ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

صحابہ کرام اور خدمتِ خلق

ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.........................................................
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اللہ کی مخلوق پر بہت مہربان تھے، وہ انسانوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرتے تھے، مجبوروں کمزوروں کے کام آتے تھے جسے دو لفظوں میں کہا جائے کہ وہ خدمت خلق میں پیش پیش رہتے تھے، آئیے چند نمونے ملاحظہ کرتے ہیں-
1) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بلال حبشی کو اللہ کے واسطے خرید کر آزاد کر دیا تاکہ وہ اپنے مالک امیہ بن خلف کے ظلم سے نجات پا جائیں-
2) عثمان غنی رضی اللہ عنہ مدینہ میں بئر رومہ کو یہودی سے خرید کر وقف کر دیا تاکہ تمام لوگ بآسانی پانی پی سکیں، کیونکہ وہ یہودی لوگوں کو پانی پینے سے منع کرتا تھا-
3) انصارِ مدینہ نے مہاجرین کے رہنے سہنے کھانے پینے اور کمانے کا ایسا انتظام کیا اور ایسی قربانی دی کہ انسانی تاریخ میں ویسی مثال دنیا دیکھ نہیں سکتی ہے-
4) ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل وعیال بھوکے سو گئے، اپنا کھانا مہمان کو کھلا دیا اور ایسی عجیب مہمان نوازی کی کہ دنیا اسے ہمیشہ یاد رکھے گی-
5) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک ننگی قوم آئی، وہ لوگ بہت غریب تھے، ان کے جسم کے کپڑے بہت بوسیدہ تھے بلکہ بعض کے تو آدھے کپڑے تھے، ان کے چہرے سے ہی غربت اور محتاجگی نمایاں ہو رہی تھی، جس وقت یہ لوگ مدینہ میں آئے تھے یہ عین دوپہر کا وقت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی کمزوری کو دیکھا تو بہت پریشان ہوگئے گھر کے اندر گئے پھر باہر نکلے آپ کے گھر میں ان کی مدد کا کچھ سامان نہیں تھا، بہرکیف آپ حیران وپریشان رہے اس کے بعد ظہر کی نماز پڑھائی پھر درس دیا، لوگوں کو انفاق فی سبیل اللہ پر زور دیا، آخرت کی یاد دلائی، پھر درس کے بعد سبھی لوگوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کیا یہاں تک کہ مسجد میں کھانے پینے پہننے کے دو ڈھیر جمع ہو گئے اور اس جمع شدہ مال کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوگئے (صحیح مسلم:2398)
6) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جب بکری ذبح کرتے تو اپنے خادم کو حکم دیتے کہ میرے فلاں یہودی پڑوسی کو بھی گوشت ھدیہ میں دے دینا پھر بعد میں دریافت کرتے کہ گوشت دیے تھے کہ نہیں؟ (ارواء الغلیل:للألباني:891/صحيح)
7) حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس کے اوپر قرض ہوتا تھا، بہرحال ایک جنازہ لایا گیا تو آپ نے پوچھا کہ کیا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! ان کے اوپر دو دینار ہے، تو آپ نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس موقع پر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم وہ دونوں دینار میرے اوپر ہے (میں ادا کر دوں گا) تب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم آگے بڑھے اور آپ نے جنازہ کی نماز پڑھائی (سنن ابوداؤد:3342/صحيح)
یہ تو کچھ نمونے ہیں اگر آپ صحابہ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ایسی دسیوں مثالیں دیکھ سکتے ہیں، لہٰذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بھی سماجی بنیں، لوگوں کے کام آئیں، مخلوق کی خدمت کریں، آپس میں مل جل کر رہیں، لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں، مفاد پرستی، چاپلوسی جیسی مذموم صفت سے بچیں، اور اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا"خَيْرُ النَّاسِ اَنْفَعُھُمْ لِلنَّاسِ"(صحيح الجامع الصغير:للالباني:3289-سلسلة الأحاديث الصحيحة:للالباني :426/حسن صحيح) سب سے بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو-
اللہ تعالٰی ہم سب کو نیک توفیق دے اور ہم سب کو نفع بخش بنائے آمین-
═════ ❁✿❁ ══════
 
Top