ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

تعلیمی زوال کے چند اسباب

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
استاد: جامعہ محمدیہ مہسلہ، کوکن رائے گڑھ، مہاراشٹر
.........................................................
ہم بار بار سنتے ہیں کہ مدارس ومکاتب دین کے قلعے ہیں، آج مجھے یہ کہنے میں کوئی مشکل نہیں کہ مدارس ہی کی بدولت اسلام زندہ ہے اور مسلمانوں میں ایمان کی روح باقی ہے، لیکن یہ بھی ایک بہت بڑی سچائی ہے ملک وبیرون ملک کے طول وعرض میں دینی اداروں کی بھرمار ہے مگر اکثر جگہوں پر تعلیمی وتربیتی زوال ہے، فارغین میں وہ صلاحیت ومہارت بظاہر نظر نہیں آتی جو کہ مطلوب ہے، الا ما شا اللہ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی سسٹم میں کہیں نہ کہیں خرابی ضرور ہے جس کے سبب تعلیمی زوال کا اثر ظاہر ہو رہا ہے، آئیے آج تعلیمی زوال کے اسباب کے بارے میں جانتے ہیں-
1) اخلاص کا فقدان-
2) ذمہ داران کا بداخلاق ہونا، علماء کرام کے حقوق ادا نہ کرنا، اساتذہ کو اپنا نوکر سمجھنا-
3) قلیل مشاہرے پر اساتذہ کا تقرر کرنا-
4) ماہر اور اچھے اساتذہ کو تدریس کے لیے منتخب نہ کرنا-
5) گھنٹیوں کی تقسیم میں اساتذہ کی ذاتی دلچسپی کا خیال نہ رکھنا، جیسے حدیث کے ماہر شخص کو نحو وصرف کی گھنٹیاں دے دینا، اور نحو کے ماہر کو حدیث اور تفسیر پڑھانے کے لیے مختص کر دینا-
6) والدین اور سرپرستوں کی لاپرواہی برتنا، اپنے بچوں کی تعلیمی رپورٹ نہ لینا-
7) مستطیع ہونے کے باوجود بھی فیس نہ جمع کرنا، فری میں پڑھانا یعنی اپنی اولاد کو ناحق زکوٰۃ کھلانا-
8) طالب کا خود تعلیم پر توجہ نہ دینا، کتابوں کا مطالعہ نہ کرنا، سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنا-
9) بلاوجہ سینیئر اساتذہ کو نکال دینا-
10) ایڈمیشن کے وقت طلبہ کا صحیح انٹرویو نہ لینا بس جو آئے سب کو مدرسے میں رکھ لینا-
11) ناظم تعلیمات یا مہتمم کا اپنی ذمہ داری اچھی طرح ادا نہ کرنا-
12) امتحان لینے میں تساہل برتنا، بالکل آسان پیپر بنانا-
13) مناسب تادیبی کارروائی پر پابندی عائد کرنا-
14) ناظم تعلیمات کا اساتذہ سے ماہانہ تعلیمی رپورٹ نہ لینا-
15) نصاب میں توازن نہ رکھنا-
16) تعلیم میں جدید تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھنا-
17) سالانہ امتحان میں ششماہی نصاب کو بالکل ترک کر دینا-
18) اساتذہ کا اپنا نصاب مکمل نہ کرنا-
19) طلبہ کو باندھ کر رکھنا، ذہنی آزادی سلب کر لینا، حد سے زیادہ ان پر سختی کرنا-
20) طلبہ کو انعامات سے نہ نوازنا اور ان کی حوصلہ افزائی نہ کرنا-
21) مادیت پرستی کا غلبہ-
22) ارباب مدارس کا تعلیم وتعلم، طلبہ واساتذہ کے تقاضوں سے ناواقف ہونے کے باوجود بھی ذمہ داری قبول کر لینا-
23) اساتذہ کا زیادہ تر خارجی امور میں مصروف رہنا، جیسے دعوتی دورے کرنا، چندہ کرنا وغیرہ-
24) انتہائی مغفل، لاپرواہ، بدمعاش اور بداخلاق طالب علم کا بھی اخراج نہ کرنا-
25) ادارے کو چاپلوسی ،حسد، تعصب، اختلاف اور بےایمانی سے پاک نہ رکھنا-
26) طلبہ کو تعلیم کا شوق پیدا کرنے، پڑھنے لکھنے پر ابھارنے کا کوئی سسٹم نہ ہونا، جیسے ماہانہ دروس وغیرہ-
27) اساتذہ کا بغیر مطالعہ کے پڑھانا-
28) اساتذہ کی گھنٹیوں میں حد اعتدال سے زائد بڑھا دینا-
29) تدریس کے ساتھ اساتذہ کو مختلف کاموں میں الجھائے رکھنا-
30) اساتذہ کی تنخواہیں روک لینا اور بہت تاخیر سے بمشقت دینا-
31) مطبخ کا غیر منظم اور غیر مستحکم نظام-
یہ کچھ اسباب ہیں جن کی وجہ سے تعلیم کا معیار گرتا جا رہا ہے، واللہ بعض اداروں کی تعلیمی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے، دل روتا ہے، لہٰذا اے ارباب مدارس، مہتمم، انتظامیہ کمیٹی مع اساتذہ سب کو چاہیے کہ سب مل کر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، تعلیمی ترقی کے لیے یکجٹ ہوکر اپنا لائحہ عمل تیار کریں، اللہ کے لیے یہ طلبہ آپ کے ہاتھ میں ایک امانت کی حیثیت سے ہیں، ہر گاؤں کا ایک ایک طالب ایک انجمن اور ایک امت ہے، اسے سنوارنا، نکھارنا، تراشنا، قابل بنانا، اسے حافظ، قاری، عالم، فاضل، محقق، محدث، مناظر، مفسر، مفتی، صحافی، قاضی، مصنف، داعی، مبلغ، مقرر، خطیب بنانا آپ سب کی ذمہ داری ہے، ذرا سوچیں ہر ہر ادارے پر قوم کے محسنین بےچارے کتنا خرچ کرتے ہیں، آخر ان کا مقصد کیا ہے یہی نا کہ مدرسے سے علماء کی اچھی ٹیم تیار ہو، دین کا کام ہو، آج اس گرانی کے دور میں ہر ایک ادارہ کا سالانہ بجٹ تقریباً کروڑ سے زائد جا رہا ہے، اس لیے آپ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے غور کریں، اور قوم کے نونہالوں کی اچھی تربیت کریں، انہیں جم کر دین وادب سکھائیں، انہیں مخلص بنائیں، اور اپنا تعلیمی نظام مضبوط ومستحکم بنائیں تاکہ قوم کے سرمایہ کا صحیح استعمال ہوسکے اور ان کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوسکے، اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top