ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

عقیدہ کا ایک اہم نکتہ

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
اہل بدعت کہتے ہیں کہ دعا کی قبولیت کے لیے اولیاء کرام اور بزرگان کے وسیلے کی ضرورت پڑتی ہے، بزرگوں کے وسیلے سے دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں، اس لیے اہل بدعت قدم قدم پر غیراللہ کی دہائی دیتے ہیں، اللہ کو چھوڑ کر بزرگوں، ولیوں اور مردوں کو پکارتے ہیں اور جو دعاؤں میں بزرگوں کا وسیلہ نہ لے انہیں اہل بدعت گمراہ اور بدعقیدہ کہتے نہیں تھکتے ہیں، آئیے آج دعاؤں میں وسیلے کی کیا حقیقت ہے اس بابت کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں-
قارئین کرام! اللہ کو پکارنا اور اللہ سے دعائیں کرنا یہ خود اللہ کا حکم ہے، جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: "وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ"(البقرة:186) جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کرتے ہیں تو ( اے نبی) آپ انہیں بتا دیجیے کہ میں قریب ہوں، اور میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں، لہٰذا سبھوں کو چاہیے کہ وہ مجھے ہی پکاریں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ ہدایت سے سرفراز ہو سکیں-
اس آیت کریمہ میں اہل بدعت کی ساری فلسفیانہ باتوں کا منہ توڑ جواب موجود ہے، لہٰذا اللہ کو پکارنا ہی اصل توحید اور اصل دین ہے، اور اللہ کو چھوڑ کر بزرگوں کو پکارنا، دعاؤں میں مردوں کا وسیلہ لگانا جاہلیت کے کفر اور جہالت سے زیادہ خطرناک ہے، اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم اللہ سے لَو لگائیں، اللہ کو پکاریں، غیراللہ کو نہ پکاریں، دیکھیے غار والوں نے اللہ کو پکارا اللہ نے سن لیا، خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بوڑھی خاتون تھیں، ان کے شوہر نے ان سے ظہار کر لیا تھا (ظہار یہ دَور جاہلیت میں طلاق کے قائم مقام سمجھا جاتا تھا) خولہ رضی اللہ عنہا بےچاری اللہ سے فریاد کرتی رہیں، رسول اللہ سے شکایت کر رہی رہیں، اللہ نے ان کی آواز کو سن لیا اور سورہ مجادلہ نازل کرکے ان کا مسئلہ حل کر دیا-
ملکہ عفاف ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بدکاری کا الزام لگ گیا، وہ مہینہ بھر رو رو کر اللہ سے اپنی براءت طلب کرتی رہیں، وہ اتنا روتی تھیں کہ ان کا دوپٹہ بھیگ جایا کرتا تھا پھر اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی براءت اور پاکدامنی کو رہتی دنیا تک باقی رکھنے کے لیے سورہ نور کی آیات نازل فرمائی-
سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام کی اہلیہ سیدہ سارہ علیہا السلام جب مصر پہنچی تو وہاں کا بادشاہ ظالم اور بدکار تھا، اس نے سارہ علیہا السلام کو بری نگاہ سے دیکھا اور بدکاری کا ارادہ کیا تو سارہ علیہا السلام نے وضو بنا کر اللہ سے دعا کرنا شروع ہی کیا کہ وہ ظالم بادشاہ فوراً جگہ پر ڈھیر ہوگیا، اس کے جسم سے ساری طاقت ختم ہو گئی، زمین پر لڑکھڑا کر گر گیا اور منت سماجت کرنے لگا، اے سارہ اپنے رب سے میری صحت وعافیت کے لیے دعا کرو اب میں کچھ نہیں کروں گا، بہرحال سارہ نے دعا کی وہ درست ہوگیا مگر پھر برا ارادہ کیا تو پھر سارہ نے دعا کرنا شروع کیا وہ ہلاکت کے منہ میں داخل ہوگیا، اس کے بعد اس نے پھر سارہ سے کہا اب کچھ نہیں کروں گا میرے لیے دعا کرو، میری جان بچاؤ، بہرحال سارہ علیہا السلام نے دعا کی تو وہ ٹھیک ہوا، اسی طرح تیسری بار بادشاہ نے برائی پر قدم بڑھایا تو سارہ نے دعا کرنا شروع کیا پھر جب وہ ہلاک ہونے لگا تو سارہ سے دعا کی بھیک مانگنے لگا تو سارہ علیہا السلام نے دعا کی، بادشاہ کو نجات حاصل ہوئی، اس کے بعد بادشاہ نے ہاجرہ کو ہدیۃََ عنایت کر دیا(صحیح بخاری)
ان باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ بندوں کی دعاؤں کو ڈائریکٹ سنتا ہے، دعاؤں میں مردوں اور بزرگوں کے وسیلے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالٰی تو بہت مہربان ہے وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے، بندوں کی مراد پوری کرتا ہے، ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، کچھ لوگوں کی دعاؤں کو بہت جلد قبول کرتا ہے جیسے والد کی دعا، مسافر اور مظلوم کی دعا، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ"(سنن ابوداؤد:1535/حسن) تین ایسے لوگ ہیں جن کی دعاؤں کے قبول ہونے میں کوئی شک ہی نہیں ہے، والد کی دعا اپنے بچوں کے حق میں، مسافر اور مظلوم کی دعا-
اس حدیث سے عقیدہ کا ایک اہم نکتہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالٰی ڈائریکٹ سنتا ہے، دعا کو مردوں کے وسیلے کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالٰی ہم سب کو نیک سمجھ دے اور ہر قسم کی بدعقیدگی سے بچائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top