ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

وقت کی حفاظت کریں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
وقت اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے، اللہ اس نعمت کو ہر امیر یا غریب، ہر حاکم یا محکوم بلاامتیاز سب کو عطا کرتا ہے، لیکن انسان کماحقہ اس کی قدر نہیں کرتا ہے اس کا صحیح استعمال نہیں کرتا ہے، اسی لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ"(صحيح بخاری:6412) دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکہ کھائے ہوئے ہیں نمبر ایک صحت و تندرستی، نمبر دو خالی اوقات-
لیکن موجودہ زمانے کی یہ بہت بڑی سچائی ہے کہ آج ہم لوگ اپنے وقت کو خواہ مخواہ ضائع کر رہے ہیں، بالخصوص سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ ہمارا وقت ضائع ہو رہا ہے، ہم فیس بک پر بیٹھ کر ایک دوسرے کی کھینچاتانی میں لگے رہتے ہیں، ایک دوسرے پر بےمقصد تنقیدیں کرتے ہیں، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں، اصلاح کے نام پر فساد مچاتے ہیں، اپنی ساری بھڑاس سوشل میڈیا پر نکالتے ہیں، اپنے وقت کو برباد کرتے ہیں، جب کہ یہ ہمارا وقت بہت قیمتی ہے سونے چاندی ہیرے جواہرات سے بھی مہنگا ہے، لیکن پھر بھی ہم غفلت کے شکار ہیں-
آئیے ہم محاسبہ کریں کہ ہمارا پورا وقت کہاں پر خرچ ہوتا ہے، اگر ہم محاسبہ کرتے ہیں تو ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارا پورا وقت موبائل فون پر صَرف ہوتا ہے، جب کہ ہم سب اچھی طرح واقف ہیں کہ وقت اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے جو ہماری حیات سے منسلک ہے، وقت ختم ہوگیا تو زندگی ختم ہوگئی، گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا ہے، اور جب موت کا فرشتہ روح نکالنے کے لیے حاضر ہو جائے گا تو آدمی لاکھ وقت مانگے، لاکھ منت سماجت کرے، وقت ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں-
لہٰذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم کو جو آج وقت ملا ہوا ہے ہم اپنے وقت کی حفاظت کریں، علم سیکھیں، بچوں کی تربیت کریں، تجارت یا اپنے اصل کام میں وقت دیں، دین سیکھیں، کتابوں کا مطالعہ کریں، زندگی سے لطف اٹھائیں، لیکن اگر ہم یونہی وقت کو ضائع کرنے میں لگ جائیں تو یہ بڑی محرومی اور بڑی ناکامی کی بات ہوگی، کیونکہ کل قیامت کے دن اس وقت کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ابن آدم کے پاؤں کل قیامت کے دن رب العالمین کے سامنے سے ٹل نہیں پائیں گے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کر لیا جائے، ان میں سے پہلا سوال یہ ہوگا، "عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ" اس نے اپنی زندگی کو کہاں پر خرچ کیا؟ دوسرا سوال یہ ہوگا "وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ" اپنی جوانی کس میں گزاری؟ (سنن ترمذی:2415/حسن) یعنی اپنا وقت کہاں کہاں استعمال کیا-
وقت کی حفاظت کرنا، اپنی زندگی کو فضولیات اور لغویات سے بچانا ہی ایک اچھے مسلمان کی پہچان ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"(سنن ترمذی:2316/صحيح) اچھے مسلمان کی پہچان میں سے اس کا لغو اور بےکار چیزوں کا چھوڑ دینا ہے-
دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو وقت سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کے فضول کاموں سے بچائے آمین- ═════ ❁✿❁ ══════
 
Top