کے مقابلے میں دیہاتوں کے اندر بکثرت پائی جاتی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دیہات میں رہنے کی کوئی اہمیت یا فضیلت ہے، آدمی جہاں بھی رہے ایمان وعمل، تقوی وخشیئت اور حسن اخلاق کا پیکر بنے یہ فضیلت اور سعادت کی بات ہے، اسلام میں علاقائیت کا ادنی بھی تصور نہیں ہے، اسلام میں نہ عربی کو عجمی پر اور نہ عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے نہ شہری کو دیہاتی پر اور نہ دیہاتی کو شہری پر برتری حاصل ہے، برتری اور فضیلت کا اصل معیار ایمان اور تقوی ہے، اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ مولائے کریم تو ہم سب کو نیک توفیق دے اور تعصب سے پاک رکھ آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top