ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

آپ کو قرآن کتنا یاد ہے؟

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور اس کے الفاظ ومعانی کو یاد کرنا قرآن کے اہم حقوق میں سے ہے، ہمارے اسلاف قرآن یاد کرنے کا غیر معمولی اہتمام کرتے ہیں بلکہ اکثر لوگ حافظ قرآن تھے، پہلے وہ بچپن میں قرآن کے حافظ بنتے تھے پھر وہ حافظ حدیث بنتے تھے-
قارئین کرام! قرآن یاد کرنے کی بڑی فضیلت ہے، دنیا و آخرت میں بڑے درجات پانے کا ذریعہ ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کل قیامت کے دن حافظ قرآن سے کہا جائے گا"اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا"(سنن ابو داؤد:1464/ حسن صحيح) تم قرآن پڑھو، اور اوپر چڑھو، اور قرآن ایسے ہی آرام آرام سے پڑھو جیسے تم دنیا میں آرام آرام سے پڑھا کرتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہوگی جہاں تم آخری آیت پڑھو گے-
اسی طرح ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ کل قیامت کے روز حافظ قرآن کو ایک تاج پہنایا جائے گا اور اس کے والدین کو دو جوڑا پہنایا جائے گا (سلسلة الأحاديث الصحيحة:2829/صحيح)
ان دونوں حدیثوں میں حافظ قرآن کی فضیلت بیان کی گئی ہے، لہٰذا کوشش کرنا چاہیے کہ ہم پورے قرآن کے مکمل حافظ بن جائیں اور یہ ممکن نہ ہو تو جنتا ہو سکے زیادہ سے زیادہ قرآن یاد کرنے کی کوشش کریں، ان شاءاللہ اس فضیلت کے کچھ نہ کچھ ضرور مستحق بنیں گے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"(صحيح بخاری:5027) تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن پڑھے اور قرآن پڑھائے-
شہداء احد چونکہ ستر سے زائد تھے اس لیے تدفین میں کافی دقت ہو رہی تھی اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایک قبر میں دو یا تین شہداء کو دفن کرتے تھے اور اس کو قبلے کی طرف آگے رکھتے جس کو قرآن زیادہ یاد تھا (سنن ابوداؤد:3137/صحيح) آپ سوچ سکتے ہیں کہ سن تین ہجری میں کتنا قرآن نازل ہوا تھا یہ تو طے ہے کہ اس وقت مکمل قرآن صحابہ کرام کے ہاتھوں میں نہیں تھا، اس وقت جتنا نازل ہوا تھا اتنے ہی حصے کے وہ حافظ تھے بلکہ بعض تو اس سے کم یاد کیے تھے، مگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حفاظ کرام کی تدفین میں ان کو قبلہ کی دیوار تک مقدم رکھا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ قرآن کا کچھ حصہ یا اکثر حصہ یاد رکھنے کی بھی بڑی اہمیت اور بڑی فضیلت ہے، لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بکثرت قرآن کو یاد کریں، فضول کاموں سے بچیں، بیکار کاموں سے بچیں، ہر روز ایک ایک آیت یاد کریں، ان شاءاللہ مسلسل یاد کرنے سے ہم قرآن کا بہت حصہ یاد رکھ سکتے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمان قرآن سے بہت دور ہیں، آج ہمارے سماج کی سچائی یہ ہے کہ بہتوں کو قرآن پڑھنا نہیں آتا ہے، اکثر مسلمان ایسے ہیں جنہیں تیسویں پارے کی بس دس سورتیں یا پانچ سورتیں یا دو سورتیں یاد ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں صرف سورہ فاتحہ یاد ہے، واقعی یہ بہت محرومی کی بات ہے کہ ہمیں اللہ کا کلام یاد نہیں ہے جب کہ ہمیں ہر روز 28/ رکعت پڑھنی ہوتی ہے تو علی الأقل تیسواں پارہ مکمل یاد رہنا چاہیے، سوچیے امسال لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں تراویح کی کتنی تکلیف ہوئی تھی ہر آدمی یہی کہہ رہا تھا کہ ہر ایک گھر میں ایک حافظ اور ایک عالم ہونا چاہیے، ٹھیک ہے ہر گھر میں ایک حافظ ہونا چاہیے لیکن میں کہتا ہوں گھر کے ہر فرد کو اتنی سورتیں ہمیشہ ازبر ہونا چاہیے جنہیں بآسانی نماز میں پڑھ سکیں، اللہ ہم سب کو قرآن یاد کرنے اور اس کے معانی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top