ذیشان خان

Administrator
مذہب اسلام میں خود کشی حرام ہے

د أمان الله محمد إسماعيل.

مذہب اسلام جہاں ہر اچھی چیز کے کرنے کا حکم دیتا ہے وہیں ہر برے کام سے بچنے کی تاکید فرماتا ہے۔
مذہب اسلام جہاں نفس انسانی کو مکمل حفاظت مہیا فرماتا ہے وہی بلا کسی ضرورت ہر طرح کے قتل انسانی کو جہنمی عمل قرار دیا ہے۔
اس دار فانی میں زندگی گزارتے ہوئے انسان کو خوشی اور غمی کا لاحق ہونا لازمی امر ہے، اسلیے مذہب اسلام نے دنیاوی زندگی کو سعادت مند بنانے کیلیے خوشی اور غمی کے مسائل کی مكمل نشاندہی کی ہے، جنہیں اپنا کر ہر طرح کی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
مذہب اسلام میں جہاں ہر طرح کا قتل گناہ عظیم ہے وہیں مذہب اسلام نے خود کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جہنمی عمل قرار دیا ہے۔
اگر کوئی بھی شخص مذہب اسلام کے اصول و ضابطے کو اپنا لے تو اس سے یہ مجرمانہ اور قبیح عمل کبھی بھی سرزد نہیں ہو سکتا۔
خودکشی اگرچہ بہت بڑا جرم ہے، اور خود کشی کرنے والے کو انواع و اقسام کی سخت وعید سنائی گئی ہیں، لیکن امت کا اجماع ہیکہ خود کشی کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے نہیں نکلتا، بلکہ وہ مسلمان ہی رہتا ہے۔
جب خود کشی کرنے والا شخص کافر نہیں ہوتا تو اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین اسلامی طریقے سے کی جائیگی۔
خود کشی کرنے والے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جائیگی۔
خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ میں امام یا سماج کے کسی معزز فرد کی عدم شرکت کا جواز ہے، البتہ عدم شرکت ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی یہ اصل ہے۔
خودکشی کرنے والے شخص کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائیگا۔
خودکشی کرنے والے کیلیے مغفرت و بخشش اور رفع درجات کی دعا کی جائیگی۔
خودکشی کرنے والے کیلیے صدقہ و خیرات بھی کیا جائیگا، بلکہ وہ اس کے زیادہ مستحق ہے۔
خود کشی کرنے والے سے متعلق جن سزاؤں کا ذکر قرآن و حدیث وارد ہے ان کا تعلق صرف اور صرف وعید کے قبیل سے ہے۔
* اللہ تعالی ہمیں اس قبیح اور جہنمی عمل سے بچنے کی توفیق بخشے۔ آمین ۔
 
Top