ذیشان خان

Administrator
عدل و انصاف ہی سے انسان زندگی کا لطف حاصل کرتا ہے ...

⚖ سیدنا ابو هریرة رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا :

”حَدٌّ يُعْمَلُ بِهِ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا.“

"زمین پر ایک حد کا نفاذ زمین پر رہنے والوں کے لئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔"

📘 (سنن ابن ماجه : ٢٥٣٨، حسَّنه الألباني)

🖊 مولانا عطاء اللہ ساجد حفظه الله اس حدیث کے تحت فوائد ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :

1️⃣ ’’حد‘‘ سے مراد خاص جرائم کی وہ سزائیں جو اللہ کی طرف سے مقرر کردی گئی ہیں، مثلا : چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، یا قتل کی سزا قصاص ہے۔ ان میں کمی بیشی جائز نہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے جرائم کی سزا "تعزیر" کہلاتی ہے، اس میں قاضی کی رائے کو دخل ہے، وہ جرم کی نوعیت کے مطابق مناسب سزا دے سکتا ہے۔

2️⃣ حدود و تعزیرات کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں اور اس جرم سے اجتناب کریں، اس لیے حدود کے نفاذ سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے، اور ملک میں انصاف اور امن ہر قسم کی برکات کا باعث ہے۔

3️⃣ برکات کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے جو عرب کے صحرائی علاقے میں بہت بڑی نعمت اور رحمت شمار ہوتی ہے۔

📘 (سنن ابن ماجه مترجم : ٥٨٠/٣)
 
Top