ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

دیہاتوں میں پائی جانے والی بعض خرابیاں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
وہ علاقے جو شہروں یا بازاروں سے دور آباد ہوتے ہیں انہیں دیہات گاؤں کھیڑا وغیرہ کہتے ہیں، دیہی علاقوں میں عام طور پر اچھے لوگ کم رہتے ہیں، علماء اور دعاۃ کی کمی رہتی ہے، اسی لیے شہریوں کے مقابلے میں دیہاتیوں کے اندر علم وادب اور تہذیب وثقافت کا فقدان نظر آتا ہے، بنابریں دیہی علاقوں میں کافی زیادہ خرابیاں پائی جاتی ہیں جو درج ذیل ہیں-
1) عشاء سے پہلے سونا-
2) بازاری زبان استعمال کرنا-
3) جھگڑنا-
4) بہنوں کو حق وراثت سے محروم کرنا-
5) بےپردگی-
6) شوہر کی وفات پر سوگ نہ منانا-
7) بدعات وخرافات کی کثرت-
8) بےمقصد زندگی گزارنا، وقت ضائع کرنا-
9) شادی میں تاخیر کرنا-
10) جوائنٹ فیملی پر جمے رہنا-
11) بچوں کی صحیح تربیت نہ کرنا انہیں دین نہ سکھانا-
12) راستے پر بیٹھنا-
13) گھر کے سامنے راستے پر قبضہ جمانا-
14) زمین ہڑپنا-
15) چوری کرنا-
16) بڑوں کا ادب ملحوظ نہ رکھنا-
17) اپنے گاؤں کے علماء کی عزت نہ کرنا-
18) کھیت کھلیان میں لگے رہنا، بکری بھینس چراتے رہنا اور نماز نہ پڑھنا-
19) عقیقہ نہ کرنا-
20) جمعہ نہ پڑھنا-
21) قبرستان میں کھیلنا-
22) لین دین اور معاملات صاف نہ رکھنا-
23) بخیلی کرنا-
24) طویل جلسے منعقد کرنا اور فجر کی نماز چھوڑ دینا-
25) قرض چکانے میں تاخیر کرنا-
26) میت کی تجہیز وتکفین میں تاخیر کرنا-
27) بغیر دعوت کے ولیمہ میں شرکت کرنا-
28) ہاتھ پھیلانا-
29) بات بات پر گالی گلوچ کرنا-
30) جوا کھیلنا اور نشہ کرنا-
31) مساجد میں امام نہ رکھنا-
32) مکتب کی تعلیم پر توجہ نہ دینا-
33) چھوٹے بچوں کو کمانے پر لگا دینا-
34) بچیوں کو تعلیم سے محروم کرنا-
35) لائٹ (بجلی) کنیکشن نہ لینا چوری کی بجلی استعمال کرنا-
36) گاؤں کے تالاب کو پاٹ پاٹ کر اس میں گھر بنانا-
37) بکریوں کو دوسرے کے کھیت میں چرانا اور فصل کو نقصان پہنچانا-
38) عشر یا زکوٰۃ نہ دینا-
39) معمولی سی ناراضگی پر اپنی مسجد چھوڑ دینا-
40) ہندوانہ ماحول اور رسم ورواج میں گھل مل جانا، غیروں کی مشابہت اختیار کرنا-
یہ کچھ خرابیاں ہیں جو عام طور پر دیہاتوں میں پائی جاتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دیہاتوں میں صرف برائیاں ہی برائیاں ہیں اور ساری اچھائیاں شہروں میں ہیں، نہیں ایسا نہیں ہے، برائی شہروں میں بھی ہے دیہاتوں میں بھی ہے ہر جگہ کی الگ الگ تاثیر اور الگ الگ فطرت ہوتی ہے، ہاں یہ تو طے ہے کہ اب شہروں میں ادب، علم، تمیز، صلاحیت، مہارت، تجارت، سخاوت، نیک عمل، حسن سلوک اور حسن اخلاق زیادہ ہے بنسبت دیہات کے، کیونکہ اب دیہات میں بےادبی، بدتمیزی، بےمروتی، بدامنی، بداخلاقی زیادہ پائی جا رہی ہے، اس کا حل یہی ہے کہ ہمارے دعاۃ ومبلغین دیہات کی طرف بھی توجہ دیں انہیں بھی اپنے علم سے فائدہ پہنچائیں، اور ان کی اصلاح کی فکر کریں، اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top