ذیشان خان

Administrator
ظالم کا انجام

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
جب سے دنیا قائم ہے تب سے اللہ کی یہی سنت رہی ہے کہ ہر ظالم کو دنیا میں اللہ نے ذلیل کیا ہے اور بہت بری طرح ہلاک وبرباد کیا ہے، تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد عدل ہیں کہ ظالم کا انجام ہر دَور میں بہت برا ہوا ہے، دیکھیے اللہ نے قومِ نوح کو پانی میں ڈبا ڈبا کر ہلاک کیا، قومِ عاد کو آندھی اور قوم ثمود کو چینخ سے نیست ونابود کیا، قومِ لوط کو پتھروں کی بارش کے ذریعے تہہ و بالا کیا، قومِ شعیب کو آگ کی بارش سے ہلاک کیا، نمرود کو مچھر کے ذریعے تباہ کیا، قارون کو زمین میں دھنسا کر اور فرعون کو بحرِ قلزم میں ڈوبا ڈوبا کر موت کے گھاٹ اتارا، ابرہہ کے لشکروں کو ابابیل پرندے کے ذریعے تہس نہس کیا، ظالموں کی پوری داستاں تاریخ میں محفوظ ہے اللہ نے ہر ہر ظالم کو اپنی گرفت میں لیا ہے کسی کو دنیا میں چھوڑا نہیں ہے-
قارئین کرام! اللہ تعالیٰ ہر جرم کی سزا کو دنیا میں مؤخر کرتا ہے یعنی ہر غلطی پر گرفت نہیں کرتا ہے، ہر گناہ پر عذاب نہیں بھیجتا ہے مگر ظلم کی وجہ سے عذاب ضرور بھیجتا ہے اور ظالم کو ہلاک کرتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا"مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ"(سنن ابوداؤد:4901/صحيح) ظلم اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی ایسا جرم اور گناہ نہیں ہے کہ جس کی سزا کو نافذ کرنے میں اللہ تعالٰی جلدی کرتا ہو، آخرت کی سزا کے ساتھ- یعنی ظلم اور قطع رحمی کی سزا اللہ دنیا میں بھی بہت جلد دیتا ہے-
ظالم کا اخروی ٹھکانہ جہنم ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ"(صحیح بخاری:6071) کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر سرکش، بدخلق، اور متکبر اور گھمنڈی جہنم میں ہوں گے-
لہٰذا ہمیں ہر چھوٹے بڑے ظلم سے بچنا چاہیے کیونکہ مظلوم کی آہ رائیگاں نہیں جاتی ہے، اللہ مظلوم کی آہ کو جلد سنتا ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ"(صحيح بخاری:4347) مظلوم کی بددعا سے بچو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب یعنی آڑ نہیں ہے-
شاعر نے بہترین ترجمانی کی ہے
مظلوم کے دل کا ہر نالہ تاثیر میں ڈوبا ہوتا ہے
ظالم کوخبرکر دےکوئی انجام ستم کیاہوتا ہے
جب ظلم گزرتاہےحدسےقدرت کوجلال آجاتاہے
فرعون کاسرجب اٹھتاہےموسی کوئی پیداہوتاہے
آج بھی بہت سارے لوگ سماج میں برساتی مینڈک کی طرح بہت ٹرٹر کر رہے ہیں، حقوق کو غبن کر رہے ہیں، اپنی رعایا پر مظالم ڈھا رہے ہیں، انصاف نہیں کر رہے ہیں، اپنے ماتحتوں کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں، ابھی مغربی بنگال اور کوکن مہاراشٹر میں تباہ کن عذاب آیا تھا اس سے سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں، ظلم سے باز نہیں آرہے ہیں، ابھی تک آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں، اب کب بیدار ہوں گے اور توبہ کریں گے ایسا لگتا ہے کہ دل کالا ہوگیا ہے اور توفیق سے محروم ہو گئے ہیں والعياذ باللہ!
اللہ تعالٰی ہم سب کو معاف فرمائے اور ہر قسم کی وبا، بلا، آفت اور عذاب سے ہم سب کو بچائے اور تا دمِ موت دین پر استقامت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top