ذیشان خان

Administrator
نماز مغرب میں مسبوق کازائد قعدہ

مقبول احمدسلفی
داعی اسلامک دعوۃ سنٹر-طائف
جو مقتدی امام کی دوسری رکعت ختم ہونے کے بعد تشہد اول میں نماز میں شامل ہو اسے چار قعدہ کرنا پڑتا ہے ۔
پہلا قعدہ امام کے ساتھ شامل ہونے پر دوسری رکعت کے اختتام پر ۔
دوسرا قعدہ امام کے آخری قعدہ میں ۔
تیسرا قعدہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد پہلی رکعت ادا کرکے ۔
چوتھا قعدہ متروکہ دوسری رکعت ادا کرنے کے بعد ۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغرب کی نماز میں اصلا دو ہی قعدے ہیں تو یہاں مسبوق کو چار مرتبہ قعدہ کی کیوں ضرورت پیش آتی ہے ؟
اس سلسلے میں نماز سے متعلق چند اسلامی ضابطےبیان کردیتا ہوں جن سے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے ۔
(1)پہلی بات یہ ہے کہ مقتدی کو امام کی متابعت کرنے کا حکم ہے جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إنما الإمامُ - أو إنما جُعِل الإمامُ - ليؤتَمَّ به، فإذا كبَّر فكبِّروا، وإذا ركَع فاركَعوا، وإذا رفَع فارفَعوا، وإذا قال سمِع اللهُ لمَن حمِده، فقولوا ربَّنا ولك الحمدُ، وإذا سجَد فاسجُدوا .(صحيح البخاري:733)
ترجمہ: امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا و لک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو۔
تو جس حال میں بھی امام ہو مقتدی کو اس حال میں شامل ہوجانا چاہئے ۔
(2)دوسری بات یہ ہے کہ مقتدی سے جتنی رکعت چھوٹ جائے امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس کی قضا کرے جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا سَمِعتُمُ الإقامةَ فامشوا إلى الصلاةِ، وعليكم بالسكينةِ والوَقارِ، ولا تُسرِعوا، فما أدرَكْتُم فصَلُّوا، وما فاتَكم فأتِمُّوا .(صحيح البخاري:636)
ترجمہ: تم لوگ تکبیر کی آواز سن لو تو نماز کے لیے ( معمولی چال سے ) چل پڑو۔ سکون اور وقار کو ( بہرحال ) پکڑے رکھو اور دوڑ کے مت آؤ, پھر نماز کا جو حصہ ملے اسے پڑھ لو، اور جو نہ مل سکے اسے بعد میں پورا کر لو۔
(3)تیسری بات یہ ہے کہ مقتدی جب سجدے کی حالت میں امام کے ساتھ ملے یا قعدہ کی حالت میں وہ رکعت شمار نہ کرے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا وجدتُم الإمامِ ساجدا فاسجدوا ، أو راكعا فاركعوا ، أو قائما فقوموا ، ولا تعتدّوا بالسجودِ إذا لم تُدرِكُوا الركعةَ۔
ترجمہ: اگر تم امام کو سجدے میں پاؤ تو سجدے میں چلے جاؤ یا رکوع کی حالت میں پاؤ تو رکوع کرو، یا قیام کی حالت میں پاؤ تو قیام کرو اور سجدہ کو شمار مت کرو اگر تم نے رکعت نہیں پائی ہے ۔
اس حدیث کی سند کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے شیخین کی شرط پر قرار دیا ہے ۔
ایک دوسری حدیث ابوداؤد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا جئتُمْ إلى الصَّلاةِ ونحنُ سجودٌ فاسجُدوا ولا تعدُّوها شيئًا ومَن أدرَكَ الرَّكعةَ فقد أدرَكَ الصَّلاةَما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاتموا۔(صحيح أبي داود: 893)
ترجمہ: جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرو اور اسے کچھ شمار نہ کرو اور جس نے رکعت کو پا لیا اس نے نماز کو پا لیا ۔
نماز کے ان تینوں ضابطوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ معلوم ہوا کہ جب مقتدی امام کے ساتھ دوسری رکعت کے اختتام پرامام کے پہلے قعدہ میں ملا تواسے وہ رکعت شمار نہ کرے کیونکہ نبی ﷺ نے سجدہ میں شامل ہونے کو رکعت شمار نہیں کیا تو جو سجدہ کے بعد قعدہ ہے اسے بدرجہ اولی شمار نہیں کرنا ہے ۔ گویا مسبوق کا امام کی دوسری رکعت میں سجدے کے بعد قعدہ میں شامل ہونے کی وجہ سے اس کا قعدہ شمار نہیں ہوا۔ اس کے بعد مسبوق کا امام کے ساتھ جو دوسرا قعدہ ہے وہ محض امام کی متابعت میں ہے کیونکہ امام کی متابعت کا حکم ہوا ہے ۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقتدی جب چھوٹی ہوئی پہلی رکعت ادا کرکے قعدہ کرتا ہے وہ قعدہ دراصل اس کا پہلا قعدہ ہے اور پھر چھوٹی ہوئی دوسری رکعت پہ دوسرا قعدہ اصل میں مسبوق کے لئے اپنے حساب سے تیسری رکعت کا آخری قعدہ ہے ۔ تو شروع میں دو زائد قعدوں کی وجہ امام کی متابعت ہے۔اس کی مثال یوں سمجھیں جیسے مسافر ، مقیم امام کی اقتداء میں ظہر کی چار رکعت نماز ادا کرے جبکہ اصلا اس کے لئے دو رکعت ہی تھی ۔
واللہ اعلم
 
Top