ذیشان خان

Administrator
اللہ تعالی کی صفات اللہ تعالى کی ذات کی طرح بے مثال ہیں

ڈاکٹر أمان الله محمد إسماعيل.

اللہ تعالی کی ذات سے متعلق تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہیکہ اللہ تعالی کی ذات حقیقی ہے، وہمی و خیالی نہیں۔
البتہ اللہ تعالی کی ذات بے مثال ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: " ليس كمثله شيء وهو السميع البصير".
اہل سنت والجماعت اللہ تعالی کی ذات ثابت کرتے ہیں، اور ثابت کرتے ہوئے اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کی ذات اس کے شایان شان ہے، اور اسکی ذات مخلوق کی ذات سے الگ تھلگ ہے، خالق و مخلوق کی ذات کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے۔
اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ مسئلہ کہ اللہ کی ذات ہے، پر بے مثال ہے، اجماعی اور متفق علیہ مسئلہ ہے۔
اہل سنت والجماعت اللہ تعالی کی ذات کی طرح اس کی صفات کو بھی اللہ کیلیے ثابت کرتے ہیں۔
اہل سنت والجماعت اللہ کی ذات کی طرح اس کی صفات کو ثابت کرتے ہوئے تمثیل سے اجتناب کرتے ہیں۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس چیز کو ایک مشہور قاعدہ سے ثابت کیا ہے، وہ ہے: "القول في الصفات كالقول في الذات"۔ اس قاعدہ کا مفاد یہ ہیکہ اگر ذات الہی ثابت کرنے میں تمثیل لازم نہیں آتی ہے تو صفات بھی ثابت کریں، اس سے بھی تمثیل لازم نہیں آئے گی۔
معلوم ہوا کہ اہل سنت والجماعت اللہ کی ذات و صفات کو تمثیل سے منزہ کرتے ہوئے اللہ تعالی کیلیے ثابت کرتے ہیں۔
لہذا اہل کتاب و سنت کو چاہیے کہ جس طرح ذات الہی بغیر تمثیل کے ثابت ہے اسی طرح صفات الہیہ کو بھی بغیر کسی تاویل و تمثیل کے ثابت کریں، چاہے وہ صفات ذاتی ہوں یا فعلی۔
مثال:
(١) قرآن و حدیث میں اللہ کے دو ہاتھ ثابت ہیں، "بل يداه مبسوطتان"، "لما خلقت بيدي".
(2) اہل سنت والجماعت اللہ کے شایان شان اس کیلیے دو ہاتھ ثابت کرتے ہیں۔
(3) اہل سنت والجماعت اللہ کے لیے دو ہاتھ ثابت کرتے ہوئے یہ اعتقاد رکھتے ہیں اللہ اور مخلوق کے ہاتھ کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے، خالق کا ہاتھ خالق کے شایان شان اور مخلوق کا ہاتھ مخلوق کے شایان شان ۔
(4) اہل سنت والجماعت اللہ کے ہاتھ کی تاویل قدرت یا نعمت سے نہیں کرتے ہیں۔
گزارش: اہل سنت والجماعت سے التماس ہیکہ اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے باب میں سلف صالحین کے منہج اور اصول وضوابط کو اپنائیں، اور باطل و فاسد تاویلات سے بچیں ۔
اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین۔
 
Top