ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

تحقيقی ذوق پیدا کیجیے

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
تحقیق کا مطلب ہوتا ہے ریسرچ کرنا، صحیح اور اصل مواد تک پہنچنا، دلائل کی تہہ میں جانا، تحقیق کی ضد تقلید ہے یعنی کسی کی بات بلا دلیل قبول کر لینا، تحقیق کرنا اسلام کا بہت اہم حکم ہے، جیسا کہ اللہ تعالٰی کہتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ" (الحجرات:6) اے لوگو جو ایما ن لائے ہو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر نادم وپشیمان ہو جاؤ-
آج اندھ بھکتی اور تعصب پرستی سماج میں عام ہے، لوگ بلا تحقیق اور بنا سوچے سمجھے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ایک دوسرے پر خوب کیچڑ اچھالتے ہیں، سب وشتم کا بازار گرم کرتے ہیں، خاص طور پر سلفیت اور سعودیہ عربیہ کو نشانہ بناتے ہیں، آئیے ہم آپ کو ایک پیغام دیتے ہیں وہ ہے تحقیق، تحقیق نام ہے علم کی گہرائی میں داخل ہونے کا، میں صاف کہتا ہوں آپ اپنے علماء پر مکمل بھروسہ مت کیجیے ان سے دلیل کا مطالبہ کیجیے، خود قرآن کا ترجمہ وتفسير پڑھیے، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا مطالعہ کیجیے، پھر بآسانی علماء سوء اور علماء حق میں فرق سمجھ میں آجائے گا، اللہ کے لیے آپ دین کا علم سیکھنے کے لیے وقت دیجیے کیونکہ دین کا علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ"(سنن ابن ماجه:220/ صحيح) دین کا علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے-
اسی علم نہ سیکھنے کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان شرک کو توحید سمجھتا ہے بدعت کو سنت سمجھتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دیتا ہے ان کے منہج وعقیدہ کو ٹھکراتا ہے، امام کی بات کو مکمل دین سمجھتا ہے حدیث میں شک کرتا ہے اور امام صاحب کی بات آنکھ بند کرکے تسلیم کرتا ہے والعياذ باللہ!
مسلمانو! دین سیکھو، تحقیق کرو، دین میں اتنے کورے اور الو نہ بنو کہ توحید اور شرک میں فرق سمجھ میں نہ آئے، سنت اور بدعت میں فرق ہی ختم کر دیا جائے، واللہ آج کتنی مساجد ہیں جن میں قرآن کا درس دینا اور حدیث رسول پڑھنا گستاخی سمجھی جاتی ہے، آمین زور سے بولنے پر مسجد سے نکال دیا جاتا ہے، پھر مسجد بھی دھلی جاتی ہے، یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود-
قارئین کرام! الحمدللہ میں ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو خارجیت، اخوانیت، بریلویت، دیوبندیت کے اندھ بھکت تھے سلفیت کے کٹر دشمن تھے وہ ہر محاذ پر سلفیت کو نشانہ بناتے تھے ان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے، گالیاں دیتے تھے، ذلیل کرتے تھے، مگر جب وہ سلفیت سے قریب ہوئے انہوں نے قرآن وحدیث کو پڑھا وہ فوراً اہل حدیث ہوگئے اس میں ایک بڑی تعداد علماء کی بھی ہے پہلے وہ اپنے مسلک کا پرچار کرتے تھے مگر جب حق واضح ہوگیا تو وہ اہل حدیث ہوگئے اور اسلام کے سچے داعی بن گئے، ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے، میں اس فہرست کو کھولنا نہیں چاہتا ہوں، دنیا انہیں جانتی اور پہچانتی ہے-
سلفیت ہی طائفہ منصورہ ہے، یہی جماعت حقہ ہے، کیونکہ اس کی اساس قرآن وحدیث ہے، اہل حدیث کا ہر مسئلہ دلیل پر قائم ہے، وہ ہمیشہ دلیل کی پیروی کرتے ہیں، اسی دلیل کو پڑھ کر سن کر سلفیت کا قافلہ روز بروز اپنے اب وتاب کے ساتھ بڑھ رہا ہے، آپ غور کیجیے اور گہرائی سے سوچیے کہ آخر سلفی دعوت کی خوبی کیا ہے کہ شیعہ، اخوانی، تحریکی، بریلوی، دیوبندی، حنفی، جماعت اسلامی، قادیانی وغیرہ سب اپنا مسلک چھوڑ کر سلفی منہج اختیار کر رہے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں برا بھلا نہ کہیں پہلے تحقیق کریں، اسلام سیکھیں، قرآن و حدیث پڑھیں، اللہ سے ہدایت کی توفیق مانگیں، جاہل اور ضدی بن کر نہ رہیں، دین سیکھیں، اس لیے کہ دین کا سیکھنا فرض اور واجب ہے، اگر ہم دین نہ سیکھے اور توحید اور شرک میں فرق نہ کر پائے اور شرکیہ کام میں لگے رہے تو اللہ معاف نہیں کرے گا، اللہ ہم سب کو دین سیکھنے اور دلیل کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top