ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

بستی بستے بستے بستی ہے

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
اردو زبان میں ایک معروف مثل ہے بستی بستے بستے بستی ہے، اس کا مطلب یہ ہے ہر بلند منزل تک پہنچنے کے لیے ایک وقت لگتا ہے، آدمی آہستہ آہستہ، جستہ جستہ اعلی مقام اور بلند مرتبہ پر پہنچتا ہے، یعنی آدمی اچانک بڑا نہیں بنتا ہے بلکہ بڑا بننے کے لیے ایک بڑی عمر اور بڑا وقت لگتا ہے، جیسے گاؤں یا بستی کی شروعات ایک دو گھر یا ایک دو افراد سے ہوتی ہے پھر سال گزرتے گزرتے وہی ایک بڑا گاؤں بن جاتا ہے، جب کہ پہلے گاؤں میں ایک دو گھر تھا بعد میں ہزاروں گھر ہوگئے اور پھر وہی گاؤں شہر قصبہ اور صدر مقام بھی حاصل کر لیتا ہے، آپ ہر گاؤں اور ہر شہر کی تاریخ پڑھیے یا اپنے بزرگوں سے اپنے گاؤں کے متعلق معلومات حاصل کیجیے ہر گاؤں کی شروعات ایک دو لوگوں سے ہوتی ہے پھر لوگ آہستہ آہستہ بستے چلے جاتے ہیں، آئیے ہم ام القری (مکہ مکرمہ) کو دیکھتے ہیں، مکہ پہلے کیا تھا کچھ نہیں تھا، وادی غیر زرع تھا، یہاں چرند وپرند اور حیوانات ونباتات کا نام ونشان نہیں تھا، ابراہیم علیہ السلام اسماعیل اور ہاجرہ علیہما السلام کو مکہ میں لائے اور انہیں بحکم الہی مکہ میں چھوڑ کر چلے گئے، انہی دو متبرک شخصیتوں سے شہر مکہ کا آغاز ہوا ہے، اس مثال کو لاکر بتانا یہ مقصود ہے کہ کامیابی اچانک نہیں ملتی ہے، آدمی اچانک بڑا نہیں بنتا ہے بلکہ اس کے لیے اس میں بڑا وقت درکار ہوتا ہے، جہد مسلسل اور سعی پیہم کی ضرورت ہوتی ہے-
قارئین کرام! زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے لیے یہی اصول ہے کہ انسان مسلسل اپنے مشن میں لگا رہے، کبھی ہمت نہ ہارے، برابر اپنے ہدف پر نظر رکھے، برابر محنت وجستجو میں مصروف رہے، جلد بازی بالکل نہ کرے، کیونکہ جلدبازی شیطانی کام ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "وَاﻟْﻌَﺠَﻠَﺔُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎنِ"(سلسلة الأحاديث الصحيحة:1795) ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ شیطان کی جانب سے ہے یعنی جلدبازی ﺷﯿﻄﺎنی ﮐﺎﻡ ہے-
کیوں کہ جو کام عجلت میں کیا جاتا ہے اس میں پختگی برقرار نہیں رہتی ہے، انسان جلدبازی میں الٹا سیدھا کر بیٹھتا ہے، اس لیے کام مسلسل کیا جائے، وقت پر کیا جائے، محنت اور لگن سے کیا جائے یہی کامیابی کا راز ہے، جیسا کہ عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
بِقَدْرِ الْكَدِّ تُكْتَسَبُ الْمَعَالِيْ
وَمَنْ طَلَبَ الْعُلٰی سَهِرَ اللَّيَالِيْ
ترجمہ: کوشش اور محنت کے مطابق بلندی حاصل کی جاتی ہے، اور جو بلندی کا طلب گار ہوتا ہے وہ راتوں رات جاگتا ہے یعنی وہ دن ورات اپنے میدان میں مسلسل محنت کرتا ہے-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ترقی اچانک نہیں ملتی ہے اس کے لیے مسلسل محنت اولین شرط ہے، لہٰذا اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو اپنے مشن پر جمے رہیں، برابر محنت کرتے رہیں، اس لیے کہ ہر کام جو مسلسل کیا جائے اس میں بڑی برکت ہوتی ہے، اس میں طلبہ مدارس کے لیے بڑی قیمتی نصیحت ہے وہ یہ کہ اگر طالب یومیہ دس صفحہ پڑھتا ہے تو سالانہ تین ہزار سے زائد صفحات کا اس نے مطالعہ کر لیا، اگر وہ ہر روز ایک آیت اور ایک حدیث یاد کرتا ہے تو سال بھر میں اس نے تین سو ساٹھ آیتیں اور حدیثیں یاد کر لی، پھر ایسا طالب آہستہ آہستہ ضرور ترقی کرے گا اور ایک وقت آئے گا کہ دنیا اسے نابغہ روزگار میں شمار کرے گی، اللہ ہمیں اپنے وقت سے مستفید ہونے کی توفیق دے اور ہم سب کو دنیا وآخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرے آمین-
══════════❁✿❁ ══════════
 
Top