ذیشان خان

Administrator
آخری تشہد کی دعائیں اور احناف

مجھے لوگوں کے ذریعہ معلوم ہواکہ احناف کے یہاں آخری قعدہ میں دعا کے طور پرقرآن کی صرف یہ آیت پڑھى جاتی ہے :
رَبِّ اجْعَلْنِی مُقيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَا رَبَّنَا اغْفِرْلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابِ.(ابراہیم : 40، 41)۔
میں نے بہت تلاش کیا کہ یہ قرآنی آیت کسی حدیث میں مل جائے جو آخری قعدہ میں پڑھنا ہے مگر نہیں ملی ۔ فقہ حنفی کی کتاب فتاوی ہندیہ میں دوسری حنفی فقہ "تتارخانیہ" سے نقل کرکے لکھا ہے ۔
ویستحب أن یقول المصلي بعد ذکر الصلاة في آخر الصلاة: رب الجعلني مُقیمَ الصلاة ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفر لي ولوالدي وللموٴمنین یومَ یقومُ الحساب، کذا في التتارخانیہ ناقلاً عن الحجة (ہندیة: 1/76)
یعنی نمازی کے لئے مستحب ہے کہ وہ نماز کے آخر میں نماز کے ذکر کے بعد "رب الجعلني مُقیمَ الصلاة ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفر لي ولوالدي وللموٴمنین یومَ یقومُ الحساب" پڑھے ۔
اس فقہی قول کی بنیاد پہ احناف اپنی عوام کو آخری تشہد میں مذکورہ قرآنی دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے ہیں ۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ اور صحابہ کی نماز میں آخری قعدہ میں کون سی دعا ثابت ہے ؟ اس سے پہلے یہ جان لیں کہ آخری قعدہ میں پہلے التحیات پھر درود ابراہیمی پڑھنا ہے ۔ اس کے بعد مختلف دعائیں احادیث سے ثابت ہیں انہیں پڑھناہے ۔ چنانچہ بخاری ومسلم میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا:
علِّمْني الدعاءَ أدْعو به في صلاتي. قال: قل:" اللهمَّ إني ظلمتُ نفسي ظلمًا كثيرًا، ولا يغفرُ الذنوبَ إلا أنت، فاغفرْ لي مغفرةً من عندِك، وارحمْني، إنك أنت الغفورُ الرحيمُ .(صحيح البخاري:834)
ترجمہ: مجھے کوئی دعا سکھا دیں جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم کہو: " اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّك أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ"(یا اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم ڈھائے ہیں، اور گناہوں کو توں ہی بخشنے والا ہے، توں میرے گناہوں کو اپنی طرف سے معاف کردے، اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بخشنے والا، اور نہایت رحم کرنے والا ہے)۔
ایک دوسری حدیث میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا تشهد أحدُكم فليستعذْ باللهِ من أربعٍ . يقولُ : اللهم ! إني أعوذُ بك من عذابِ جهنمَ . ومن عذابِ القبرِ . ومن فتنةِ المحيا والمماتِ . ومن شرِّ فتنةِ المسيحِ الدجالِ (صحيح مسلم:588)
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے (بعض روایت میں ہے جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو) تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے، اور کہے:"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ"(یا اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، فتنہ زندگی و موت سے ، اور دجال کے فتنے سے)
اوپر تشہد کی دو دعائیں ہوگئیں ایک تیسری دعا مسلم شریف میں وارد ہے کہ نبی ﷺ سب سے آخر میں سلام اور تشہد کے درمیان یہ پڑھتے :
اللهمَّ ! اغفرْ لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ . وما أسررتُ وما أعلنتُ . وما أسرفتُ . وما أنت أعلمُ به مِنِّي . أنت المُقدِّمُ وأنت المُؤخِّرُ . لا إله إلا أنتَ(صحيح مسلم:771(
ترجمہ: اے اللہ ! میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو بخش دے اور میرے پوشیدہ و ظاہر گناہوں کو بھی بخش دے اور جو میں نے زیادتی کی اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اس کو بھی بخش دے ۔ تو ہی پہلے کرنے والا ،توہی پیچھے کرنے والا ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
مذکورہ احادیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ آخری تشہد میں چار چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے اور اپنے اصحاب کو اس کا حکم دیتے تھے اس لئے ہمیں بھی آخری تشہد میں التحیات ودرود کے بعد چار چیزوں سے اس طرح پناہ مانگنا چاہئے ۔
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ"(یا اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، فتنہ زندگی و موت سے ، اور دجال کے فتنے سے)
اس کے بعد دیگر دعائیں جو میں نے ذکر کی ہیں انہیں پڑھے ، ویسے ایک دعا کا پڑھنا بھی کفایت کرجائے گا۔ نیز ان دعاؤں کے بعد دیگر ماثورہ دعائیں بھی پڑھنے کا جواز ملتا ہے ۔چار چیزوں سے پناہ مانگنے والی روایت جو بخاری ومسلم کی ہے ، یہی روایت بیہقی اور سنن نسائی میں بھی ہے جس میں کچھ زیادتی ہے ۔ روایت دیکھیں :
چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا تشَهدَ أحدُكم فليتعوَّذْ باللَّهِ من أربعٍ ، مِن عذابِ جَهنَّمَ وعذابِ القبرِ وفتنةِ المَحيا والمماتِ ومن شرِّ المَسيحِ الدَّجَّالِ ، ثمَّ يَدعو لنفسِه بما بدا لَه(صحيح النسائي:1309)
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی تشہد بیٹھے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے، عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، زندگی و موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے، اسکے بعد اپنے لئے جو چاہے مانگ لے۔
ثمَّ يَدعو لنفسِه بما بدا لَه(اسکے بعد اپنے لئے جو چاہے مانگ لے) کی زیادتی صحیح سند سے ثابت ہے اس لئے قابل استدلال ہے ، اس کے علاوہ اور بھی روایات ملتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہم تشہد میں ماثورہ دعائیں پڑھ سکتے ہیں ۔ سب سے اوپر جو قرآنی دعا(رَبِّ اجْعَلْنِی مُقيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَا رَبَّنَا اغْفِرْلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابِ) وہ بھی پڑھ سکتے ہیں مگر احناف نے تشہداخیرکے لئے جو صرف یہی قرآنی دعا متعین کردیا ہے اور ان کے متبعین اسی پر تکیہ کئے ہوئے ہیں وہ نماز نبوی ﷺ کے اسوہ کے خلاف ہے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top