ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

یہ ظلم کی سزا ہے

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
ہم ہر سال ایک دو مرتبہ بڑی مصیبت اور بڑے عذاب میں مبتلا کیے جاتے ہیں، لیکن کیا ہم غور کرتے ہیں کہ یہ مشکلات اور عذابات کیوں آتے ہیں، ملک اور سماج میں قیامت خیز تباہی کیوں آتی ہے، آئیے کچھ اسباب کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں-
قارئین کرام! ظلم اور عذاب کی جب بات آتی ہے تو ہمارا ذہن حکمرانوں کی طرف جاتا ہے کہ وہ حاکم تو واقعی بڑا ظالم ہے اس کا ظلم عام ہے، اس کے ظلم سے سب پریشان ہیں، مگر ہم یہ غور نہیں کرتے ہیں اور اپنا محاسبہ نہیں کرتے ہیں کہ ہم کتنے بڑے گنہ گار ہیں ہمارا ظلم کتنا زیادہ ہے، اور ہم اپنے ماتحتوں پر کتنے مظالم ڈھاتے ہیں، ہم اپنے عہدے ومنصب کا کتنا غلط استعمال کرتے ہیں، آج اکثر لوگ اپنے ماتحتوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں، قوم کا ذمہ دار چاہے چوکیدار ہو یا صدر، سکریٹری ہو یا مہتمم، ٹرسٹی ہو یا ٹیچر، ناظم ہو یا کمیٹی کا ممبر، خاوند ہو یا باپ، ایسے تمام شعبوں میں نیچے سے اوپر دیکھتے جائیے ہر ہر ڈپارٹمنٹ میں خیانت اور ظلم کی داستان صاف نظر آئے گی، آج مسجد منبر اور مدرسہ کوئی جگہ آپ کو ظلم سے پاک نہیں ملے گی، اللہ رحم کرے اور سبھوں کو ہدایت دے- ایسے وقت میں اللہ کا عذاب نہیں آئے گا تو کیا آئے گا، پچھلی قومیں اپنے ظلم کی وجہ سے نیست ونابود ہوگئیں تو ہم کس کھیت کے مُولی ہیں-
آج صورتحال یہ ہے کہ اکثر لوگ نیکی کم برائی زیادہ کرتے ہیں، حرام کھاتے ہیں، سود کھاتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے ہیں، زکوٰۃ نہیں دیتے ہیں، دین میں بدعات وخرافات ایجاد کرتے ہیں، سنت کی مخالفت کرتے ہیں، شرک کرتے ہیں، زنا کرتے ہیں، کاروبار میں جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، شراب پیتے ہیں، علماء کرام اور صالحین پر ظلم ڈھاتے ہیں، ان کا استحصال کرتے ہیں، مزدوروں سے کام پورا لیتے ہیں مگر وقت پر تنخواہ نہیں دیتے ہیں یا معاوضہ ہی نہیں دیتے ہیں، شادی میں جہیز لیتے اور دیتے ہیں، والدین کی نافرمانی کرتے ہیں، فیصلوں میں انصاف نہیں کرتے ہیں، بیوی اور بچوں کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں، میں کیا کیا بتاؤں جو جاہلیت میں برائیاں پاتی جاتی تھیں آج سماج میں تمام برائیاں پائی جا رہی ہیں، لوگ دھڑلے سے برائی کرتے ہیں اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے ہیں، لوگوں پر ظلم کرکے سب کو فخر کے ساتھ بتاتے پھرتے ہیں پھر ہم پر اللہ کا عذاب کیوں نہ آئے، ابھی کل مہاراشٹر کے ساحلی علاقوں میں مہسلہ، علی باغ، مروڈ، شری وردھن، داپولی، رتناگری وغیرہ میں خطرناک طوفان آیا ملین ڈالر کا نقصان ہوا، معیشت بالکل تباہ ہوگئی مگر سوال یہ ہے کہ وہ کتنے لوگ ہیں جو سچے دل سے توبہ کر لیے اور دیندار بن گئے اور ظلم سے باز آگئے، نمازی بن گئے، جیسے پہلے تھے ویسے ہی لوگ آج بھی ہیں، عذاب کا کچھ بھی اثر نہیں ہوا، یہ دل کی سیاہی اور سختی کی پہچان ہے، لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ ہم اللہ کے عذاب سے سبق حاصل کریں اور توبہ کرکے نئی زندگی کی شروعات کریں، ظلم سے بچیں ورنہ یاد رہے کہ اللہ تعالٰی ظالم کو مہلت ضرور دیتا ہے مگر جب پکڑتا ہے تو موت کے گھاٹ اتار کر ہی چھوڑتا ہے اور بری طرح مارتا ہے، اللہ ہم سب کو ظلم سے بچائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top