ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

اپنا عقیدہ چیک کریں

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
عقیدہ دین کا سب سے زیادہ اہم اور بنیادی حصہ ہے اگر یہ درست رہا تو پورا دین درست رہے گا اور انسان کی ساری نیکی اور ساری عبادت عنداللہ قبول ہوگی لیکن اگر عقیدہ گڑبڑ ہو تو انسان جانور سے بھی زیادہ گیا گزرا ہے اس کی ایک بھی نیکی اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوگی، اس کی ساری عبادت برباد ہے، عقیدہ درست ہوگا تبھی جنت ملے گی ورنہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا، اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم عبادت سے کہیں زیادہ عقیدہ کی اصلاح کی کوشش کریں، بار بار کتاب وسنت میں اپنا عقیدہ چیک کریں، قرآن و حدیث میں بتائے گئے عقیدہ کو قبول کریں، آئیے دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں کونسا عقیدہ سکھایا ہے-
کتاب اللہ میں اور کتب احادیث میں عقیدہ صحیحہ کی وضاحت بےشمار جگہوں پر کی گئی ہے، ہم اگر قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں تو عقیدہ کے متعلق بہت ساری آیات اور بہت ساری احادیث پائیں گے، لیکن ہم آج صرف ایک حدیث پر ہی اکتفا کرتے ہیں، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: يَا غُلَامُ، إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ"(سنن ترمذی:2514/صحيح) ایک دن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا تھا، آپ نے کہا اے بچے! میں تمہیں کچھ کلمات سیکھاتا ہوں، تم اللہ کے دین کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اور اللہ کے دین کی حفاظت کرو تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم سوال کرو تو صرف اللہ سے سوال کرو، اور جب تم مدد طلب کرو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات اچھی ذہن نشیں کرلو کہ اگر ساری دنیا کے لوگ اکٹھا ہو جائیں اور تم کو سب مل کر کچھ فائدہ پہنچانا چاہیں تو تم کو اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں جتناکہ اللہ نے تمہاری تقدیر میں لکھ دیا ہے، اسی طرح پوری امت کے لوگ تم کو کچھ نقصان پہنچانے کی خاطر جمع ہوجائیں تو تم کو اتناہی نقصان پہنچا سکتے ہیں جتنا کہ تمہاری تقدیر میں اللہ نے لکھ دیا ہے، یاد رکھو قلم اٹھا لیا گیا ہے، اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں یعنی تقدیر مکمل لکھی جاچکی ہیں-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں عقیدہ کا ایک اہم مسئلہ ذکر فرمایا ہے وہ ہے، صرف اور صرف اللہ کو پکارنا، اللہ سے مدد مانگنا، اللہ کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنا، لیکن آج بہت سارے لوگ اللہ کو چھوڑ کر بزرگوں، ولیوں اور مردوں کو پکارتے ہیں، مُردوں کو نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں، اس سے ڈرتے ہیں، اللہ کا جو حقِ عبادت ہے وہ مخلوق کو دیتے ہیں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بتلائے ہوئے عقیدہ کے سراسر خلاف ہے، اس عقیدہ پر اگر آدمی مر جائے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، جنت سے محروم ہوگا، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنا عقیدہ چیک کرے اور اپنی عاقبت کی فکر کرے، اللہ ہم سب کو صحیح عقیدہ کی توفیق دے اور ہر قسم کی بدعقیدگی سے بچائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top