ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی قربانیاں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ہمارے ملک ہندوستان سے بالکل ٹھیک پچھم سمت بحر عرب پار ایک عظیم الشان ملک ہے جسے سعودی عرب کہا جاتا ہے، سعودی عرب دنیا کے عین وسط میں واقع ہے، سعودی عرب میں ایک پیارا شہر ہے جسے مدینہ کہا جاتا ہے، مدینہ یہ بحر احمر سے قریب ہے جیسے مکہ بحر احمر سے قریب واقع ہے، سعودی عرب کی بڑی خدمات ہیں ان میں سب سے بڑی خدمت توحید وسنت کی نشر واشاعت ہے، پورے مملکہ میں ہزاروں دعوتی سینٹر، مساجد، مدارس، کلیات وجامعات کے جال بچھے ہوئے ہیں جہاں پوری دنیا کے طلبہ خالص کتاب وسنت کو فہمِ صحابہ کی روشنی میں حاصل کرتے ہیں، ان جامعات میں سب سے اہم اور نمایاں کردار جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا ہے، اس جامعہ کی ایک الگ ہی تاریخ ہے جسے مختصراً بیان کرنا مجھ جیسے کم علم اور کم تجربہ کار آدمی کے لیے مشکل کام ہے، پھر بھی بإذن کوشش کر رہا ہوں-
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی تأسيس سن....... میں ہوئی، یہ جامعہ مسجد نبوی سے غالباً سات کلو میٹر اور مدینہ ایئرپورٹ سے 23/ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، اس میں........ کلیات ہیں، یہاں تقریباً........ ہزار طالبان علوم نبوت تعلیم حاصل کرتے ہیں، جامعہ اپنے تمام طلبہ کی مکمل کفالت کرتا ہے، ان کے رہنے سہنے، کھانے پینے، پڑھنے لکھنے، آنے جانے (جہاز کا کرایہ) دوا علاج کے ساتھ تقریباً بیس ہزار روپے انڈین وظیفہ بھی دیتا ہے، مزید ادارہ طلبہ کی عزت وتعظیم اور حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتا ہے، اور ہر طرح اپنے طلبہ کو ایک کامیاب داعی ومربی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، اسی لیے آپ دیکھیں اکثر مدنی علماء کرام کافی درک وصلاحیت رکھتے ہیں، تدریس کی اچھی مہارت رکھتے ہیں، دعوت وتبلیغ کا اچھا جذبہ رکھتے ہیں، وہ دین کا بہترین کام کرتے ہیں، تصنیف وتالیف کا فریضہ انجام دیتے ہیں، جیسے شیخنا ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی منصورہ، ڈاکٹر اقبال بسکوہری، شیخ نیاز طیب پوری، شیخ عبدالعظيم، شیخ عبدالحسیب، ڈاکٹر عبیدالرحمن، ڈاکٹر آر کے نور، شیخ رضاء اللہ عبدالکریم، ڈاکٹر طارق بن صفی الرحمن، شیخ عبدالمعید علی گڑھ، شیخ عبدالمعید کوکن مہسلہ، ڈاکٹر عبدالحکیم ممبرا، شیخ عبدالحکیم کاندیولی ممبئی، شیخ مقصود الحسن، شیخ ظفر الحسن وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ، حفظهم اللہ ورعاھم، یہ سب اپنی جماعت کے سرخیل علماء ہیں، یہ سب مدینہ منورہ کے فارغین ہیں جو ہمارے ملک کی جان ہیں، ہم طالبان علوم نبوت کے لیے آفتاب وماہتاب ہیں، کتاب وسنت کے سچے ترجمان ہیں، اے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ ہم تیرا احسان کبھی نہیں چکا سکتے، ہم ملک کے جس حصے میں جائیں وہاں تیرا فیض عام ہے، مدرس، محقق، محدث، مفتی، مصنف، مبلغ، امام وخطیب ہر چہار سو مدنی علماء کرام کا جلوہ ہے، بس ہم دعا کرتے ہیں کہ رب دوجہاں تو جامعہ کو ہرا بھرا رکھ، بلد توحید سعودیہ عربیہ کو سدا سلامت رکھ، وہاں کے فارغین وطالبین کو امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنا آمین یارب العالمین-
نوٹ: مضمون میں بس چند ناموں کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے، لہٰذا جن کا نام نہ آیا ہو، وہ ناراض نہ ہوں، سارے علماء حق ہمارے پیارے ہیں-
دوم: عدم علم کی وجہ سے خالی جگہ چھوڑ دی گئی ہے، لہٰذا جن کو صحیح علم ہو وہ بلااجازت خالی جگہوں کو پر کر دیں، جزاکم اللہ خیرا-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top