ذیشان خان

Administrator
سورج ڈوبنے سے چند لحظہ پہلے عصر کی نماز پڑھنا

سوال: جو آدمی سویا رہ گیا یا مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز اول وقت پر نہیں پڑھ سکا تو کیا وہ مغرب کی اذان کے وقت یا اس کے بعد اقامت سے قبل عصر کی نماز ادا کرسکتا ہے ؟
جواب : سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نماز کو اول وقت میں ادا کرنی چاہئے ، بلا عذر نمازمیں تاخیر نہیں کرنا چاہئے ۔ جو آدمی عصر کی نماز سے سویا رہ جائے یا کسی کام میں مشغولیت کی وجہ سے اول وقت پر نماز عصر ادا نہ کرسکے اسے چاہئے کہ جیسے ہی آنکھ کھلے یا نماز یاد آجائے فورا عصر کی نماز ادا کرے حتی کہ سورج ڈوبنے سے چند لحظہ پہلے یاد آئے اسی وقت ادا کرلے ، یہ نماز قضا نہیں مانے گی بلکہ ادا ہوگی ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من أدركَ من الصبحِ ركعةً قبلَ أن تطلُعَ الشمسُ ، فقد أدركَ الصبحَ ، ومن أدركَ ركعةً من العصرِ قبلَ أن تغرُبَ الشمسُ فقد أدركَ العصرَ .(صحيح البخاري:579)
ترجمہ: جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی ایک رکعت نماز پالی اس نے فجر کی نماز(ادا) پالی اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت نماز پالی اس نے عصر کی نماز پالی۔
گویا خلاصہ یہ ہواکہ جس نے عصر کی نماز نہ پڑھی ہو اور وہ مغرب کے وقت مسجد میں داخل ہو تو وہ پہلے عصر کی نماز ادا کرے خواہ اذان ہورہی ہو، یا ہونے والی ہو یا ہوچکی ہو۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من نسي صلاةً فليصلِّها إذا ذكرها . لا كفارةَ لها إلا ذلك (صحيح مسلم:684)
ترجمہ: جو کوئی نماز بھول گیا تو جیسے ہی یاد آئے فورا اسے ادا کرے ، اس کا یہی کفارہ ہے ۔
ایک دوسری بات یہاں یہ دھیان دیں کہ اگر مغرب کی نماز شروع ہوچکی ہو تو مغرب کی نماز میں عصر کی نیت سے شامل ہوجائیں اور تین رکعت پر امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر ایک رکعت نماز پڑھیں پھر سلام پھیریں اورعصر کی نماز کے بعد مغرب کی نماز پڑھیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top