ذیشان خان

Administrator
اجتماعی عبادت ہی پر زور کیوں؟

ڈاکٹر أمان الله محمد إسماعيل.

* عبادت کی قبولیت کیلیے دو اہم شرطوں کا ہونا ضروری ہے:
1۔ عبادت خالص اللہ رب العالمین کیلیے ہو۔
2۔ عبادت سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق انجام دی جائے۔
* عبادت ادا کرنے کے دو طریقے ہیں:
1۔ انفرادی طور پر۔
2۔ اجتماعی طور پر۔
* جس عبادت و بندگی کی ادائیگی کا طریقہ انفرادی ہو اسے انفرادی طور پر ہی ادا کرنا ضروری ہے۔
* اور جس عبادت کی ادائیگی کا طریقہ اجتماعی ہو اسے اجتماعی طور پر ہی ادا کرنی چاہیے۔
* شریعت کی روشنی میں عبادت کی ادائیگی کے طریقے میں، من مانی کرنا ایک مسلمان کیلیے نہایت ہی سنگین جرم ہے۔
* افسوسناک بات یہ ہیکہ آج بہت سارے مسلمان سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بالائے طاق رکھ کر عبادت و بندگی کی ادائیگی میں غیر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنائے ہوئے ہیں۔
* آج بر صغیر کے اکثر مسلمان جو ایک طرف تو مختلف مسلک و مشرب میں منقسم ہیں، اجتماعی عبادتوں کے دلدارہ ہو چکے ہیں۔
* آئیں! بالاختصار ذیل میں چند اجتماعی عبادتوں پر نظر ڈالیں، جن کی ادائیگی اجتماعی طور پر ثابت نہیں ہے:
1۔ اجتماعی ذکر: جو کسی بھی حالت میں درست نہیں ہے، بالخصوص فرض نمازوں کے بعد ۔
2۔ اجتماعی دورد و سلام: جو کسی بھی وقت، اور کسی حالت میں ثابت نہیں ہے، بالخصوص اذان اور فرض نمازوں کے بعد۔
3۔ اجتماعی دعا: جو اکثر و بیشتر عبادتوں میں ثابت نہیں ہے، بالخصوص فرض نمازوں کے بعد۔
4۔ قبرستان کی زیارت کے وقت اجتماعی دعا۔
5۔ کسی مجلس کے اختتام پر اجتماعی دعا، جبکہ مجلس کے اختتام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص دعا ثابت ہے، جس پر اکثر مسلمانوں کا عمل نہیں ہے۔
* اس کے بر عکس خلیجی ممالک میں ان تمام اجتماعی عبادتوں کا کوئی تصور نہیں۔
* اللہ تعالی سے دعا ہیکہ وہ ہم مسلمانوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہر عبادت و بندگی کی ادائیگی کی توفیق بخشے۔ آمین ۔
 
Top