ذیشان خان

Administrator
وہی تو ہر وقت اللّٰه کے قرب میں ہے

✨شیخ الاسلام ابن القیم رحمه الله فرماتے ہیں :

🕌 - نمازیوں کے پانچ مرتبے ہیں پہلا مرتبہ ان کا ہے جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جو نماز کے اوقات کو ضائع کرنے والے ، ناقص وضو کرنے والے ، نماز پڑھتے وقت اس کے ارکان و حدود کا خیال نا رکھنے والے ہیں

🕌 - دوسرا مرتبہ ان نمازیوں کا ہے جو نماز کے اوقات ، وضو ، ارکان اور نماز کی ظاہری حدود تو ٹھیک بجا لاتے ہیں مگر نماز میں مجاھدہ نفس نہیں کرتے اور نماز کو وسوسوں اور خیالات میں ضائع کرتے رہتے ہیں

🕌 - تیسرا مرتبہ ان نمازیوں کا ہے جو اپنی نمازوں کے اوقات ، ارکان و حدود کی پاسداری کے بعد نماز کے اندر مجاھدہ نفس میں مشغول رہتے ہیں کہ کہیں انکا دشمن شیطان انکی نمازوں سے چوری نا کرے اور ایسے وہ خیالات و وسوسوں کو دور کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ یہ نمازی اپنی نماز میں جھاد فی سبیل اللہ کر رہے ہیں

🕌 - چوتھا مرتبہ ان نمازیوں کا ہے جو مکمل طور پر نمازوں کے اوقات ، حدود ارکان کی پاسداری کرتے اور نمازوں میں اپنے دل کو نماز کے قیام کی تکمیل تک پہنچاتے ہیں تاکہ نماز کے ظاہر و باطن سے کچھ بھی ضائع نا ہو جائے ، اور وہ اپنی نمازوں میں مکمل بندگی سے ہوتے ہیں

🕌 - پانچواں اور آخری مرتبہ ان کا ہے جو چوتھے مرتبے والوں کی طرح ہی کرتے ہیں مگر ایک درجہ اور اوپر جاتے ہیں کہ وہ اپنے دل کو لے کر اللہ رب العزت کے سامنے ایسے حاضر ہو جاتے ہیں کہ جیسے وہ اسے دیکھ رہے ہوں کہ وہ اس کے سامنے کھڑے ہیں اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انکے اور رب کے درمیان پردے حائل نہیں ہیں ۔۔ اور وہ اپنے اپکو اللہ کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں۔۔ (ان تعبد الله کأنك تراه ، رواہ مسلم ، تو اللہ کی عبادت ایسے کر جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے)

👈 پہلے درجے والوں کی قیامت میں سزا ہے ، دوسرے کا محاسبہ کیا جائے گا ، تیسرے کی معافی ہے ، چوتھے والوں کو پورا اجر دیا جائے گا اور پانچویں تو وہ ہیں اللہ کے قرب میں رہتے ہیں اور انکی نمازیں انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتی ہیں-

📒 - [ الوابل الصیب من کلم الطیب: ٢٧]
 
Top