ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

صحابہ کرام ایسے تھے!!

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
بحیثیت مسلم ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ پتا چلے کہ صحابہ کرام کیسے تھے، ان کے اخلاق وکردار کیسے تھے، وہ زندگی کیسے گزارتے تھے، پھر ہم بھی اپنے آپ کو سیرتِ صحابہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اور ان کے منہج پر چلنے کی کوشش کریں-
قارئین کرام! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف وخصوصیات اور صفات بہت زیادہ ہیں ان میں سے چند اوصاف درج ذیل ہیں-
1) صحابہ کرام ایمان کے اعلی درجے پر تھے-
2) صحابہ کرام ہر مصیبت کو اللہ کے لیے برداشت کرتے تھے جزع فزع نہیں کرتے تھے-
3) وہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی ہر چیز قربان کر دیتے تھے-
4) وہ ایک دوسرے سے نیک کام میں سبقت کرتے تھے-
5) وہ اللہ کی عبادت دن و رات عبادت کرتے تھے نوافل کی خوب پابندی کرتے تھے-
6) وہ آپس میں مل جل کر رہتے تھے اختلاف نہیں کرتے تھے-
7) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دل وجان سے چاہتے تھے-
8) وہ دین کے داعی ومبلغ تھے-
9) وہ ہر باطل اور ہر فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے، وہ بہت بہادر تھے-
10) وہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیتے تھے-
11) وہ بہت مخلص تھے، وہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے تھے-
12) وہ بہت باادب اور بااخلاق تھے-
13) وہ اللہ کے دین کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتے تھے-
14) وہ کمزوروں اور بےبسوں کے کام آتے تھے، وہ اللہ کی مخلوق پر احسان کرتے تھے-
15) وہ بہت سادگی پسند اور متواضع تھے-
16) وہ آخرت سے بہت خوف کھاتے تھے-
17) وہ ایک سے زائد شادیاں کرتے تھے-
18) وہ سنت کے پابند تھے وہ بدعت سے سخت نفرت کرتے تھے اور ہمیشہ دلیل کی تلاش میں رہتے تھے یعنی وہ تقلید نہیں کرتے تھے-
19) وہ کتاب وسنت کے محافظ تھے اور دین کی تعلیمات کو دنیا کے چپے چپے میں پھیلانے والے تھے-
20) وہ ظالموں سے جہاد کرتے تھے-
21) وہ اپنوں پر بہت نرم تھے لیکن اہل کفر کے لیے فولاد تھے-
22) دین کی خاطر وہ اپنا گھر بار مکان زمین جائداد سب چھوڑ دیتے تھے جس کو اسلام ہجرت کے مقدس نام سے یاد کرتا ہے-
23) وہ بہت باغیرت اور خود دار تھے-
24) وہ والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا مکمل حق ادا کرتے تھے-
25) وہ اللہ کے اولیاء تھے-
26) وہ اپنے مفاد کے لیے نہیں دوسروں کو آرام پہچانے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتے تھے-
27) وہ نیکی کرکے بھی اللہ کے خوف سے رویا کرتے تھے-
28) جنت کی بشارت پانے کے بعد بھی وہ خوب جم کر نیکیاں کرتے تھے اور اللہ سے ڈرتے تھے-
اللہ ہم سب کو صحابہ کرام کے منہج پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top