ذیشان خان

Administrator
دعا کے لئے دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم

مقبول احمد سلفی

کسی بہن کا سوال ہے کہ اس کا بچہ گم ہوگیا ہے کیاوہ دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے دعا کرسکتی ہے ، یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ آج کل برما میں مسلمانوں پرظلم ہونے کی وجہ سےمسلمان ایک دوسرے کو پیغام دے رہے ہیں کہ دو رکعت نماز پڑھ کے برما کے مسلمانوں کے لئے دعا کیجئے۔
جواب : سب سے پہلے ایک بات جان لیں کہ حاجت کے نام سے جو نماز لوگوں میں مشہور ہے وہ نماز صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے اس لئے نماز حاجت یا صلاۃ الحاجہ کی کوئی مخصوص نماز نہیں ہے البتہ اللہ کی کتاب اور محمد ﷺ کی تعلیمات سےعمومی طور پر پتہ چلتا ہے کہ کسی آدمی کو دعا کرنا ہو تو اس سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرسکتا ہے اور اسی طرح کوئی دشوار معاملہ درپیش ہو یا کوئی پریشانی کا سامنا ہو دوگانہ ادا کرکے رب سے دعائیں کرسکتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرۃ:153)
ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو،اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے ۔
اسی طرح صحیح حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکو کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھتے۔
عن حذيفةَ قالَ كانَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إذا حزبَهُ أمرٌ صلَّى(صحيح أبي داود:1319)
ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھنے لگتے تھے ۔
آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے :
ما من رجلٍ يذنبُ ذنبًا ثمَّ يقومُ فيتطَهَّرُ ثمَّ يصلِّى ثمَّ يستغفرُ اللَّهَ إلاَّ غفرَ اللَّهُ لَهُ. ثمَّ قرأَ هذِهِ الآيةَ (والَّذينَ إذا فعلوا فاحشةً أو ظلموا أنفسَهم ذَكروا اللَّهَ ... إلى آخرِ الآيةِ(صحيح الترمذي:406)
ترجمہ: جوشخص گناہ کرتاہے، پھر جاکروضو کرتاہے پھرنمازپڑھتاہے، پھراللہ سے استغفار کرتاہے تو اللہ اسے معاف کردیتاہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی{وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَ مَنْ يَغْفٍرُ الذُّنُوبَ إلاَّ اللهُ وَ لَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَافَعَلُوا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ} (اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہوجاتاہے تو وہ اللہ کو یادکرکے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتاہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے۔)
تو جس بہن کا بچہ گم ہوگیا ہے وہ دورکعت نماز پڑھ کےدعا کے ذریعہ رب سےاپنے بچے کی واپسی کے لئے مدد مانگ سکتی ہے اور اسی طرح دوگانہ ادا کرکے برما کے مظلوم مسلمانوں کے لئے بھی دعا ئیں کی جاسکتی ہیں ۔ساتھ ساتھ ایک بات اور بھی یاد رہے کہ دعا کے لئے نماز ضروری نہیں ہے بغیر نماز کے بھی دعا کرسکتے ہیں اور پنچ وقتہ نمازوں کے بعد انفرادی طور پردعا مانگنا درست ہے نیزدعا کے لئے افضل اوقات کاانتخاب کرنا بہتر ہے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
 
Top