ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

صبح وشام کے اذکار کی پابندی کریں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
کتب احادیث میں صبح وشام کی بہت ساری دعائیں ہیں، الحمدللہ علماء کرام نے ذخیرہ احادیث میں سے روز مرہ کی مسنون دعاؤں کو مستقل طور پر جمع کیا ہے اس میں سب زیادہ شہرت یافتہ کتاب حصن المسلم ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں حصن المسلم کتاب ضرور رکھے-
قارئین کرام! صبح وشام کے اذکار کی بڑی اہمیت ہے، صبح وشام کی دعاؤں کو پڑھنے سے قلبی سکون، اطمینان قلب، راحت، برکت، روحانی قوت اور لطف حاصل ہوتا ہے، دعاؤں سے درجات بلند ہوتے ہیں گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے، مزید یہ کہ انسان دعاؤں کی وجہ سے شیطان کے شر اور اس کے فتنے سے محفوظ رہتا ہے، ہم سنجیدگی سے صبح وشام کے اذکار کے معانی یا فضائل پر غور کریں تو یقیناً ہم ہر روز صبح وشام کے اذکار کی غیر معمولی پابندی کریں گے اور پڑھے بغیر ہمیں چین نہیں آئے گا یعنی دعا کو چھوڑ نہیں سکتے ہیں، جیسے صبح وشام کے اذکار تو بہت ہیں مگر بعض اذکار میں یہاں ذکر رہا ہوں-
1) نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر کوئی شخص صبح وشام تین تین بار اس ذکر کو پڑھ لے تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی وہ ذکر یہ ہے "بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لاَ يَضُرُّ معَ اسمِهِ شَيءٌ في الأرضِ ولا في السَّماءِ، وَهوَ السَّميعُ العليمُ"(سنن ابوداؤد:5088/صحيح، سنن ترمذی:3386/حسن صحيح)
حضرت ابان بن عثمان جو کہ حدیث کے راوی ہیں ان پر فالج کا حملہ ہوگیا، تو لوگوں نے کہا کہ اے ابان یہ کیسے؟ کیا تم یہ حدیث نہیں بیان کرتے تھے کہ جو بسم الذی لا یضر...... دعا پڑھ لے تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی تو ابان نے جواب دیا کہ دراصل اس دن میں یہ ذکر نہیں پڑھ سکا تھا (سنن ترمذی:3386/ حدیث کے تحت)
2) جو شخص صبح وشام آیت الکرسی پڑھ لے تو وہ شیطان کے شر سے محفوظ ہو جاتا ہے (سورة البقرۃ:255/ صحيح الترغيب والترهيب:662/صحیح)
3) صبح وشام کے اذکار میں سے سیدالاستغفار (اللهم انت ربي لا اله الا انت خلقتني.............) بھی ایک نہایت اہم ذکر ہے جو یقین کامل کے ساتھ ایک مرتبہ صبح پڑھ لے اور شام تک انتقال کر جائے تو وہ جنتی ہے اسی طرح جو شام کو یقین کامل کے ساتھ پڑھ لے اور صبح تک انتقال کر جائے تو وہ جنتی ہے (صحیح بخاری:6303)
4) صبح وشام ایک بار پڑھیں، "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی"(سنن ابوداؤد:5053/صحيح) اے اللہ میں تجھ سے دنیا وآخرت میں عافیت مانگتا ہوں، اے اللہ میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں اپنے دین میں، دنیا میں، اپنے اہل وعیال اور مال میں، اے اللہ تو میرے عیوب پر پردہ ڈال دے اور مجھے میری گھبراہٹ میں امن وامان دے، اے اللہ تو میری حفاظت کر میرے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ میرے اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں-
ان اذکار کی جامعیت پر غور کیجیے اس میں خالص توحید ہے جس میں بندہ اپنی حاجت کو اللہ کے حوالے کرتا ہے، اللہ سے اپنے دین ودنیا کی بھلائی، آخرت کی کامیابی، گناہوں کی مغفرت، دنیوی آفات وبلیات سے تحفظ کا اپنے رب ذوالجلال سے ڈائریکٹ طلب کرتا ہے، اللہ کو نفع ونقصان کا مالک سمجھتا ہے، کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں دعاؤں کو وسیلے کی ضرورت پڑتی ہے، شیطان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے تعویذ گنڈے کی ضرورت پڑتی ہے، اور ستم تو یہ ہے کہ بدعقیدہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ کائنات کے تصرف میں فلاں بزرگ ولی امام اختیار رکھتا ہے، یہ شرکیہ وکفریہ عقیدہ ہے، اسلام کی سچی تعبیر یہ ہے، اللہ کا ادب یہ ہے کہ ہم اللہ سے مانگیں اور اسی سے دعا کریں اسی کو پکاریں، صبح وشام کے اذکار کی پابندی کریں کچھ نہیں ہوگا نہ جنات پریشان کرے گا نہ شیطان پریشان کرے گا، اللہ تعالٰی ہم سب کو دین کی باتوں کو سیکھنے اور دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
نوٹ: صبح وشام کی پوری دعا حصن المسلم وغیرہ میں موجود ہے، دعا یاد کریں، نہ یاد ہو تو دیکھ کر پڑھیں، ابھی تو حصن المسلم کا ایپس بھی آچکا ہے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کر لیں اور پابندی کے ساتھ پڑھیں-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top