ذیشان خان

Administrator
قـرض کی ادائیگی میں ٹال مٹـول کرنا

فـرمانِ نبـوی ﷺ : " ( قرض ادا کرنے میں ) صاحبِ حیثیت (مالدار شخص ) کا ٹال مٹول کرنا ظـلم ہے."

📑~ |[ صحیح البخاری: ٢٢٨٧ ]|

🍁 علامہ ابن عثيمين رحمه اللّٰه اِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :

" بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جب ان سے قیمت یا اجرت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ کل لے لینا، پرسوں لے لینا. جب کہ ان کی الماری میں پیسہ موجود ہوتا ہے. لیکن شیطان ایسے لوگوں سے کھیلتا ہے. اور جب زیادہ دن گذر جاتے ہیں تو یہ ٹال مٹول کرنے والا شخص اس قیمت اور حق میں سے کچھ کم کر لیتا ہے یا پھر سرے سے دیتا ہی نہیں اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ زیادہ دن گذر جانے کی وجہ سے اسے کم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے. یا یہ کہ یہ قیمت یا حق اس سے ساقط ہوگئی ہے. یعنی اس کا ادا کرنا اب ضروری نہیں ہے. ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حق پورا کا پورا اس کے ذمہ باقی ہے چاہے وہ آج دے یا دس دن یا دس سال کے بعد ادا کرے."

📑 [ شرح رياض الصالحين: ٦/ ٣٠٤ ]
 
Top