ذیشان خان

Administrator
مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ میں شامل ہونے کا طریقہ

السلامُ علیکُم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ سے میرا ایک سوال ہے کہ اگرہم امام کوسجدے میں پائیں تو سجدے میں چلے جاتےہیں تواس کا طریقہ کار کیا ہے؟۔کیا تکبیر کہنا ہی کافی ہوگا یا پھر تکبیر کےساتھ رفع الیدین بھی کرنا ہے یعنی ہاتھوں کو کندھے تک اٹھانا ہے یا پھر تکبیر کہکر رفع الیدین کرے پھرنیت باندھے تب سجدہ میں جائے ؟
سائل : ابوماریہ ،ریاض ، سعودی عرب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ :
نمازی جس حال میں امام کو پائے اس حال میں چلا جائے ، انتظار نہ کرےمثلا امام سجدے میں ہے تو سجدہ میں چلاجائے ،حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
إذا أتى أحدُكم الصلاةَ والإمامُ على حالٍ، فليصنعْ كما يصنعُ الإمامُ.(صحيح الترمذي:591)
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے اور امام جس حالت میں ہو تو وہ وہی کرے جو امام کر رہا ہو۔
امام کے ساتھ جو مل جائے اسے ادا کرلیں اور جو فوت ہوجائے اسے امام کے سلام پھیرنے کے بعد مکمل کرلیں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
فما أدرَكْتُم فصلُّوا، وما فاتَكم فأتِمُّوا .(صحيح البخاري:635)
ترجمہ: پس نماز کا جتنا حصہ پاؤ پڑھ لو اور جو نہ پا سکو اسے پورا کر لو۔
نماز کی ابتداء تکبیر تحریمہ سے ہوتی ہے خواہ امام ہو، یا منفرد ہو یا مقتدی ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
مِفتاحُ الصَّلاةِ الطُّهورُ وتحريمُها التَّكبيرُ وتحليلُها التَّسليمُ(صحیح ابوداؤد:61)
ترجمہ: نماز کی کنجی وضو ہے ، اس کی تحریم «الله اكبر» کہنا اور اس کی تحلیل «السلام علیکم» کہنا ہے ۔
"نماز کی تحریم اللہ اکبر ہے " کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بغیر اللہ اکبر کہے نماز میں نہیں داخل ہوسکتا ، یہی بات صاحب تحفۃ الاحوذی نے سفیان ثوری ، ابن المبارک ، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کی طرف منسوب کی ہے ۔ اس لئے مقتدی جب امام کو سجدے کی حالت میں پائے تو تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے رفع یدین کرے اور سجدہ میں چلا جائے ۔تکبیر تحریمہ کے وقت یعنی ابتدائے نماز میں متعدد احادیث سے نبی ﷺ سے رفع یدین کرنا ثابت ہے ۔
عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، كان يرفعُ يديْهِ حَذْوَ مِنْكَبَيْهِ ، إذا افتتحَ الصلاةَ(صحيح البخاري:735)
ترجمہ: کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو کندھے تک ہاتھ اٹھاتے ۔
تنبیہ : عام طور سے علماء نے نماز میں داخل ہونے کے لئے فقط تکبیر تحریمہ لکھا ہے،رفع یدین کا ذکر نہیں ملتا مگر دلیل کی روشنی میں رفع یدین کرنا معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسبوق اپنی نماز کی ابتداء کررہا ہے اور علماء نے جن چار مواقع پہ رفع یدین کرنا لکھا ہے ان میں تکبیر تحریمہ بھی ہے ۔ نیز علماء نے ایک بات یہ بھی ذکر کی ہے کہ شامل ہوتے وقت دوتکبیر کہے تو زیادہ بہتر ہے ایک تکبیر تحریمہ ،دوسری تکبیرانتقال ۔دوسری تکبیر نہ کہہ سکے تو کوئی حرج نہیں مگر تکبیرتحریمہ نماز کا رکن ہونے کی وجہ سے لازما کہنا ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top