ذیشان خان

Administrator
آیتِ تطہیر میں مذکر کی ضمیریں کیوں استعمال کی گئی ہیں؟
===============

تحریر: محمد فھد حارث

دوست نے سوال کیا کہ اگر سورۃ الاحزاب کی آیتِ تطہیر کی اولین و حقیقی مصداق امہات المومنین ہیں تو پھر آیت تطہیر میں جمع مذکر کی ضمیریں یعنی عنکم اور یطھرکم کیوں استعمال کی گئی ہیں؟ ان ضمیروں کے سبب ہی اہل تشیع اس بات سے انکاری ہیں کہ یہ آیتیں ازواج النبیﷺ کے لیے اتری ہیں بلکہ وہ ان کو خاص آل علیؓ کے لیے مانتے ہیں کیونکہ اگر یہ آیتیں ازواج النبیﷺ کے لیے ہوتیں تو جمع مؤنث کی ضمیریں ہونی چاہیئے تھیں نا کہ جمع مذکر کی۔

اس سوال کے جواب کے لیے مناسب ہے کہ سورۃ الاحزاب کی ان آیات کا سیاق و سباق دیکھ لیتے ہیں۔ سورۃ الاحزاب آیت نمبر ۲۸ سے اللہ تعالیٰ نبیﷺ کی بیویوں کو یایہا النبی قل لا زواجک کے تحت خطاب کرتے ہیں جو کہ مونث کا صیغہ ہے اور پھر آیت نمبر ۲۹ تو شروع ہی امہات المومنین کو براہ راست مخاطب کرکے کرتے ہیں یعنی یا نساء النبی من یات منکن اور یہ خطاب آیت نمبر ۳۴ تک چلتا ہے جس کے درمیان میں آیت نمبر۳۳ کے ذیل میں یہ آیت یعنی انما یرید اللہ لیذھب نازل ہوتی ہے۔ گویا آیت نمبر۲۸ سے لے کر آیت نمبر ۳۴ تک ہر آیت میں نبیﷺ کی بیویوں کو خطاب کیا جارہا ہے یہاں تک کہ آیت نمبر ۳۳ جس میں انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت کے الفاظ آئے ہیں وہ بھی آدھی آیت ہے جبکہ یہ آیت یعنی آیت نمبر ۳۳ بھی امہات المومنین کو خطاب کرتے ہوئے وقرن فی بیو تکن سے شروع ہوتی ہے۔ گویا سورۃ الاحزاب کی مندرجہ ذیل آیات میں ایسا کوئی قرینہ پایا ہی نہیں جاتا کہ ان آیات کا مصداق امہات المومنین کے علاوہ اور کسی کو سمجھا جائے۔ آیات ملاحظہ ہوں:

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزۡوَٲجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ أُمَتِّعۡكُنَّ وَأُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحً۬ا جَمِيلاً۬ (٢٨) وَإِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡأَخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنَـٰتِ مِنكُنَّ أَجۡرًا عَظِيمً۬ا (٢٩) يَـٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ مَن يَأۡتِ مِنكُنَّ بِفَـٰحِشَةٍ۬ مُّبَيِّنَةٍ۬ يُضَـٰعَفۡ لَهَا ٱلۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ‌ۚ وَكَانَ ذَٲلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرً۬ا (٣٠) ۞ وَمَن يَقۡنُتۡ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتَعۡمَلۡ صَـٰلِحً۬ا نُّؤۡتِهَآ أَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَأَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقً۬ا ڪَرِيمً۬ا (٣١) يَـٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ لَسۡتُنَّ ڪَأَحَدٍ۬ مِّنَ ٱلنِّسَآءِۚ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِى فِى قَلۡبِهِۦ مَرَضٌ۬ وَقُلۡنَ قَوۡلاً۬ مَّعۡرُوفً۬ا (٣٢) وَقَرۡنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ وَأَقِمۡنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّڪَوٰةَ وَأَطِعۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۚ ۥۤ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذۡهِبَ عَنڪُمُ ٱلرِّجۡسَ أَهۡلَ ٱلۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيرً۬ا (٣٣) وَٱذۡڪُرۡنَ مَا يُتۡلَىٰ فِى بُيُوتِڪُنَّ مِنۡ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ وَٱلۡحِڪۡمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا (٣٤)

ترجمہ: اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش منظور ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر اچھی طرح سے رخصت کر دوں (۲۸) اور اگر تم الله اور اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہو تو الله نے تم میں سے نیک بختوں کے لیے بڑا اجر تیار کیا ہے (۲۹) اے نبی کی بیویو تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بدکاری کرے تو اسے دگنا عذاب دیا جائے گا اور یہ الله پر آسان ہے (۳۰) اور جو تم میں سے الله اور اس کےرسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک کام کرے گی تو ہم اسے اس کا دہرااجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کا رزق بھی تیار کر رکھا ہے (۳۱) اے نبی کی بیویو تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم الله سے ڈرتی ر ہو اور دبی زبان سے بات نہ کہو کیونکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ طمع کرے گا اور بات معقول کہو (۳۲) اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو اور نماز پڑھو اور زکواة دو اور الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو الله یہی چاہتا ہے کہ اے اس گھر والو تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوب پاک کرے (۳۳) اور تمہارے گھروں میں جو الله کی آیتیں اور حکمت کی باتیں پڑھی جاتیں ہیں انہیں یاد رکھو بیشک الله رازدان خبردار ہے (۳۴)

اس خطاب کے ذیل میں دو مرتبہ یا نساء النبی اور ایک بار قل لازواجک جبکہ کُل ستائیس بار مؤنث کی ضمیریں اور صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ اور صرف دو دفعہ جمع مذکر کی ضمیریں عنکم اور یطھرکم استعمال ہوئی ہیں۔ اب یہاں جو دو دفعہ جمع مذکر کی ضمیریں استعمال ہوئی ہیں تو بقول امام رازی والوجہ فی تذکیر الخطاب فی قولہ لیذھب عنکم و یطھرکم باعتبار لفظ االاھل یعنی اللہ تعالیٰ کے قول لیذھب عنکم و یطھرکم میں بصیغۂ تذکیر خطاب کی وجہ لفظ "اھل" ہے۔ عربی زبان کے قواعد سے شد بد رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ لفظ "اھل" مذکر ہے سو اس لفظ کی رعایت کے سبب خطاب میں مذکر کا صیغہ ہی لایا جائے گا۔ قرآن و حدیث اور کلامِ عرب میں جہاں جہاں اھل کا لفظ استعمال ہوا ہے خواہ وہ واحد ہو، مثنیٰ ہو، جمع ہو، مذکر ہو یا مونث وہاں ہمیشہ ضمیر جمع مذکر لائی گئی ہے۔ جیسے سورۃ ھود آیت نمبر ۷۳ میں جب فرشتے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ سے مخاطب ہوتے ہیں تو واحد مونث کا صیغہ اتعجبین من امر اللہ یعنی کیا تو اللہ کے حکم میں تعجب کرتی ہے، کا استعمال کرتے ہیں لیکن جیسے ہی اسی جملے میں اھل بیت کا لفظ آتا ہے تو فوراً ضمیر جمع مذکر کا استعمال نظر آتا ہے یعنی رحمۃ اللہ و برکاتہ علیکم اھل البیت:

قَالُوٓاْ أَتَعۡجَبِينَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِ‌ۖ رَحۡمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَـٰتُهُ ۥ عَلَيۡكُمۡ أَهۡلَ ٱلۡبَيۡتِ‌ۚ إِنَّهُ ۥ حَمِيدٌ۬ مَّجِيدٌ۬

انہوں نے کہا کیاتو الله کے حکم سے تعجب کرتی ہے تم پر اے گھر والو الله کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں بے شک وہ تعریف کیا ہوا بزرگ ہے (سورۃ ھود آیت ۷۳)

اسی طرح سے آپ سورۃ طہ آیت نمبر ۱۰ دیکھئے جہاں موسیٰ علیہ السلام اپنی بیوی سے مخاطب ہیں لیکن چونکہ آیت میں اھل کا لفظ آرہا ہے، اسی وجہ سے واحد مونث کے بجائے جمع مذکر کی ضمیر امکثوااستعمال ہورہی ہے:

إِذۡ رَءَا نَارً۬ا فَقَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّىٓ ءَانَسۡتُ نَارً۬ا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنۡہَا بِقَبَسٍ أَوۡ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدً۬ى

جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید کہ میں اس سے تمہارے پاس کوئی چنگاری لاؤں یا وہاں کوئی رہبر پاؤں(سورۃ طہ آیت ۱۰)

اسی بات کا اظہار تفسیر روح المعانی میں آیت تطہیر کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ محمود آلوسی کرتے ہیں کہ آیت تطہیر میں جمع مذکر کی ضمیر لفظ اھل کی رعایت کی وجہ سے وارد ہوئی ہے اور عرب ایسے مواقع پر کثرت کے ساتھ لفظ کی رعایت کرتے ہوئے مذکر کے صیغے استعمال کرتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ "اھل بیت" میں چونکہ نبیﷺ بھی شامل ہیں، اسی لیے تغلیباً مذکر کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔

پس اسی طرح آپ پورے قرآن میں جہاں جہاں لفظ اھل کا استعمال دیکھیں گے وہاں اس لفظ کی رعایت کے سبب جمع مذکر کی ضمیر کا استعمال ہی پائیں گے اور ایسا ہی کچھ آیت تطہیر میں بھی ہوا ہے۔ پھر خود نبیﷺ نے بھی اپنی بیویوں کو مخاطب کرتے ہوئے بعض دفعہ جمع مذکر کی ضمیر استعمال کی ہے جیسا کہ صحیح بخاری کتاب التفسیر میں روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے سیدہ زینب بنت جحشؓ سے شادی کی اور ان کو لے کر سیدہ عائشہؓ کے گھر تشریف لائے تو سیدہ عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا السلام علیکم اھل البیت ۔ اسی طرح صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ میں آتا ہےکہ نبیﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا ھل عندکم شیء یعنی تمہارے پاس کھانے کی کوئی شے ہے؟ اب دیکھئے کہ یہاں نبیﷺ سیدہ عائشہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے جمع مذکر کی ضمیر "کم" استعمال کررہے ہیں۔

اسی لیے اہل لغت کا ماننا ہے کہ کلامِ عرب میں اگر مخاطب صرف عورتیں ہوں تو اظہارِ عظمت و محبت کے لیے عموماً مذکر کے صیغے استعمال ہوتے ہیں جیسے صحیح بخاری کے باب کیف کان بدء الوحی کی روایت میں آتا ہے کہ جب نبیﷺ نے پہلی دفعہ غارِ حرا میں جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا تو گھر واپس آکر سیدہ خدیجہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا زملونی زملونی۔ یہاں بھی مونث کے لیے جمع مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ بعینہٖ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے جب صدقہ سے متعلق ازواج مطہرات کو ہدایات دیں تو فرمایا ھو علیھا صدقۃ و لکم ھدیۃ فکلوہ یعنی وہ چیز (بریرہ) پر صدقہ ہے اور تمہارے لیے ہدیہ ہے پس تم لوگ اسے کھاسکتے ہو۔ اب دیکھیے یہاں خاص آپﷺ اپنی ازواج کو مخاطب کررہے ہیں لیکن جمع مؤنث کی ضمیر کن کے بجائے جمع مذکر کی ضمیر کم استعمال کررہے ہیں۔

الغرض اس طرح کی ایک نہیں دسیوں مثالیں قرآن،حدیث اور کلامِ عرب سے پیش کی جاسکتی ہیں جہاں خواتین کو جمع مذکر کی ضمیر سے مخاطب کیا گیا ہے جیسا کہ آیت تطہیر میں پایا جاتا ہے۔ جب سورۃ الاحزاب کا ایک پورا رکوع ازواج النبیﷺ سے خطاب کرکے شروع کیا جارہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اچانک بیچ میں محض ایک آدھی آیت میں خطاب ان کے بجائے کسی اور جانب موڑ دیا جائے۔ اس آیت کا سیاق صاف بتاتا ہے کہ ان آیات کا مصداق صرف اور صرف ازواج النبیﷺ ہیں اور عنکم اور یطھرکم میں جمع مذکر کی ضمیر ان کی عظمت کے اظہار کے لیے لائی گئی ہیں۔
 
Top