ذیشان خان

Administrator
اسما و صفات کے باب میں مجمل الفاظ و کلمات کا استعمال؟

ڈاکٹر أمان الله محمد إسماعيل.

* اہل سنت والجماعت کے نزدیک اسما و صفات کا باب توقیفی ہے۔
* اہل سنت والجماعت اسما و صفات کے باب میں انہیں الفاظ و کلمات پر اقتصار کرتے ہیں جو نصوص وحی سے ثابت ہوتے ہیں۔
* اہل سنت والجماعت اللہ کیلیے اسما و صفات ثابت کرتے ہیں اور تمثیل سے کلی طور پر اجتناب و اعراض کرتے ہیں۔
* البتہ مخالفین اہل سنت والجماعت یعنی اہل کلام اسما و صفات کے باب میں تحریف و تعطیل کی باطل راہ اپناتے ہیں۔
* اہل کلام کا کہنا ہیکہ اللہ کے لیے اسما و صفات ثابت کرنے سے تشبیہ و تمثیل لازم آئیگی، اہل کلام تشبیہ و تمثیل سے بھاگتے ہوئے اسما و صفات کا کلی یا جزوی طور پر انکار کرتے ہیں۔
* چونکہ اسما و صفات کے باب میں بطور نفی و اثبات اہل سنت والجماعت کے نزدیک قرآن و صحیح احادیث سے ماخوذ وافر مقدار میں دلائل و براہین موجود ہیں، جو اہل کلام کے پاس نہیں ہے، اس لیے انہوں نے اپنے عقائد کو مزین کرنے کیلیے کچھ نئے الفاظ و کلمات کا انتخاب کیا ہے، جن کے سہارے انہیں اسما و صفات انکار کرنے یا غلط تاویل پیش کرنے میں مدد ملتی ہے، انہیں الفاظ و کلمات کو عقیدہ کے باب میں مجمل الفاظ و کلمات کہا جاتا ہے ۔
* چونکہ یہ محدث الفاظ و کلمات حق و باطل اور صحیح و سقیم کے درمیان مشترک ہیں، اس لیے انہیں الفاظ مجملہ یا کلمات مجملہ کہا جاتا ہے۔
* بعض مجمل الفاظ: جسم ، جوہر، حیز، جہت ، ترکیب ، تعیین، حد وغیرہ۔
* مجمل الفاظ و کلمات کے بارے میں یہ جان لینا ضروری ہے کہ یہ الفاظ و کلمات بطور نفی و اثبات قرآن و احادیث میں وارد نہیں ہیں۔
* اہل کلام کا ان مجمل الفاظ و کلمات کی ایجاد و استعمال کا اصل مقصد یہ ہے کہ ان مزخرف اور مزین الفاظ و کلمات کے ذریعہ اسما و صفات کی تحریف و تعطیل کی جائے۔
* اہل سنت والجماعت کا ان مجمل الفاظ و کلمات کے بارے میں یہ منہج و طریقہ ہیکہ وہ ان الفاظ و کلمات میں توقف کرتے ہیں، کیکہ یہ وارد نہیں ہے۔
* البتہ اہل سنت والجماعت ان الفاظ و کلمات کے معانی میں استفسار کرتے ہیں، اگر معنی ومفہوم صحیح ہوتا ہے تو اسے قبول کرتے ہیں اور اگر غلط ہوتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں، اور اس کیلیے صحیح و شرعی لفظ ہی استعمال کرتے ہیں ۔
* مثال: مکان: اگر کوئی سوال کرے کہ کیا اللہ کیلیے جسم ہے؟ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ تم جسم سے کیا مراد لیتے ہو؟ اگر وہ جسم سے مراد عام بدن لیتا ہے جو اللہ کے شایان شان نہیں ہے، تو اس معنی کا انکار کرتے ہیں، اور اگر جسم سے مراد ایسا معنی لیتا ہے جو اللہ کے شایان شان ہے تو اس معنی کو اللہ کے لیے ثابت کرتے ہیں۔
* دوسری مثال: جہت: اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالی کس جہت میں ہے؟ تو اس سے استفسار کیا جائیگا کہ تم جہت سے کیا مراد لیتے ہو؟ اگر وہ جہت سے جہت علو مراد لیتا ہے تو یہ معنی اللہ کیلیے ثابت کریں گے، کیونکہ اللہ تعالی اوپر ہے، اگر جہت سے مراد یہ لے کہ اللہ تعالی ایک جگہ محصور ہے تو یہ معنی اللہ کیلیے باطل ہے، کیونکہ اللہ تعالی کسی جگہ محصور نہیں ہے۔
* اللہ تعالی سے دعا ہیکہ وہ ہمیں اس کیلیے صرف اور صرف صحیح و ثابت الفاظ و کلمات ہی ثابت کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ۔
 
Top