ذیشان خان

Administrator
فرقہ حدادیہ :ایک مختصر تعارف

بقلم : مامون رشید ہارون رشید سلفی.

قارئین کرام ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ عظیم فتنوں کا دور ہے نئے نئے فرقے جنم لے رہے ہیں قسم قسم کے افکار وخیالات اور نو ایجاد اقوال و افعال کی بہتات ہے اعتقادات بدعیہ کی مانو ایک سیل رواں ہے مذہبی سیاسی اعتقادی قومی لسانی احزاب وتنظیمات اور وجہات نظر کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے ہر شخص جو معمولی فکری صلاحیتوں کا مالک ہے وہ کوئی نہ کوئی عجوبہ لے کر نکلتا ہے اور ایک امت کو اپنے پیچھے لگا کر گمراہی کے دلدل میں پھنساتا ہے اور شاید ان خرافات کا سب بڑا مخزن جزیرہ عرب ہے جہاں آئے دن کوئی جدید تحریک کوئی جدید فتنہ سر اٹھاتا ہے یا پھر ایسا ہے کہ عرب علما ان فتنوں کو بروقت بھانپ لیتے ہیں اور ان کے سد باب کی کوشش کرتے اور عوام الناس کو کتابوں تقریروں اور خطبات ومحاضرات کے ذریعے ان سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ہندوستان پاکستان وغیرہ میں بھی فتنوں کی کمی نہیں ہے جدیدیت کا فتنہ, لبرلزم کا فتنہ, برادرس کا فتنہ, تحریکیت اور اخوان وترک پسندی کا فتنہ, بلا علم کے تصدر وظہور کا فتنہ وغیرہ وغیرہ یہاں بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے مگر علما کرام کی بے توجہی کے باعث یہ فتنے دن بدن مضبوط اور تناور ہو رہے ہیں ...

دور حاضر کے تباہ کن فرقوں میں سے ایک فرقہ حدادیہ ہے جس نے سلفیت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا ہے ذیل کے سطور میں میں اسی فرقے کے تعلق سے کچھ باتیں آپ قارئین کی نذر کروں گا ملاحظہ فرمائیں!!

تعارف:
یہ ایک جدید فرقہ ہے جو ایک مصری عالم محمود حداد کی طرف منسوب ہو کر حدادیہ کہلاتا ہے .
محمود حداد مصری کے بارے میں کافی تلاش وبسیار کے بعد صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ یہ ایک مصری آدمی ہیں جن کی پیدائش 1374 ہجری میں ہوئی ہے انہوں نے اپنے ملک ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور وہیں سے کلیۃ الزراعة (faculty of Agriculture) میں سند فراغت حاصل کی پھر ریاض چلے گیے اور جامعہ محمد بن سعود میں بطور محاسب( Accountant ) کے کام کیا پھر وہاں سے مدینہ منورہ چلے گئے اور بعض کتابوں کی اشاعت کا کام کیا ساتھ ساتھ ان کتابوں کے صفحات میں اپنی جانب سے زہر بھرنے کی بھی کوشش کی جس کے نتیجے میں اسے مملکہ عربیہ سعودیہ سے نکال باہر کیا گیا.. (النقولات السلفية في الرد على الطائفة الحدادية حاشية صفحة :19)

محمود حداد کے بارے میں اس مختصر تعارف سے معلوم ہوا کہ ان کی تعلیم کتاب و سنت پر قائم منہجی تعلیم نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے شرعی تعلیمات حاصل کی ہے بلکہ وہ تو کھیتی باڑی کے سسلسلے میں علم رکھنے والا ایک معمولی انسان ہیں جنہیں علوم شرعیہ سے کوئی واسطہ ہی نہیں اسی وجہ سے جامعہ محمد بن سعود میں بھی انہیں تدریس کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی بلکہ انہیں وہاں بطور محاسب رکھا گیا اور ساتھ ہی جب انہوں نے کتابوں کی اشاعت کا کام کیا اور ان میں اپنے باطل افکار داخل کرنے کی کوشش کی تو انہیں وہاں سے بھگا دیا گیا...
محمود حداد مصري کے بارے میں علما کے اقوال:
چونکہ اس فرقے کی بنیاد اسی فتنہ پرور گمراہ کی کاوشوں سے پڑی ہے اس لیے اس کی حقیقت سے آگہی اس فرقے کی حقیقت واضح کر دے گی..
(1) محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی :
جب ایک سائل نے علامہ البانی کے سامنے حداد کی بعض گمراہیوں کا ذکر کیا اور ان کے سلسلے میں شیخ کا موقف جاننا چاہا تو آپ نے فرمایا : هنا يظهر لكم أهمية التمسك بمنهج السلف ، هذا الرجل الآن طلق هذا ، وتمسك بفهمه للكتاب والسنة ، فَضَلَّ ضلالًا بعيدًا ، وأمثاله كثر في كل عصر ؛ في كل مكان"(سلسلة الهدى والنور، الشريط رقم: 782)

یہاں پر تمہارے لیے منہج سلف اختیار کرنے کی اہمیت آشکارہ ہو جائے گی، اس آدمی نے اس وقت منہج سلف کو چھوڑ دیا ہے اور کتاب و سنت کے سلسلے میں اپنے فہم پر اعتماد کیا ہے لہذا وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا اس کے ہم منہج ہر دور میں ہر جگہ بہت زیادہ ہیں.

(2) محدث یمن علامہ مقبل بن ہادی الوادعی :

" أما الحداد فهو محمود الحداد وكان على استقامة لا بأس بذلك الله أعلم أكان يتكتم ، وكان بينه وبين الشيخ ربيع تعاون وصداقة ثم بعد ذلك أظهر ما عنده من الضلال وهو أن < فتح الباري > كتاب من كتب الضلال لأنه أخطأ في بعض العقيدة فينبغي أن يُحرق وأنا أقول : لولا أن النبي - صلى الله عليه وعلى آله وسلم - يقول : " لا يحرق بالنار إلا رب النار " لقلنا : أنت يا حداد أولى بأن تُحَّرق ، < فتح الباري > الذي يعتبر خزانة علم وليس له نظير في كتب السنة جزى الله مؤلفه خيراً كونه أخطأ في بعض المسائل تُغمر فيما له من الحسنات ، وهكذا أيضاً < شرح النووي > ، فهذه من طاماته أعظم ما عنده وهو قوله : أن < فتح الباري > ، و < شرح صحيح مسلم > يحرقان والله المستعان
(شريط : أسئلة الشباب السلفي في حي الدائري )
للإستماع للصوتية


حداد یہ محمود الحداد ہے شروع شروع میں یہ شخص ٹھیک ٹھاک تھا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا وہ اپنا معاملہ چھپا رہا تھا ؟ اس کے اور شیخ ربیع المدخلي کے مابین تعاون اور دوستی کا رشتہ تھا پھر اس نے اپنی گمراہیوں کا اظہار کیا اور وہ یہ کہ فتح الباری گمراہ کن کتابوں میں سے ہے کیونکہ امام ابن حجر نے عقیدے کے بعض مسائل میں غلطی کی ہے لہذا اس کو جلا دینا چاہیے میں کہتا ہوں کہ اگر اللہ کے رسول نے یہ نہ کہا ہوتا کہ آگ کا عذاب صرف آگ کا رب ہی دیگا تو ہم کہتے کہ آئے حداد تم جلائے جانے کے زیادہ مستحق ہو .. فتح الباری علم کا خزینہ ہے حدیث کی کتابوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں اللہ تعالٰی اس کے مؤلف کو بہتر بدلہ عطا فرمائے... آپ کی بعض غلطیاں آپ کے حسنات میں دفن کر دی جائیں گی اسی طرح" شرح نووی علی صحیح مسلم " کا بھی معاملہ ہے یہ اس کی گمراہیوں میں سے ہے اس کی سب سے بڑی گمراہی اس کا یہ کہنا ہے کہ "فتح الباری اور امام نووی کی شرح صحیح مسلم جلائے جانے کے مستحق ہیں...

(3) شیخ العقیدہ محمد امان جامی :

شیخ فرماتے ہیں : جیسا کہ کہا گیا ہے محمود الحداد کا تعلق تکفیریوں سے تھا پھر وہ اس ملک ( سعودیہ عربیہ) میں آیا تاکہ توحید اور سنت کا جھنڈا بلند کرے اور اندر ہی اندر اس جھنڈے کی آڑ میں اسلام سے دشمنی نبھائے، یا وہ جاہل تھا چنانچہ اس نے مرتکب کبیرہ اور مسلسل فسق و فجور میں مبتلا شخص کا حکم بیان کرنا چاہا لیکن اپنی جہالت کی وجہ سے بیان نہ کر سکا..لہٰذا اس کے بارے میں دو ہی باتیں کہی جا سکتی ہیں: یا تو جیسا کہ کہا گیا ہے وہ تکفیریوں کے ساتھ تھا اور اس نے یہ کام جان بوجھ کر کیا تاکہ سنت اور عقیدے کا علم بلند کرنے کے بعد اندر سے اس کی مخالفت کرے ، یہ احتمال قوی ہے جیسا کہ ہمیں ثقہ لوگوں کے ذریعے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ تکفیریوں میں سے تھا ..
دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ تکفیریوں میں سے نہ تھا بلکہ وہ جاہل تھا وہ ایسی چیز میں داخل ہو گیا جس میں لکھنے کی اس کے پاس قابلیت نہ تھی چنانچہ بے شعوری میں معتزلہ کے عقیدے میں ملوث ہو گیا..


(4) محدث مدینہ علامہ حماد انصاری رحمہ اللہ :

شیخ فرماتے ہیں : وهذا الحداد قد سيطر على بعض طلبة العلم ، ولا أدري كيف سيطر عليهم ، أهو ساحر أمَّاذا ؟"(المجموع في ترجمة العلامة المحدث الشيخ حماد بن محمد الأنصاري - رحمه الله تعالى -" ( 632/2).

اس حداد نے بعض طلبہ علم پر تسلط جما لیا ہے میں نہیں جانتا اس نے ایسا کیسے کیا ، کیا وہ جادو گر ہے یا کیا ہے وہ ؟

شیخ حماد کے فرزند عبد الأول بن حماد انصاری فرماتے ہیں کہ : والد محترم رحمہ اللہ طلبہ علم کو حداد سے دور رہنے کی تلقین فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نوجوان طبقے کے بعض افراد ہر ایرے غیرے کے پیچھے دوڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں(المجموع في ترجمة العلامة المحدث الشيخ حماد بن محمد الأنصاري - رحمه الله تعالى -" ( 632/2).

اسی طرح فرمایا:" لو كان لي سلطان على الذي يقول بعدم القراءة في فتح الباري وشرح النووي على صحيح مسلم ؛ لأخذته وسجنته حتى يتوب ، وهذا القول لا يقوله إلا سفيه ، _يعني : عدم قراءة الفتح وشرح مسلم"( المجموع في ترجمة العلامة المحدث الشيخ حماد بن محمد الأنصاري - رحمه الله تعالى -" 2/ 582)

اگر مجھے ایسے آدمی پر دسترس حاصل ہوتا جو فتح الباری اور امام نووی کی شرح صحیح مسلم کو نہ پڑھنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے پکڑتا اور قید کر لیتا یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے ، یہ بات یعنی فتح الباری اور امام نووی کی شرح صحیح مسلم کو نہ پڑھنے کی بات صرف کم عقل پاگل ہی کر سکتا ہے.

(5) حامل لواء الحرح و التعدیل فی هذا الزمان علامہ ربیع بن ہادی عمیر المدخلي:
قال حفظه الله:" الحدادية جماعة غلوا في الحداد ورفعوه ، وهو رجل جاهل متخبط ظال"(مجموع كتب ورسائل وفتاوى الشيخ ربيع" (14/549)

"حدادیہ ایک ایسی جماعت ہے جس نے حداد کے سلسلے میں مبالغہ آرائی کی اور اسے بہت اونچا مقام دے دیا ہے جبکہ وہ ایک جاہل متخبط اور ظالم انسان ہے "

وقال:" أنا كتبت فيه "مجازفات الحداد" وبينت خبثه وشره وكذبه "(مجموع كتب ورسائل وفتاوى الشيخ ربيع" 14/549)
"میں نے حداد کے بارے میں "مجازفات الحداد" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس کے اندر اس کی خباثت شرارت اور دروغ گوئی کو واضح کیا ہے "

اور فرمایا: "فللحداد حزب لئيم، قام على الفجور والكذب، وعلى أردأ الأخلاق - التي تفوق في الشراسة والخسة شراسة الوحوش وخستها....( مجموع كتب ورسائل وفتاوى الشيخ ربيع" 9/520)

حداد کی ایک گھٹیا کمینی جماعت ہے جس کی بنیاد کذب وفجور اور اخلاق رذیلہ پر ہے جو جماعت کمینگی اور اوچھا پن میں جانوروں سے بھی بدتر ہے "

شیخ حدادیہ کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ لوگ اہل بدعت کے ہاتھوں میں زہریلے نیزے ہیں جو سلفیوں کی پیٹھوں میں مارے جاتے ہیں جب جب یہ سلفی حضرات سنت کی تائید اور اس کے دفاع میں کھڑے ہوتے ہیں. (خطورة الحدادية الجديدة " للشيخ ربيع بن هادي المدخلي ص: 23)


ان کے علاوہ دیگر کبار علماء عصر نے بھی حداد اور حدادیہ کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان سے دور رہنے کی شدید تلقین کی ہے جن میں علامہ عبید بن عبد اللہ الجابری, علامہ احمد بن یحیی النجمی, علامہ صالح بن فوزان الفوزان, علامہ ثناء اللہ زاہد پاکستانی ,دکتور عبد اللہ بن عبد الرحیم بخاری, شیخ محمد بن سعید رسلان, شیخ محمد بن زمزان الھاجری, شیخ احمد بن عمر بازمول شیخ خالد بن ضحوی الظفیری, شیخ فواز بن علی المدخلی وغیرہم ہیں..

حدادیہ کی تاریخ:

حدادیہ کا ظہور خلیجی بحران (سقوط کویت 1990-1991) کے دوران ہوا جیسا کہ شیخ ربیع المدخلي نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے: یہ تاریخ یعنی خلیجی بحران ہی حدادیہ کی دعوت کے ظہور کی ابتدا ہے جس کی بنیاد تقیہ اور چالباز حزبیت پر ہے ( مجموع كتب ورسائل وفتاوى الشيخ ربيع" (4/86)

حدادیہ کے مشہور شخصیات :
حدادیہ تکفیریہ کے ہاں معتمد علیہم اور جلیل القدر ائمہ جن کے بارے میں وہ حد سے زیادہ غلو کرتے ہوئے انہیں امام علامہ محدث فقیہ وغیرہ وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں محمود الحداد المصري ، عبد اللطيف باشميل ، فالح بن نافع الحربي ، فوزي البحريني ، عبد الحميد الجهني ، عبد الله صوان الغامدي ، يحيى بن علي الحجوري ، وغیرہم ہیں.

حدادیہ اپنے افکار کو وسعت دیتے اور ان میں تنوع پیدا کرتے ہوئے کئی مراحل سے ہو کر گزرا :

پہلا مرحلہ : اس فرقے کی ابتدا امام نووی,امام ابن حجر , امام شوکانی اور علامہ البانی پر طعن و تشنیع اور ان کبار محدثین کی شان میں گستاخی کے ذریعے ہوئی..

دوسرا مرحلہ: اس مرحلے میں ان لوگوں نے طعن و تشنیع کے دائرے کو تھوڑا وسیع کیا اور امام نووی وابن حجر رحمہما اللہ کے ساتھ ساتھ ابن تیمیہ وابن القیم رحمہما اللہ کو بھی بدعتی قرار دیا اور معاصرین میں علمائے مدینہ اور امام ابن باز، امام ابن عثیمین اور شیخ ربیع بن ہادی المدخلي وغیرہم پر بھی نقد وجرح کرنے لگے ...

تیسرا مرحلہ: ان لوگوں نے اس مرحلے میں اپنے دائرہ طعن کو اتنا وسیع تر کر دیا کہ ہر اس عالم دین کو مرجئ قرار دینے لگے جو تارک صلاۃ کو کافر نہیں سمجھتے حتی کہ ان لوگوں نے جمہور اہل سنت کو مرجیہ قرار دیا اور بعض پر تو جہمیت کا الزام بھی عائد کر دیا... نعوذ باللہ من الخذلان.

چوتھا مرحلہ : اس مرحلے میں ان حضرات نے نصوص کتاب و سنت پر بھی دست درازی شروع کر دی اور ان نصوص کو کتوں کے بھونکنے سے تشبیہ دی ہے .

اس طرح یہ لوگ بڑی محنت سے دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہوئے اور اپنے آپ کو ہلاک و برباد کر ڈالے.


حدادیہ کے اوصاف(انحرافات اور گمراہیاں) :

(1) یہ لوگ سلفی منہج کے حامل معاصر کبار علما سے حد درجہ بغض رکھتے ہیں , ان کو جاہل اور گمراہ قرار دیتے اور ان پر افترا پردازی کرتے ہیں جیسے البانی ابن باز ابن عثیمین ربیع بن ہادی المدخلي اور بالخصوص علمائے مدینہ منورہ عبد المحسن العباد, حماد انصاری وغیرہم پر... اس سے بھی اگے بڑھتے ہوئے یہ لوگ امام ابن تیمیہ امام ابن القیم اور ابن ابی العز حنفی پر حملہ کرتے ہیں تاکہ انہیں غیر معتبر قرار دے کر ان کے اقوال کو ساقط الاعتبار قرار دے..

(2) یہ لوگ ہر اس شخص کو بدعتی قرار دیتے ہیں جو کسی ایک بھی بدعت کا مرتکب ہو جائے اور امام ابن حجر ان کے نزدیک سید قطب سے بھی بدتر ہیں ( نعوذ باللہ)

(3) یہ لوگ ہر اس شخص کو بدعتی قرار دیتے ہیں جو کسی ایک بدعت کے مرتکب شخص کو بدعتی نہ قرار دے بلکہ اس سے عداوت اور دشمنی شروع کر دیتے ہیں.. اگر کوئی کہے کہ فلاں کے عقیدے میں اشعریت ہے یا فلاں اشعری ہے تو یہ کافی نہیں ہے بلکہ فلاں شخص بدعتی ہے کہنا ضروری ہے ورنہ پھر وہی بدعتی قرار پائے گا..


(4) ان کے نزدیک اہل بدعت کے حق میں "رحمہ اللہ" کہنا حرام ہے اور اس سلسلے میں رافضی جہمی قدری اور کسی ایسے عالم کے مابین جو کسی ایک بدعت کا مرتکب ہو جائے کوئی فرق نہیں...

(5) جو لوگ ابوحنیفہ, ابن الجوزی, نووی, ابن حجر, ابن ابی العز اور امام شوکانی وغیرہم کے حق میں "رحمہ اللہ " کہتے ہیں یہ لوگ انہیں بھی بدعتی قرار دیتے ہیں ... بلکہ امام ابو حنیفہ کو ابو حنیفہ کے بجائے ابو جیفۃ کہتے ہیں.. اللہ اکبر..

(6) ان کی ایک امتیازی صفت یہ ہے کہ یہ لوگ سلفیوں سے سخت دشمنی اور بغض رکھتے ہیں بالخصوص علمائے مدینہ اور شیخ البانی شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین سے ان لوگوں نے ان علما کی تنقیص میں مستقل کتابیں لکھی ہے..

شیخ ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ البانی کی تنقیص اور ان پر طعن و تشنیع سے بھری حداد کی "الخميس" نامی ایک کتاب دیکھی ہے جو ہاتھ سے لکھے چار سو صفحات پر مشتمل ہے اگر طبع کی جائے تو ایک ہزار صفحات تک پہنچ جائے گی .. اس نے اس کتاب کا نام "الخميس" Armstrong Army رکھا ہے یعنی ایسا لشکر جس کا مقدمہ مؤخرہ(ساقہ) قلب میمنہ اور میسرہ ہو.. ( خطورة الحدادية الجديدة ص: 51)

(7) یہ لوگ معین اشخاص پر لعنت بھیجتے ہیں اور لعن طعن میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کرتے ہیں فلاں کذاب فلاں ملعون ہے فلاں جاہل ہے وغیرہ وغیرہ حتی کہ ان میں سے بعض لوگ امام ابوحنیفہ پر بھی لعنت بھیجتے ہیں بلکہ بعض تو انہیں کافر تک قرار دیتے ہیں.

(8)یہ لوگ تکبر اور سرکشی میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بےپروا ہو کر حق کا انکار کرتے ہیں اور اپنی خباثتوں کی تائید کے لیے بعض ائمہ کے شاذ اقوال کو پیش کرتے ہیں یہ لوگ امام احمد کے نام کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اپنے کبر وعناد ہی کی وجہ سے ان لوگوں نے محمود حداد کے بارے میں کبار سلفی علما کی تصریحات اور ردود کو خاطر میں نہ لایا اور اس کو جلیل القدر امام مانتے رہے.

(9) یہ لوگ شدید تقیہ سے کام لیتے ہیں اور مجہول ناموں سے کتابیں اور مضامین لکھ کر چھپ چھپ کر سلفیت پر وار کرتے ہیں اور جب ان میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا اس طرح یہ لوگ اخفائے ذوات وامور میں روافض سے بھی آگے جا چکے ہیں.

(10) یہ لوگوں جرح و تعدیل کے سلسلے میں اہل سنت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہیں اور ائمہ جرح و تعدیل کی اور جرح و تعدیل کے سلسلے میں ان کے اصولوں کی تنقیص واستخفاف کرتے ہیں .

(11) ان لوگوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم تک کو بدعتی قرار دیا ہے... حتی کہ یہ لوگ فتح الباری, شرح نووی علی صحیح مسلم, فتح القدیر اور نیل الاوطار وغیرہ کتب جلیلہ کو جلا ڈالنے کی بات کرتے ہیں..

وغیرہ وغیرہ ان صغار العلم متشددین تکفیریین کے انحرافات جن کا ذکر سلفی کبار علمائے عرب نے تفصیلی طور پر اپنی کتابوں میں کر رکھا ہے ان میں سے چند کے اسما درج ذیل ہیں :

(1) النقولات السلفية في الرد على الطائفة الحدادية للشيخ عبد اللہ بن محمد عامر الاحمری، تقدیم: فضليۃ الشیخ احمد بن یحییٰ النجمی، فضيلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان، فضیلۃ الشیخ حافظ ثناء اللہ زاہد پاکستانی.

(2) خطورة الحدادية الجديدة وأجه الشبه بينها وبين الرافضة ، للشيخ ربيع بن هادي عمير المدخلي.. شیخ نے اس کتاب کے اندر حدادیہ اور روافض کے مابین تشابہ کے بارہ امور ذکر کیے ہیں.

(3) طعن الحدادية في علماء السنة للشيخ ربيع بن هادي المدخلي ،

(4) صفات الحدادية للشيخ ربيع بن هادي المدخلي.

(5) المقالات الأثرية في الرد على شبهات وتشغيبات الحدادية للشيخ ربيع المدخلي.

(6) الصواعق السلفية على أوكار الطائفة الحدادية التكفيرية، للشيخ أحمد بن عمر بازمول.

لہذا جو اس فرقے کے بارے میں مزید تفصیلات کا خواہاں ہو وہ ان کتابوں کا مراجعہ کرے..

اللہ ہمیں فہم سلیم اور فکر مستقیم سے نوازے آمین.
 
Top