ذیشان خان

Administrator
پریشان_کن_مہمان_نہ_بنیں

تحریر✍سلوى الطريفي، كاتبة فلسطينية.
ترجمانى✍أبو حسان المدني

☆گھروں کے بھی حدود و احترام ہوتے ہیں انہیں پامال نہ کریں..۔۔۔۔....گھر انسان کا ٹھکانہ اور اس کی پناہ گاہ ہے، اس میں وہ راحت محسوس کرتا ہے، بغیر اجازت اس کے گھر میں گھس کر اس سے یہ حق نہ چھینیں، اجازت لینا سماجی سے پہلے دینی طور پر واجب ہے۔

☆تمہارا لوگوں کے گھروں کی زیارت کرنا تمہیں اہل خانہ کے حقوق و رازداری میں دخل اندازی کی آزادی نہیں دیتا اور نہ ہی سارے گھر میں گھومنے کی چھوٹ۔

☆مہمان خانہ ہی تمہاری مخصوص جگہ ہے، (میزبان کے گھر میں) بیٹھنے کی جگہ کا انتخاب کرنا تمہارا حق نہیں.......... اختیار و انتخاب کا حق اہل خانہ کا ہے........ اپنی انسانیت کو بچائیں تاکہ میزبان کی جانب سے تمہارے احترام میں اضافہ ہو اور وہ تمہاری تکریم کریں۔

☆تمہاری کثرت زیارت اہل خانہ کو تکلیف ما لایطاق میں مبتلا کرتی ہے....ان جسموں کے ساتھ نرمی برتو جنہیں (کثرت ضیافت نے) خوب تھکا دیا اور (بوجہ کثرت زیارت) بہت سے کام معطل کر دیے گئے، بہت سا وقت ضائع ہوگیا، بہت سے کاموں نے بوجھ بڑھا دیا۔۔۔تمہارا زیارت کرنا واجب و درست ہے، لیکن آداب زیارت کا خیال نہ رکھنا تمہارے اس عمل زیارت کے اجر کو کم کردیتا ہے۔۔۔۔۔لوگوں کے احوال و ظروف کی رعایت کریں، ان کے مددگار و ساتھی بنیں ان پر مصیبت نہ بنیں۔
 
Top