ذیشان خان

Administrator
صدائے زبان و قلم

🖋 صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

قارئین کرام! ہر دور میں زبان و قلم دونوں کی اہمیت رہی ہے، بلکہ حراء سے جو پہلی شمع اسلام نمودار ہوئی تھی وہ بھی قلم کی اہمیت بتلاتی ہے۔
*زبان عوام سے خطاب کرتی ہے* اور جتنی سلیقہ مند، اور اس میں چاشنی ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ اذھان و قلوب کو متاثر کرتی ہے، *بالکل اسی طرح قلم* جتنا باادب اور صدق و صفا سے مزین ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ اپنے قاری کو علم و آگہی و روشن مستقبل کی راہ آسان کرتا، جس طرح زیان میدان جنگ میں شرارہ بن کر جنگ کو بھڑکا سکتی ہے، اسی طرح قلم بھی تیر و تفنگ اور خنجر بن کر قلوب و اذھان کو چھلنی کرسکتا ہے-

کسی نے کہا ہے!
قلم ہے ہاتھ میں خنجر کی کیا ضرورت ہے۔
پڑھا لکھا ہوں سلیقے سے بات کرتا ہوں۔
اس لئے دونوں کو سلیقہ مند اور با ادب ہونا چاہیئے، اور صرف باطل سے مقابلے کیلئے شرارہ و خنجر کے طور پہ استعمال کرنا چاہیئے، تاکہ کسی بے گناہ کا دل شراہء زباں سے نہ جھلسے اور نہ خنجر قلم سے زخمی ہو ۔
بلکہ گنہگار کے دل کو بھی موہ لے، اس کی چاشنی سے غیرت ایمانی بیدار ہوکر دربار الہی کی چوکھٹ پہ جھک کر سجدہ ریز ہوجائے۔
 
Top